راہل دراوڈ: مشکل وقت میں ذمہ داری سنبھالنے والے کوچ انڈیا کی کامیابی میں کیسے کردار ادا کر رہے ہیں؟

    • مصنف, نیتن سریواستو
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
    • مقام, میلبورن، آسٹریلیا

آسٹریلوی ہوائی کمپنی ’کنٹاس ایئرویز‘ کی پرواز نے مغربی آسٹریلیا کے شہر پرتھ سے ایڈیلیڈ کے لیے اڑان بھری تو اس کی تمام سیٹیں مسافروں سے بھری ہوئی تھیں۔

انڈین کرکٹ ٹیم بھی اسی پرواز میں سوار تھی اور ایک روز قبل جنوبی افریقہ سے میچ ہارنے کے بعد تمام کھلاڑی کچھ آرام کر رہے تھے کیونکہ پرواز کا دورانیہ بھی لگ بھگ چار گھنٹے تھا۔

لیکن اس فلائٹ کی اکانومی کلاس کی کونے والی سیٹ پر بیٹھے ایک شخص نے جہاز کے اڑان بھرتے ہی اپنے بیگ سے لیپ ٹاپ نکالا اور اس میں محو ہو گئے۔

انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما بزنس کلاس سے اٹھ کر دو بار اُن کے پاس آئے، جھک کر بات کی اور واپس چلے گئے۔ یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ انڈین کرکٹ ٹیم کے کوچ اور سابق مایہ ناز بلے باز راہل دراوڈ تھے۔

راہل دراوڈ کا کام کرنے کا انداز کچھ مختلف ہے۔

پریکٹس کے دوران ہر کھلاڑی پر توجہ دینا

بحیثیت کوچ، راہل دراوڈ اب بھی نیٹ پریکٹس کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیتے ہیں جیسا کہ وہ ایک کھلاڑی کے طور پر گھنٹوں نیٹس میں بیٹنگ کی پریکٹس کرتے ہوئے لیتے تھے۔

آسٹریلیا کے دورے پر پہنچنے کے بعد پہلے ہی نیٹ پریکٹس سیشن سے راہل دراوڈ نے ہر کھلاڑی کو پریکٹس کرنے، تجاویز دینے میں مدد دی ہے اور انڈین کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ وکرم راٹھور اور بولنگ کوچ پارس مہمبرے کو ہر سرگرمی میں شامل رکھا ہے۔

پرتھ میں کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقہ نے انڈیا کو شکست دی لیکن میچ کے وقفے کے دوران انڈین اننگز ختم ہونے کے بعد کھلاڑی فیلڈنگ پریکٹس کر رہے تھے کہ اچانک راہل دراوڈ بلا اور گیند لے کر آئے اور کے ایل راہول کو سلپ فیلڈنگ کی مشق کروانے لگے۔

ابھی جنوبی افریقہ کی اننگز شروع ہوئے ایک اوور ہی ہوا تھا کہ کوئنٹن ڈی کاک نے ارشدیپ سنگھ کے آؤٹ سوئنگر کو کھیلا اور کے ایل راہل نے سلپ میں کیچ لے کر انھیں آؤٹ کر دیا۔

کھلاڑیوں کے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے راہل دراوڈ نے ایک بار ری پلے دیکھنے کے لیے بڑی سکرین پر نظر ڈالی اور پھر میچ پر توجہ مرکوز کر دی۔

ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان ڈیرن سیمی، جنھوں نے راہل دراوڈ کے ساتھ کرکٹ کھیلی اور اب ان کی کوچنگ کی پیروی کرتے ہیں، محسوس کرتے ہیں کہ ’راہل اب سیٹ ہیں۔‘

ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ ’میں نے راہل دراوڈ جیسے محنتی کھلاڑی کم ہی دیکھے ہیں، وہ پہلے اسی طرح انڈیا کی جونیئر کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کرتے تھے اور اب وہ ایک ایسی ٹیم کے کوچ ہیں جس میں آدھے سے زیادہ سپر سٹار کھلاڑی ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔‘

مشکل وقت میں بنایا گیا ٹیم انڈیا کا کوچ

یہ اتفاق تھا کہ پرتھ سے ایڈیلیڈ جانے والی فلائٹ کی بزنس کلاس کی پہلی نشست پر انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ روی شاستری بھی موجود تھے جہاں راہل دراوڈ بیٹھ کر کام کر رہے تھے۔

جس صورتحال میں راہول ڈریوڈ کو انڈین کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سونپی گئی وہ بھی چیلنجنگ کہلائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

دسمبر 2021 میں بطور کوچ جنوبی افریقہ کے اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر جانے سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم 18 کھلاڑیوں کے ساتھ جا رہے ہیں جو تمام باصلاحیت، بہترین ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف 11 کھلاڑی ہی کھیل سکیں گے اور میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ نہ کھیلنے والے کھلاڑی مایوس ہوتے ہیں۔ ہمیں اکثر کھلاڑیوں کے ساتھ مشکل فیصلے لینا پڑتے ہیں لیکن ہم سب پروفیشنل ہیں۔‘

انڈیا کی ٹیسٹ یا ون ڈے ٹیم پر ایک نظر ڈالی جائے تو راہل دراوڈ کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پرانے اور نوجوان کھلاڑیوں کو متحد رکھنے کا چیلنج

گذشتہ سال جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ دورے پر جانے والی ٹیم کے 18 میں سے سات کھلاڑیوں کی عمریں 30 سال سے زیادہ تھیں۔ اس وقت آسٹریلیا میں کھیلے جا رہے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کے لیے کھیلنے والے کھلاڑیوں میں سے آٹھ کی عمریں 30 سال سے زیادہ ہیں۔

ظاہر ہے کہ راہل دراوڈ کو نہ صرف سٹار کھلاڑیوں کو متحد رکھ کر نتائج حاصل کرنے ہوں گے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے مشکل فیصلے بھی کرنا ہوں گے۔

کرکٹ پر لکھنے والے اور پاکستان کے مشہور سپورٹس صحافی شاہد ہاشمی کہتے ہیں کہ ’میری راہل دراوڈ کے بارے میں اب بھی وہی رائے ہے جو ان کے دوروں کے دوران رپورٹنگ کے وقت تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’راہل دراوڈ اتنے عظیم کھلاڑی تھے کہ انھوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں میں، تقریباً 500 میچوں میں 23،000 سے زیادہ رنز بنائے۔ جب آپ ویراٹ کوہلی اور روہت شرما جیسے لیجنڈز کے کوچ ہوں تو آپ کا اثر بھی ہونا چاہیے۔ ڈریوڈ کے پاس تجربہ ہے، کامیابی ہے اور انھوں نے بہت زیادہ گلیمر دیکھ رکھا ہے، اب وہ صرف کام پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹیم کے ساتھ راہل دراوڈ کا تعلق بھی کافی مضبوط نظر آ رہا ہے۔ کے ایل راہل اس ٹورنامنٹ کے پہلے تین میچوں میں فلاپ رہے تھے۔ اگر راہل دراوڈ ان کی جگہ کسی اور کھلاڑی کو موقع دینے کی تنقید اور دباؤ کے سامنے جھک جاتے تو نہ کے ایل راہل کو بنگلہ دیش کے خلاف چوتھے میچ میں نصف سنچری بنانے کا موقع ملتا اور نہ ہی ان کا اعتماد واپس آتا۔

ویراٹ کوہلی کی فارم میں واپسی کی کہانی میں کہیں راہل دراوڈ کا ہاتھ بھی واضح نظر آ رہا ہے۔ راہل دراوڈ نے گذشتہ سال سے مسلسل ان کا ساتھ دیا اور ویراٹ ایشیا کپ کے بعد اپنی فارم میں واپس آئے۔

راہل دراوڈ گھنٹوں نیٹ پر کوہلی کو بیٹنگ پریکٹس کرتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں اور اس دوران انھیں تجاویز بھی دیتے ہیں۔

میچز کے دوران ڈرنکس بریک یا اوور بریک کے دوران، راہل دراوڈ اکثر گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کے پاس بھاگتے ہوئے جاتے ہیں اور خود اہم پیغامات دیتے ہیں۔

ان دنوں راہل دراوڈ جس طرح جیت کا جشن مناتے ہیں، کھلاڑیوں کو گلے لگاتے ہیں، یہ ان کی پرسکون طبیعت سے تھوڑا مختلف ہے اور نیا بھی۔

سابق کپتان اور چیف سلیکٹر کے سریکانت کا ماننا ہے، ’راہول ڈریوڈ کا اعتماد ہی ان کی سب سے بڑی خاصیت ہے جو بڑے فیصلوں کے لیے اہم ہو ہے۔‘