جی 20 اجلاس: بائیڈن اور شی جن پنگ کی ملاقات سے کیا امیدیں وابستہ ہیں؟

شی جن پنگ اور جو بائیڈن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, کیرتی دوبے
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی

جو بائیڈن بطور امریکی صدر انڈونیشیا کے شہر بالی میں پیر کو پہلی بار چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

یہ دونوں رہنما ایک ایسے وقت میں ملاقات کر رہے ہیں جب تائیوان، تجارت اور روس کے حوالے سے دونوں ممالک کے تعلقات تلخی کے دور سے گزر رہے ہیں۔

جی 20 گروپ لیڈر کانفرنس میں یہ دونوں رہنما 11 سال بعد آمنے سامنے ہوں گے۔

ان دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو اہم اور دلچسپ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حال ہی میں تائیوان میں امریکہ کی کھلی حمایت کے دوران چین نے تائیوان کے قریب فوجی مشقوں کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ نے چین کے لیے کئی جدید ٹیکنالوجی چپس کی برآمد بھی روک دی کیونکہ امریکہ کو شک تھا کہ چینی فوج ان چپس کے ذریعے نئے جدید نظام تیار کر رہی ہے۔

آج ہونے والی یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب شی جن پنگ چین میں تیسری بار سپریم لیڈر منتخب ہوئے ہیں۔ 

ایسے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سربراہی اجلاس اس بات کا مظہر ثابت ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات کس طرح کے ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین جین پیئر نے ایک بیان میں کہا: 'دونوں رہنما مذاکرات کو برقرار رکھنے اور ان میں گہرائی پیدا کرنے کی کوششوں پر بات کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی ذمہ دارانہ طریقے سے دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ جاری رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات، بطور خاص بین الاقوامی چیلنجز پر ایک ساتھ کام کرنے کے بارے میں بات کریں گے۔'

شی جن پنگ اور جو بائيڈن

دونوں رہنماؤں کی برسوں بعد ہونے والی ملاقات کیسے ہوگی؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بالی میں جی 20 ممالک کے سربراہی اجلاس سے قبل امریکہ اور چین کی یہ ملاقات سرد جنگ کے دوران ہونے والی ملاقات جیسا احساس دلا رہی ہے۔

اس ملاقات کا مقصد تنازع کو کم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنا ہوگا۔

کنگز کالج لندن میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہرش پنت کا کہنا ہے کہ ’یہ ملاقات کوئی ڈرامائی تبدیلی لانے والی نہیں ہے، دو اقتصادی سپر پاورز ملاقات کر رہے ہیں جن کے درمیان سرد جنگ 2.0 جیسی صورتحال ہے۔‘

پنت کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی بات کریں گے اور سرخ لکیر کھینچیں گے اور یہ سمجھنا چاہیں گے کہ شی جن پنگ ان چیزوں پر کیا سوچتے ہیں۔

دہلی کے فور سکول آف مینجمنٹ میں چین کے امور کے ماہر ڈاکٹر فیصل احمد کا خیال ہے کہ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔

ڈاکٹر فیصل احمد کہتے ہیں: ’تائیوان کے بارے میں امریکہ اپنا موقف تبدیل نہیں کرنے والا ہے، لیکن اب امریکہ کوئی ایسی نئی بات نہیں کرے گا جس سے چین اور اس کے درمیان کسی قسم کی کشیدگی بڑھے۔ امریکہ چین کے ساتھ تعلقات میں آنے والی تلخی کو کم کرنا چاہتا ہے۔‘

شی جن پنگ تیسری بار چین کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ میں بھی وسط مدتی انتخابات ہو چکے ہیں۔ اب دونوں رہنما سٹریٹجک اہمیت کے مسائل پر آرام سے بات کر سکتے ہیں۔

تائیوان کے علاوہ تجارت، ٹیکنالوجی، میری ٹائم سکیورٹی وغیرہ پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

ہرش پنت کا خیال ہے کہ اس ملاقات سے کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

شی جن پنگ

جب بائیڈن سنہ 2011 میں جن پنگ سے ملے تھے

اگست سنہ 2011 میں جو بائیڈن نے اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ میں نائب صدر رہتے ہوئے چھ دن کے لیے چین کا دورہ کیا تھا جس میں انھوں نے شی جن پنگ سے پانچ بار ملاقاتیں کی تھیں۔

جاپان سے شائع ہونے والے اخبار نکی ایشیا نے لکھا ہے کہ شی جن پنگ نے بائیڈن کے دورے کے چھ ماہ بعد ہی امریکہ کا دورہ کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں انھوں نے بائیڈن سے ملاقات کی اور اس کے بعد بائیڈن انھیں اس وقت کے صدر سے ملاقات کے لیے اوول آفس لے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ اخلاقی نوعیت کی ملاقات 85 منٹ تک جاری رہی، صدر اور نائب صدر کے مہمان کے درمیان یہ غیر معمولی طور پر طویل ملاقات تھی۔

ان ایک دہائی میں دونوں ملکوں اور لیڈروں کے تعلقات نے کروٹ لی ہے۔

ہرش پنت کہتے ہیں کہ ’جب بائیڈن نائب صدر تھے، امریکہ اور چین کے تعلقات آج کے مقابلے میں بہت بہتر حالت میں تھے۔ آج دونوں ممالک کے تعلقات اپنی کم ترین سطح پر ہیں۔‘

شی جن پنگ اور جو بائیڈن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روس اور چین کی قربت

ہرش پنت مزید استدلال کے ساتھ کہتے ہیں کہ تعلقات اتنی کم سطح پر آ گئے ہیں کہ ’بائیڈن نے حالیہ دنوں میں چین کے خلاف زیادہ سخت موقف ظاہر کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اور ٹیکنالوجی چپس کی برآمد پر بھی پابندی لگا دی۔

’یہاں تک کہ امریکی یونیورسٹیوں کے کچھ کورسز میں چینی طلبہ کے داخلے کے لیے بھی نئے قوانین لائے گئے۔‘

پنت کا خیال ہے کہ 11 برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات پوری طرح سے بدل چکے ہیں۔

جرمن چانسلر اولاف شولز رواں ماہ ہی چین کے دورے پر تھے۔ اس دوران چینی صدر شی جن پنگ نے شولز سے کہا کہ چین ’جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کی دھمکی‘ کی مخالفت کرتا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی پر چین کے اس بیان پر کافی بحث ہوئی۔

ہرش پنت کا کہنا ہے کہ ’زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ چین جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف بیان دے لیکن آنے والے دنوں میں روس اور چین کے تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی ہے بلکہ ان کے رشتے کے مزید گہرے ہونے کی امید ہے۔‘

ٹرمپ اور شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تجارتی جنگ کا نفع نقصان

فیصل احمد کا کہنا ہے کہ ’تجارتی جنگ میں امریکہ کو معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے، اور رواں سال اکتوبر میں سامنے آنے والی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ کو تجارت میں 5.7 فیصد کا نقصان ہوا ہے۔ امریکہ اب سمجھ چکا ہے کہ چین کو الگ کر کے معاشی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

'چین کا ویلیو چین (یا سپلائی کا سلسلہ) اتنا مضبوط ہے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے بھی چین سے مکمل طور پر نکلنا آسان نہیں، اگر کوئی کمپنی چین سے نکلتی ہے تو اسے اپنی ویلیو چین کو دو سے تین ممالک میں پھیلانا پڑے گا، لہذا قیمت کے لحاظ سے یہ کمپنیوں کے لیے منافع بخش سودا نہیں ہے۔‘

حال ہی میں، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ ’امریکہ کو چاہیے کہ وہ ون چائنا اصول کو مسترد کرنے اور اسے کھوکھلا کرنے کی کوشش بند کرے۔‘

ڈاکٹر احمد کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ امریکہ اب چین کی ’ون چائنا پالیسی‘ کو قبول کرتا ہے یا نہیں کیونکہ سنہ 1978 میں خود امریکہ نے ’ون چائنا پالیسی‘ کو تسلیم کیا تھا لیکن ٹرمپ اور بائیڈن انتظامیہ کا تائیوان کے بارے میں جس طرح کا رویہ ہے اس نے اس یقین پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔۔

اگرچہ ماہرین کا خیال ہے کہ ان دونوں رہنماؤں کی حالیہ ملاقات سے کچھ بڑا حاصل نہیں ہونے والا ہے تاہم دونوں ممالک کے رہنما تعلقات کو موجودہ صورتحال سے تھوڑا بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔