آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چمن سرحد پر فائرنگ میں ہلاک ہونے والے دو سگے بھائی’ کام میں بھی اکھٹے تھے اوردنیا سے گئے تو بھی اکھٹے چلے گئے‘
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں افغانستان سے گولہ باری سے کئی خاندان اپنے پیاروں کو کھونے کے باعث غم سے دوچار ہوئے لیکن ان میں نذر علی کے خاندان کا غم سب سے زیادہ ہے کیونکہ اس نے ان کے دو سگے بھائیوں کو ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا کردیا۔
نذرعلی نے بتایا کہ جب سرحد پر حالات خراب ہونے کے آثار دکھائی دیئے تو ہم سب نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی تاکہ ہم کسی محفوظ مقام تک پہنچ سکیں۔
’میرے دوبھائی نعمت اللہ اور عصمت اللہ جان بچانے گھر یا کسی اور محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے نکلے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا کیونکہ نکلنے کے بعد کچھ فاصلے پر گرنے والے گولے کی زد میں آنے سے جائے وقوعہ ہی پر ان کی موت واقع ہوئی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے یہ دونوں بھائی کام میں زیادہ تر اکھٹے ہوتے تھے اور اس دنیا سے گئے تو بھی اکھٹے چلے گئے‘۔
ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کے بڑے بھائی عصمت اللہ نے بتایا کہ ان کا خاندان جس ناگہانی سانحہ سے دوچار ہوا ہے اس کے غم اور دکھ کا اظہار الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
چمن کے سرحدی علاقے میں اتوار کو پاکستانی اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جو جھڑپیں ہوئی تھیں اس میں چمن شہر کے قریب چھ سے سات گولے گرے تھے جن میں فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق کم ازکم 6 افراد ہلاک اور 17زخمی ہوئے تھے ۔
گولہ باری سے ہلاک ہونے والے دونوں سگے بھائی کون تھے؟
نعمت اللہ اور عبیداللہ افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے رہائشی تھے ۔
نذرعلی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ 8 بھائیوں میں عبیداللہ اور نعمت اللہ چھوٹے تھے۔ ان میں عبیداللہ کی عمر 16سے17سال کے درمیان تھی اور وہ غیر شادی شدہ تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بتایا کہ نعمت اللہ عمر میں عبیداللہ سے کچھ بڑے تھے۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کے دو کمسن بچے ہیں۔
چمن سرحد پرکاروبار سے وابستہ غوث اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نعمت اللہ کے ساتھ ان کا یارانہ تھا اور وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ کمانے کے لیے گھوڑا گاڑی چلاتا تھا جبکہ ان کا بھائی بارڈر روڈ پر گودام میں ہوتا تھا۔
’ہمیشہ کے لیے بچھڑنے والے دونوں بھائی ہم سے پہلے نکلے‘
نذرعلی نے بتایا کہ اتوار کو جب سرحد پر حالات کشیدہ ہوگئے تو سب نے حالات کو بھانپ لیا اور ہر ایک کی کوشش تھی کہ اپنی دکان یا کام بند کرکے محفوظ مقام کی جانب نکلے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں خود بھی بارڈر روڈ پر اپنے گودام پر بھائیوں کے ساتھ تھا۔ ہم نے بھی اپنا گودام اور کام وغیرہ چھوڑ کرنکلنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا نعمت اللہ اور عبیداللہ کو ہم نے ایک موٹر سائیکل پر پہلے ہی روانہ کردیا اور ہم ان کے بعد وہاں سے نکلے ۔
’وہاں لوگوں کے پاس جلد سے جلد نکلنے اور کسی محفوظ مقام تک پہنچنے کا ذریعہ موٹر سائیکل ہی تھے۔ اس لیے بارڈر روڈ سے زیادہ تر لوگوں نے موٹر سائیکلوں پر نکلنے کی کوشش کی ‘۔
نذرعلی نے بتایا کہ میرے دونوں بھائی کچھ فاصلے پر ہی پہنچے تھے کہ بارڈر روڈ پر ایک گولہ ان کے قریب گرگیا جس میں دونوں جائے وقوعہ ہی پر ہلاک ہوئے ۔
ان کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے دونوں بھائی زیادہ تر کام پر اکھٹے جاتے تھے لیکن جس دن دنیا سے گئے تو بھی اکھٹے ہی گئے ۔
’دعا ہے کہ کوئی اور اس طرح کے غم سے دوچار نہ ہو‘
ہلاک ہونے والے بھائیوں کے بڑے بھائی عصمت اللہ ،ایک ساتھ دو بھائیوں کے بچھڑ جانے کے غم سے نڈھال ہونے کی وجہ سے زیادہ بات نہیں کرسکے تاہم ان کا کہنا تھا کہ دو چھوٹے بھائیوں کا اس طرح جانے کا صدمہ بہت بڑا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے دونوں بھائی نوجوان تھے اور ان میں عبیداللہ کی عمر تو بہت کم تھی۔
انہوں نے کہاکہ ’دونوجوان بھائیوں کی ناگہانی موت کا جو غم ہے اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جن لوگوں کی وجہ سے ہم جس کرب سے گزررہے ہیں ان کو ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ بس ہم دعا کرسکتے ہیں کہ پھر اس طرح کا کوئی اورواقعہ رونما نہ ہو تاکہ دوسرے لوگ ہماری طرح اس طرح کے غم سے دوچار نہ ہو ں ۔
’بارڈر پر کام کرنا اب مشکل ہے ‘
بی بی سی بات کرتے ہوئے غوث اللہ نے جہاں اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی ہلاکت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا وہاں انہوں نے کہا کہ سرحد پر لوگوں کے لیے روزی روٹی کمانا اب بہت مشکل ہوگیا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ چمن اوراس کے نواحی علاقوں میں نہ کوئی صنعت ہے اور نہ ہی کوئی اورکاروبارہے جس کے باعث یہاں ہزاروں خاندانوں کا معاش سرحد سے جڑے کاروبار سے وابستہ ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ خاردار تار لگنے کے بعد یہاں اب لوگوں کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے کیونکہ ان کے بقول جہاں سرحد پر کشیدگی کا خطرہ ہے وہاں روزانہ اجرت کے لیے جانے والوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا جاتا ہے ۔
غوث اللہ نے کہا کہ چمن میں سرحد کے آرپار نہ صرف ایک ہی قبیلے کے افراد رہتے ہیں بلکہ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروبار تو اب دور کی بات ہے خاردار تار کی وجہ سے اب رشتہ داروں کے لیے ملنا بھی ایک مشکل بن گیا ۔
چمن شہر کے قریب کتنے گولے گرے ؟
پاکستا نی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے فائر کیئے جانے والے چھ سے سات گولے چمن شہر کے قریب مال روڈ، نیٹو مارکیٹ اور گلدارباغیچہ کے علاقوں میں گرگئے ۔
ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان میں سے تین گولے پولیس کے زیر انتظام علاقے میں گرگئے جن میں سے ایک گولہ پھٹ گیا جبکہ دو نہیں پھٹے ۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سرحد پر لگی خاردارتار کو کاٹنا اور اسمگلنگ ایک معمول بن گیا ہے لیکن تحریک طالبان افغانستان نے غیر معمولی طور پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کو دھمکایا اور جان بوجھ کر خاردار تار کو نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
اہلکار نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں طالبان فورسز کا بھاری جانی نقصان ہوا ۔
چمن کے سرحدی علاقے میں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا اس کے مطابق افغان سیکورٹی فورسز کی جانب سے چمن میں عام آبادی پر بلا اشتعال اور بلاامتیاز بھاری اسلحہ بشمول آرٹلری اور مارٹر گولے فائر کیئے گئے جس میں چھ شہری ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحدی فورسز نے عام شہری آبادیوں کا خیال رکھتے ہوئے اس جارحیت کا موثر جواب دیا ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی حکام نے کابل میں اس سلسلے میں افغان حکام سے رابطہ کیا ہے اور اس کی سنگینی سے ان کو آگاہ کرتے ہوئے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
اگرچہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس واقعے کا ذمہ دار افغانستان کے سیکورٹی فورسز کو ٹھرایا گیا ہے لیکن رابطے میں مشکلات کے باعث اس سلسلے میں افغان حکام کا موقف نہیں لیا جاسکا۔