’ناقابل یقین معجزہ‘: اس خاتون کی کہانی جو اپنی بہن کی بچہ دانی کی مدد سے ماں بنی

ایمی اور گریس بہنیں نومولود بچی ایمی کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنایمی اور گریس بہنیں نو مولود بچی ایمی کے ساتھ
    • مصنف, فرگس والش
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

شاید اسے 'معجزہ' ہی کہیں گے کہ دو بہنوں کی محبت نے ایک بچے کو دنیا میں آنے کا موقع دیا۔ یہ بچہ ایک بہن کی جانب سے دوسری بہن کو بچہ دانی عطیہ دینے کا نتیجہ ہے اور ایسا برطانیہ میں پہلی بار ہوا ہے۔

عطیہ شدہ رحم سے پیدا ہونے والی بچی کی والدہ 36 سالہ گریس ڈیوڈسن کا اپنا جنم ایک غیر فعال بچہ دانی کے ساتھ ہوا تھا۔ انھیں ان کی بہن نے سنہ 2023 میں اپنی بچہ دانی عطیہ کی جو کہ برطانیہ میں آج تک اس عضو کا واحد کامیاب ٹرانسپلانٹ ہے۔

دو سال بعد گریس نے گذشتہ فروری میں اپنے پہلے بچے کو جنم دیا اور اس نے اس بچی کا نام اپنی بہن کے نام پر ’ایمی‘ رکھا۔

ان کے لیے بچہ دانی کے ٹرانسپلانٹ اور پھر بچہ پیدا کرنے کا پورا تجربہ ’ناقابل یقین‘ رہا ہے۔

بچی کی والدہ گریس بتاتی ہیں کہ ’ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمارے ہاں بھی کبھی ایسا بھی ہو گا۔ یہ واقعی حیرت انگیز تھا۔‘

گریس اپنی بچی کو اپنی بہن کی گود میں دینے کی کوشش کر رہی ہیں جنھوں نے اپنی بچہ دانی انھیں عطیہ کی تھی
،تصویر کا کیپشنگریس اپنی بچی کو اپنی بہن کی گود میں دینے کی کوشش کر رہی ہیں جنھوں نے اپنی بچہ دانی انھیں عطیہ کی تھی

دوسرے بچے کی خواہش

اور اب گریس اور ان کے شوہر اینگس دونوں ہی ٹرانسپلانٹ شدہ بچہ دانی کے ساتھ دوسرے بچے کی پیدائش کی امید رکھتے ہیں۔

اگرچہ یہ جوڑا شروع میں گمنام رہنا چاہتا تھا لیکن آخر کار انھوں نے اپنی کہانی سنانے کا فیصلہ کیا۔

دنیا میں پہلی مرتبہ بچہ دانی ٹرانسپلانٹ کر کے ایک بچے کی پیدائش سویڈن میں 2014 میں ہوئی تھی جبکہ 2018 میں برازیل میں یہ معجزہ ممکن ہوا تھا۔

اس کے بعد سے امریکہ، چین، فرانس، جرمنی، انڈیا اور ترکی سمیت ایک درجن سے زائد ممالک میں اس طرح کے تقریباً 135 ٹرانسپلانٹس کیے جا چکے ہیں جن میں سے تقریباً 65 خواتین کے ہاں بچے پیدا ہوئے ہیں۔

’پہلی کِک محسوس کرنا ناقابل یقین تھا‘

گریس ایک نایاب عارضے کے ساتھ پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے مرض کو ایم آر کے ایچ سنڈروم کہا جاتا ہے، جس میں بچہ دانی موجود ہوتی ہے مگر اس کی نشوونما نہیں ہو پاتی۔

2018 میں گریس نے بی بی سی سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ان کی ماں انھیں اپنا بچہ دانی عطیہ کر سکتی ہیں تاکہ ان کے ہاں بھی بچے کی ولادت ہو سکے۔

لیکن بعد میں پتا چلا کہ ان دونوں کے بہت سے کوائف مطابقت نہیں رکھتے اس لیے یہ کام نہ ہو سکا۔

پھر سنہ 2019 میں بی بی سی نے گریس سے دوبارہ بات کی۔ اس وقت وہ اس بات پر غور کر رہی تھیں کہ آیا ان کی ایک بہن ایمی پرڈی انھیں اپنی بچہ دانی عطیہ کر سکتی ہیں۔ ایمی کے دو بچے تھے اور ان کے شوہر کو مزید بچوں کی خواہش نہیں تھی۔

ولادت کے وقت ایمی

،تصویر کا ذریعہWTUK

،تصویر کا کیپشنولادت کے وقت ایمی

ٹرانسپلانٹ سے پہلے دونوں بہنوں کی تھراپی کی گئی۔ گریس اور ان کے شوہر اینگس دونوں نے فرٹیلٹی ٹریٹمنٹ کروایا تھا اور درحقیقت اب بھی ان کے کچھ منجمد جنین موجود ہیں۔

گریس نے سروگیسی اور گود لینے جیسے دیگر آپشنز پر بھی غور کیا تھا لیکن اس کے لیے حاملہ ہونا اہم تھا۔

انھوں نے کہا: ’میں ہمیشہ سے ماں بننا چاہتی تھی۔ لیکن میں نے اس احساس کو برسوں تک دبایا کیونکہ اس کے بارے میں بات کرنا بہت تکلیف دہ تھا۔‘

اگرچہ بچہ دانی کا ٹرانسپلانٹ سنہ 2019 میں کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن کووڈ 19 کی عالمی وبا اور دوسرے کئی مسائل کی وجہ سے یہ سرجری کئی سال کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

بالآخر فروری سنہ 2023 میں یہ سرجری ہو پائی جو پورے 17 گھنٹے جاری رہی اور اس میں 30 ڈاکٹر شامل تھے۔

آکسفورڈ کے چرچل ہسپتال میں ٹرانسپلانٹ ٹیم کی قیادت کرنے والی سرجن ازابیل کوئروگا نے کہا کہ نازک طریقہ کار کے باوجود یہ ایک کامیاب آپریشن تھا۔

عطیہ کردہ بچہ دانی کو ہٹا دیا جائے گا

ایمی کہتی ہیں کہ انھیں بچہ دانی دینے سے کسی قسم کی کمی یا نقصان کا احساس نہیں ہوا کیونکہ ان کی بہن کو ہونے والے ’بہت زیادہ‘ فوری فوائد ان کی نگاہ میں تھے۔

گریس کو ٹرانسپلانٹ کے دو ہفتے بعد پہلی ماہواری ہوئی اور وہ اپنے پہلے آئی وی ایف کے دوران ہی حاملہ ہوگئیں۔

انھوں نے بتایا: 'یہ بہت خاص تھا۔ پہلی ’کِک‘ محسوس کرنا ناقابل یقین تھا۔‘

ان کی بیٹی کی پیدائش 27 فروری کو لندن کے کوئن شارلٹ ہسپتال میں سی سیکشن کے ذریعے ہوئی۔

اب یہ جوڑا دوسرے بچے کی امید کر رہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دوسرے بچے کی ولادت کے بعد ان کی بچہ دانی ہٹا دی جائے گی کیونکہ اس کے بعد گریس ان دواؤں کا استعمال ترک کر سکیں گی جو ان کے جسم کو عطیہ کردہ بچہ دانی مسترد کرنے سے روکنے کے لیے دی جا رہی ہیں۔

یہ دوا لینے سے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے تجویز کی جاتی ہے کہ حاملہ ہونے کے بعد عطیہ شدہ بچہ دانی کو ہٹا دیا جائے۔

گریس کے یہاں ایمی کی ولادت رواں سال فروری میں ہوئی

،تصویر کا ذریعہWTUK

،تصویر کا کیپشنگریس کے یہاں ایمی کی ولادت رواں سال فروری میں ہوئی

’میرے بہن کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امپیریل کالج ہیلتھ کیئر کے گائناکولوجسٹ اور سرجن پروفیسر رچرڈ سمتھ نے ٹرانسپلانٹ کرنے والی ٹیم کی قیادت کی تھی۔ وہ دو دہائیوں سے بچہ دانی کے ٹرانسپلانٹ پر تحقیق کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم ننھی ایمی کی پیدائش پر بہت پرجوش ہے۔ اس سے برطانیہ میں بچہ پیدا کرنے کی عمر کی 15,000 خواتین میں سے بہت سی خواتین میں ایسی امیدیں پیدا ہوں گی جن کے پاس فعال بچہ دانی نہیں ہے۔ 5,000 ایسی خواتین ہیں جو بچہ دانی کے بغیر پیدا ہوئی ہیں۔

سمتھ یو کے وومب ٹرانسپلانٹ کے نام سے ایک خیراتی ادارہ چلاتے ہیں جس نے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کو گریس کے ٹرانسپلانٹ آپریشن کے لیے مالی اعانت فراہم کی۔

خیال رہے کہ اس معاملے میں تمام طبی عملے نے بغیر کسی فیس کے اپنا وقت دیا تھا۔

سمتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً 10 خواتین نے جنین کو محفوظ کر رکھا ہے یا ان کا فرٹیلیٹی ٹریٹمنٹ جاری ہے۔ یہ بچہ دانی کے ٹرانسپلانٹ پر غور کرنے کے لیے ضروری شرط ہے۔

ہر ٹرانسپلانٹ پر تقریباً 35,000 امریکی ڈالر لاگت آتی ہے اور اس خیراتی ادارے کے پاس ایسے دو اور ٹرانسٹپلانٹ کرنے کے لیے کافی فنڈز ہیں۔

سرجری کرنے والی ٹیم کو کلینیکل ٹرائل کے حصے کے طور پر 15 بچہ دانیوں کی پیوند کاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے: پانچ زندہ عطیہ دہندگان کے ساتھ اور 10 مردہ افراد کے عطیہ دہندگان کے ساتھ۔

ان تین خواتین کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں جنھوں نے اب تک مردہ ڈونرز سے رحم حاصل کیا ہے۔

برطانیہ کی نیشنل بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ سروس نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے نادر عطیات کے لیے خاندانوں سے اضافی رضامندی طلب کی جاتی ہے۔

بیبی ایمی کے والد اینگس کا کہنا ہے کہ وہ اور گریس کبھی بھی اپنی بیوی کی بہن کے احسانوں کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے کہ جنھوں نے انھیں والدین بننے کی خوشی سے نوازا۔

اینگس کا کہنا ہے کہ ایمی کا نام اس کی خالہ کے نام پر رکھنا ایک واضح فیصلہ تھا۔

بچے کا درمیانی نام ازابیل ہے جو کہ ان کی اس سرجن کے اعزاز میں ہے جس نے رحم کی پیوند کاری کی ٹیم کی قیادت کی۔

گریس کے لیے ایمی کی ولادت انھیں اپنی بہن کے اور بھی قریب لے آئی ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس کا میرے لیے ایسا کرنا ناقابل یقین حد تک مشکل تھا۔ لیکن اس نے مجھے بچہ دانی عطیہ دی اور مجھے بچہ پیدا کرنے کے معجزے سے نوازا۔‘