’اگر آپ میں ایمانداری ہے تو۔۔۔‘ چینی صدر کا سخت لہجے میں کینیڈین وزیر اعظم پر گفتگو لیک کرنے کا الزام

،تصویر کا ذریعہReuters
بالی میں جی 20 اجلاس کی ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں چین کے صدر شی جن پنگ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو پر ملاقات اور بات چیت کی تفصیلات لیک کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔
چین کے صدر اپنے مترجم کے ذریعے جسٹن ٹروڈو سے کہتے ہیں کہ ’یہ نامناسب تھا۔‘ پھر وہ مزید سخت لہجے میں کہتے ہیں کہ ’اگر آپ میں ایمانداری ہے تو۔۔۔‘ ایسا نہ کیا گیا ہوتا۔
چینی صدر اُن اطلاعات کے پس منظر میں بات کر رہے تھے جن کے مطابق کینیڈا کے وزیر اعظم نے ملک کے انتخابات میں مبینہ چینی جاسوسی اور مداخلت پر گفتگو کی تھی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی برس بعد بند کمرے میں ہونے والی یہ گفتگو لیک ہوگئی تھی۔
یہ ویڈیو جی 20 اجلاس کے دوران موجود صحافیوں نے بنائی جس میں صدر شی اور وزیر اعظم ٹروڈو کو ایک دوسرے سے بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنما ایک دوسرے کے پاس ہی کھڑے ہیں اور ایک مترجم کے ذریعے بات چیت کر رہے ہیں۔
شی نے چینی زبان میں ٹروڈو کو بتایا کہ ’ہماری تمام بات چیت اخباروں کو لیک کر دی گئی اور یہ مناسب نہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
یہ ایک ایسا نایاب لمحہ ہے جس میں صدر شی کو سخت لہجہ اپناتے سنا جا سکتا ہے۔ ان کی شخصیت کو بڑی احتیاط سے چینی سرکاری میڈیا پر ظاہر کیا جاتا ہے۔
چینی صدر کی بات سننے اور سر ہلانے کے بعد کینیڈین وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ’کینیڈا میں ہم آزاد انداز میں اور کھل کر بحث کرتے ہیں اور ہم یہی (رویہ) جاری رکھیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایک ساتھ تعمیری انداز میں کام جاری رکھیں گے لیکن ایسی چیزیں رہیں گی جس پر ہمارا اختلاف رہے گا۔‘
تاہم اس سے پہلے کہ ٹروڈو اپنی بات ختم کرتے، صدر شی نے اُن کی بات کاٹی اور کہا کہ ’آئیے پہلے شرائط بناتے ہیں۔‘ انھوں نے ٹروڈو سے ہاتھ ملایا اور چل دیے۔
یہ مختصر مگر معنی خیز گفتگو کینیڈا اور چین کے درمیان جاری تناؤ کی نشاندہی کے لیے کافی ہے۔
سنہ 2018 میں چینی کمپنی ہواوے کی اعلیٰ عہدیدار کو کینیڈا میں زیر حراست رکھا گیا جس کے بعد بیجنگ نے دو کینیڈین شہریوں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا۔ تینوں کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا تھا۔
اس کے بعد ہائیڈرو کیوبک کے ایک چینی ملازم کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ کینیڈا کی پولیس نے کہا کہ مسٹر وانگ نے ’تجارتی راز حاصل کیے تاکہ چین کو فائدہ پہنچا سکیں اور کینیڈا کے معاشی مفاد کو نقصان پہنچا سکیں۔‘
اسی وقت ٹروڈو اور صدر شی جی 20 اجلاس میں انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں موجود تھے۔











