یورپ کی فضاؤں میں منڈلاتے ’پراسرار ڈرون‘ جن کے خلاف ہزاروں کلومیٹر طویل ’دفاعی دیوار‘ بنائی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, سکیورٹی نامہ نگار
سب سے پہلے ایک وارننگ آتی ہے۔ ایک آواز جو کہتی ہے آپ کی توجہ درکار ہے۔ ’شہر میں سائرن بج رہا ہے۔ دوسری منزل پر واقع پناہ گاہ میں جائیں۔‘
پھر کسی مکھی جیسی بھنبھناہٹ ہوتی ہے جو بادلوں کے اوپر سینکڑوں روسی ڈرونز کی آمد کی نشانی ہوتی ہے۔
اس کے بعد اینٹی ایئر کرافٹ گنز کی گرج سنائی دیتی ہے، دور سے دھماکوں کی آوازیں اور پھر ایمبولنس اور آگ بھجانے والی گاڑیوں کی آوازیں۔ یہ یوکرین کے دارلحکومت کیو سمیت مختلف شہروں کی دردناک حقیقت ہے جس کے پیچھے وہ حملہ آور ڈرون ہیں جو گرتے ہی پھٹ جاتے ہیں۔
اب اس طرح کے ڈرون جدید جنگ کا حصہ ہیں لیکن یہ میدان جنگ تک محدود نہیں رہے۔
یوکرین سے دور مغربی یورپ میں فضائی اڈوں، عسکری اڈوں اور پاور پلانٹس کے ارد گرد ایسے ہی غیر مسلح ڈرون گھومتے ہوئے دیکھے گئے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ روس کی ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہیں۔ چند لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کا مقصد ان نیٹو ممالک کو آزمانا ہے جو یوکرین کی مدد کر رہے ہیں۔
بیلجیئم، ڈنمارک اور پولینڈ سمیت یورپ بھر میں حال ہی میں دکھائی دینے والے ڈرونز نے نیٹو ممالک میں خوف کو جنم دیا ہے۔ اب ایک ایسی دیوار کی بات ہو رہی ہے جو یورپ کو ان سے محفوظ بنا سکے لیکن کیا اس کی واقعی ضرورت ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
یورپ کے خدشات
نو ستمبر کو تقریبا 20 ڈرون یوکرین کی فضا سے ہوتے ہوئے پولیںڈ پہنچے جہاں چار ہوائی اڈوں کو بند کرنا پڑا۔ نیٹو کے لڑاکا طیارے اڑے اور متعدد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ جو بچے وہ مختلف مقامات پر خود ہی گر کر تباہ ہو گئے۔
یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ نیٹو کی فضائی حدود کی سب سے بڑی اور سنگین خلاف ورزی کا واقعہ تھا۔ اور اسی لیے ڈرون کے خلاف حفاظتی دیوار پر بحث زیادہ بڑھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیٹجا بیگو چیٹھم ہاوس تھنک ٹینک میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کی وجہ یہی دراندازی ہے۔ یاد رہے کہ ڈرونز نے پہلے ہی میدان جنگ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
مشرقی یوکرین میں چھوٹے اور کم رینج والے ڈرون، جو 10 انچ تک کے ہوتے ہیں، دھماکہ خیز مواد کے ساتھ اڑتے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ یورپ کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ یورپ کی پریشانی کی وجہ وہ بڑے ڈرون ہیں جو ایک ہزار کلومیٹر تک اڑ سکتے ہیں۔

ماضی میں روس نے ایرانی شاہد ڈرون کا استعمال کیا تھا لیکن اب یہ ’جیران ٹو‘ نامی اپنا ڈرون بنا رہا ہے اور یہی قسم پولینڈ میں دیکھی گئی تھی۔ اب کچھ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر روس نے ایک ہی دن میں 200 یا 2000 ڈرون بھیج دیے تو کیا ہو گا؟ نیٹو کا جواب کیا ہو گا اور کیا وہ جواب دے بھی پائے گا یا نہیں؟ آخرکار لڑاکا طیاروں کو ایسی ہر صورت حال میں استعمال کرنا سستا تو نہیں ہوتا۔
آندرے روگاچیسکی نیٹکمپنی نامی آئی ٹی سروس کمپنی کے سی ای او ہیں جو یورپی ممالک کے لیے ڈیجیٹل سکیورٹی سسٹم تیار کرتی ہے۔ ڈرون کے خلاف لڑاکا طیاروں کے استعمال پر ان کا کہنا ہے کہ ’یہ موثر نہیں ہے اور نا ہی ٹیکس دینے والے کے پیسے کا دانشمندانہ استعمال۔‘
پراسرار ڈرونز کی وبا
یوکرین نے بھی روسی ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کے خلاف طویل فاصلے والے ڈرون حملے کیے ہیں جن میں پیٹرو کیمیکل پلانٹس شامل ہیں۔ یوں یوکرین نے بھی جنگ کا میدان عام روسی شہری کے قریب لانے کی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب سمندری ڈرون ہیں جو بنا کسی عملے کے سطح سمندر کے اوپر یا نیچے رہتے ہوئے روسی بیڑے کو تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
تاہم اس پوری جنگ میں کچھ ایسے ڈرون بھی استعمال ہو رہے ہیں جو قابل شناخت نہیں۔ اور یہی پراسرار، گمنام ڈرونز کی وبا ہے۔
کبھی رات کے اندھیرے میں یہ اچانک یورپ کے ہوائی اڈوں پر نمودار ہوتے ہیں جیسا کہ رواں ماہ کے آغاز میں بیلجیئم کے مرکزی ہوائی اڈے پر ہوا۔
ایسے ہی واقعات ڈنمارک، ناروے، سویڈن، جرمنی اور لتھوینیا میں بھی ہوئے ہیں۔ مغربی یورپ میں نظر آنے والے یہ سولین ڈرون مسلح نہیں تھے لیکن کیوں کہ یہ ناقابل شناخت ہیں اس لیے یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ یہ کہاں سے آئے یا انھیں کس نے بھیجا۔ یہ بھی جاننا مشکل ہوتا ہے کہ کیا انھیں قریب سے گزرنے والے بحری جہازوں سے اڑایا جا رہا ہے۔
مغربی انٹیلیجنس حکام کو روس پر ہی شک ہے لیکن کریملن نے کسی قسم کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔
واضح رہے کہ بیلجیئم ایک اہم ہدف ہے کیوں کہ یہاں نیٹو، یورپی یونین اور یورو کلیئر کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے جو کھربوں ڈالر میں ہونے والے عالمی لین دین کا معاشی کلیئرنگ ہاوس ہے۔
یورپ میں اس وقت بحث ہو رہی ہے کہ کیا بیلجیئم میں موجود 200 ارب پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے منجمند روسی اثاثوں کو یوکرین کی مدد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ تو کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایسے وقت میں برسلز اور لیج کے ہوائی اڈوں سمیت ایک فوجی اڈے پر پراسرار ڈرون پہنچ گئے؟
برطانیہ نے ایک خصوصی دستہ بیلجیئم کی دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے بھیجا ہے جو ڈرون کے خلاف مہارت رکھتا ہے۔ تاہم یہ پراسرار ڈرون پریشان کن ہیں کیوں کہ ایک تو یہ طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران خطرہ ہیں لیکن جاسوسی بھی کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ڈرون کے خلاف دیوار
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یورپ کا ردعمل ایک ’ڈرون دیوار‘ بنانے کا منصوبہ ہے جو شمال سے جنوب تک ریڈار، سنسرز، جیمنگ اور اسلحہ نظام کی مدد سے آنے والے ڈرون کا پتہ چلائے گی اور انھیں تباہ کر دے گی۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے کہا ہے کہ ’یہ نظام 2027 تک فعال ہو جائے گا‘ اور وہ ممالک جو روس سے زیادہ قریب ہیں، جیسا کہ پولینڈ اور فن لینڈ، چاہتے ہیں کہ یہ کام جلد سے جلد ہو۔
کیٹجا بیگو کا ماننا ہے کہ ’یہ ضروری بھی ہے۔‘ تاہم وہ کہتی ہیں کہ روایتی میزائل دفاع، فضائی نظام کافی نہیں ہے۔
ایسے لوگ بھی ہیں جو اس بات پر قائل نہیں۔ تھنک ٹینک دی رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے رابرٹ ٹولاسٹ کہتے ہیں کہ ’ناقابل شکست دیواروں کا زمانہ گزر چکا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ چند لوگ ایسا کیوں ضروری سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق روسی سرحد کے قریب موجود ممالک کے لیے ایسا کچھ تیار کرنا نہایت ضروری ہے ’لیکن یہ کوئی اصلی دیوار نہیں ہو گی اور نہ ہی ناقابل شکست ہو گی۔ یہ ممکن نہیں ہے طوالت اور دستیاب ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہوئے۔ لیکن دستیاب اشیا کو اکھٹا کرتے ہوئے مختلف اقسام کے ڈرونز کو روکنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGlobal Images Ukraine via Getty Images
جیمنگ یا ڈرون کی تباہی
دی انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز لندن کے فیبیئن ہنز کا کہنا ہے کہ ’اب فضائی ریڈار بھی آ چکے ہیں جو نچلی سطح پر اڑنے والے ڈرون کی نشان دہی کر سکتے ہیں۔‘ اس کے علاوہ ان کے مطابق ایسے انفراریڈ سسٹم بھی ہیں جو ڈرون کی ایک بار نشان دہی ہونے کے بعد اسے تباہ کر سکتے ہیں۔
ایسے میں ’ہارڈ کل‘ اور ’سافٹ کل‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ہارڈ کل سے مراد ہے میزائل یا گولیوں سے ڈرون کو تباہ کرنا۔ سافٹ کل کا مطلب ہے کہ الیکٹرانک طریقے سے ڈرون کو غیر فعال یا ناکارہ بنا دینا۔
روس اور یوکرین دونوں نے ہی فائبر آکٹک کیبلز کی مدد سے سافٹ کل کی صلاحیت کو ناکام بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایسی تار ہوتی ہے جو کئی کلومیٹر تک ڈرون کے ساتھ چلتی ہے لیکن سرحد کے پار اتنے زیادہ فاصلے پر یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہو گی۔

ہارڈ کل کے لیے میزائل، لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ فیبیئن ہنز کہتے ہیں کہ ’لیزر بھی کارآمد ہو سکتی ہے لیکن یہ کوئی ایسا جادوئی ہتھیار نہیں جیسا لوگ سمجھتے ہیں۔‘
آندرے کا کہنا ہے کہ جیمنگ ایک بہتر اور زیادہ کامیاب متبادل ہے۔ تاہم ڈرون کے خلاف کسی بھی دیوار کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہو گا کہ کیا یہ ایک ہی وقت میں مختلف قسم کے فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔
ایک متنازع سوال
یورپ اور روس میں تنازع کے بیچ بہت سے ایسے واقعات ہوئے جن کا ذمہ دار ماسکو کو ٹھہرایا گیا تاہم اس کی جانب سے اکثر تردید کی گئی۔ ان میں سائبر حملے، غلط معلومات، کارگو میں آتشزدگی، جاسوسی اور سبوتاژ جیسے معاملات شامل رہے ہیں۔
رواں ماہ کے دوران ایک کانفرنس میں نیٹو کی عسکری کمیٹی کے اطالوی چیئرپرسن ایڈمرل جوزیپے کاوو نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فضائی دفاع اس وقت اولین ترجیح ہے۔
اس دیوار کے ابتدائی مراحل چند ماہ میں طے ہو جائیں گے تاہم تفصیلات ابھی تک واضح نہیں۔ نیٹو نے دور رس حل پر بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے لیکن یہ آسان نہیں ہو گا۔
ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایسے دفاع کو بہت زیادہ علاقہ سنبھالنا ہے اور ہزاروں کلومیٹر کا علاقہ ہے۔ ایسا کوئی بھی حل سستا یقینا نہیں ہو گا۔














