سوات میں سرینا ہوٹل سے 40 سال بعد ’وزیر ہاؤس‘ کی تاریخی عمارت کیوں واپس لی گئی؟

سرینا ہوٹل، سوات

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو

قدیم پتھروں سے بنی مضبوط دیواریں، بلند برآمدے اور لکڑی کے نفیس دروازے۔۔۔ ویسے تو یہ مناظر نوآبادیاتی دور کی جھلک دیتے ہیں مگر سوات کی اس تاریخی عمارت پر گذشتہ چار دہائیوں سے 42 کمروں پر مشتمل ایک لگژری ہوٹل قائم تھا۔

سرینا ہوٹل کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری سے سوات میں قائم اس کے ہوٹل کے آپریشنز ختم کیے جا رہے ہیں۔

ادھر خیبر پختونخوا میں محکمہ کلچر اور سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل حبیب اللہ عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ والی سوات کے دور میں تعمیر کی گئی تاریخی عمارت ’وزیر ہاؤس‘ 30 سال کی لیز پر سرینا ہوٹل کو دی گئی تھی جو کہ 2015 میں ہی ختم ہو گئی تھی تاہم ان کے بقول عدالتی کارروائیوں کے باعث اسے خالی کرانے میں مزید 10 سال لگے۔

اس عمارت میں ملکہ الزبتھ دوم اور ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ سمیت کئی معروف شخصیات، وزرا اور بین الاقوامی وفود بطور مہمان رہ چکے ہیں مگر ایک ایسا وقت بھی تھا جب شدت پسندی کے باعث ہوٹل کے کمرے اکثر خالی رہا کرتے تھے۔

ہم نے اس تحریر میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ’وزیر ہاؤس‘ سرینا ہوٹل سوات کیسے بنا اور اس کا مستقبل کیا ہو گا؟

سرینا ہوٹل، سوات

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

44 کنال رقبے پر پھیلی عمارت جس کا کرایہ ’سات لاکھ روپے ماہانہ تھا‘

محکمہ کلچر اور سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل حبیب اللہ عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ 1985 میں یہ عمارت سرینا ہوٹل کو 30 سال کی لیز پر پانچ لاکھ روپے ماہانہ کرائے پر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق ان 30 برسوں میں اس کا کرایہ بڑھ کر صرف سات لاکھ روپے ماہانہ ہو گیا تھا جو بہت کم تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ عدالتی کارروائیوں اور فیصلوں کے بعد اب اس عمارت کو واپس حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ کلچر اور سیاحت نے حاصل کر لیا اور 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن ہوٹل انتظامیہ کو دی گئی تھی کہ اس تاریخ تک ہوٹل خالی کیا جائے اور اب اس عمارت کی لیز نجی شعبے میں اوپن کی جائے گی جس سے حکومت کو بھاری آمدن ملنے کی امید ہے۔

یہ لیز 2015 میں ختم ہو چکی لیکن سرینا ہوٹل کی انتظامیہ نے عدالت سے رجوع کیا اور اس عرصے میں تمام فیصلوں میں سرینا ہوٹل کی انتظامیہ کو کہیں کامیابی نہیں ہوئی اور اب 31 دسمبر کی تاریخ دی گئی کہ یہ عمارت خالی کر دی جائے۔

سوات میں ہوٹل ایسوسی ایشن کے رہنما زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ والی سوات یعنی سوات کی خود مختار ریاست کے دور میں یہاں ایک مہمان خانہ بنایا گیا تھا۔

ان کی رائے ہے کہ یہ عمارت بنیادی طور پر سوات ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی پراپرٹی تھی اور 1985 میں گورنر کی جانب سے سرینا ہوٹل کو یہ عمارت دینا ’غلط فیصلہ تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ اب اس کی اوپن مارکیٹ میں بڈنگ ہو گی اور قانون کے مطابق 15 سال کی لیز پر کوئی بھی عمارت کا یہ حصہ حاصل کر سکتا ہے۔

حبیب اللہ عارف کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اس کی لیز سات کروڑ سے 10 کروڑ روپے سالانہ تک جا سکتی ہے لیکن ساتھ میں ان کا کہنا تھا کہ اس عمارت میں تبدیلی یا اس کے تاریخی حسن کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس عمارت کا کل رقبہ 44 کنال بتایا گیا ہے اور اس میں 55 کمرے ہیں جبکہ اس کے ساتھ وسیع لان، سوئمنگ پول اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔

زاہد خان کا کہنا تھا کہ جو بھی اب یہ عمارت لیز پر لے گا وہ اس میں جدید ضروریات کے مطابق تعمیرات کرے گا، جیسے بڑے ہال یا کانفرنس رومز وغیرہ۔

سرینا ہوٹل، سوات

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

خیبرپختونخوا حکومت کا موقف

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا یار محمد خان نیازی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہی جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’سوات سرینا ہوٹل کے حوالے سے کچھ حلقوں کی جانب سے حکومت خیبر پختونخوا کے حوالے سے مسلسل حقائق کے منافی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔‘

ان کے مطابق ’سوات سرینا ہوٹل ایک اہم سیاحتی اثاثہ ہے جو تقریباً 44.6 کنال اراضی پر قائم ہے اور اس میں 49 کمرے اور دیگر معاون سہولیات موجود ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جائیداد اپریل 1985 میں میسز ٹورازم پروموشن سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ (سرینا ہوٹلز چین) کو تیس (30) سال کے لیے لیز پر دی گئی تھی، جس کا ابتدائی سالانہ کرایہ 5 لاکھ روپے مقرر کیا گیا تھا، جو اُس وقت کے قواعد و ضوابط کے مطابق تھا۔‘

یار محمد خان نیازی کے مطابق ’لیز کی مدت 30 جون 2015 کو مکمل ہونے کے بعد سرینا ہوٹل انتظامیہ نے توسیع کی درخواست دی۔ اس سلسلے میں کرایہ کے تعین کے لیے جائزے کیے گئے اور سال 2014 میں سالانہ کرایہ 88.6 لاکھ روپے مقرر کیا گیا۔ تاہم کرائے کے تعین پر اختلافات کے باعث معاملہ کئی برس تک عدالتی کارروائی کی زد میں رہا۔‘

بیان کے مطابق ’عدالتی احکامات کی روشنی میں یہ معاملہ صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے اکتوبر 2021 میں لیز میں پس منظر سے توسیع کی منظوری دی، تاہم اس شرط کے ساتھ کہ کرایہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق دوبارہ طے کیا جائے اور متعلقہ تکنیکی فورمز سے حتمی منظوری لی جائے۔‘

یار محمد خان کہنا تھا کہ ’کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں مزید جائزے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 2022 میں سالانہ کرایہ 13.27 ملین روپے مقرر کر دیا گیا جبکہ بعد ازاں ڈی جی کے پی سی ٹی اے کی سربراہی میں قائم کثیرالجہتی کمیٹی نے سالانہ کرایہ 104.69 ملین روپے مقرر کیا۔‘

ان کے مطابق ’یہ تمام تخمینے مارکیٹ حقائق، عوامی مفاد کے تحفظ اور موجودہ قوانین و پالیسیوں سے ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اور اس دوران عبوری بنیادوں پر کرایہ وصول کیا جاتا رہا، تاہم لیز کی حتمی شرائط طے نہ ہو سکیں۔‘

بیان کے مطابق ’بعد ازاں یہ طے پایا کہ موجودہ صوبائی لیز پالیسی کے تحت لیز میں مزید توسیع ممکن نہیں اور پرانا معاہدہ مؤثر طور پر ختم ہو چکا ہے اور دسمبر 2025 میں سرینا ہوٹل انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر جائیداد واپس کرنے کی رضامندی ظاہر کی جس کے بعد قانونی طور پر جائیداد کا قبضہ کے پی سی ٹی اے نے سنبھال لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کے پی کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اپنے قانونی مینڈیٹ کے تحت اس اثاثے کو کھلی، شفاف اور مسابقتی نیلامی کے ذریعے دوبارہ لیز پر دے گی تاکہ عوامی اثاثوں کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے اور سرکاری آمدن میں اضافہ ہو۔‘

’تیسرے فریق کے مارکیٹ جائزوں کے مطابق اس نیلامی سے تقریباً 40 لاکھ روپے ماہانہ آمدن متوقع ہے۔‘

کبھی پی آئی اے کا دفتر تو کبھی سرینا ہوٹل

یہ عمارت بنیادی طور پر سنہ 1935 میں تعمیر کی گئی تھی اور والی سوات کے وزیر کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی اس لیے اسے ’وزیر ہاؤس‘ کہا جاتا تھا۔ یہ عمارت اس وقت کے والی سوات میاں گل عبدالودود نے اپنے دور میں تعمیر کرائی تھی۔

زاہد خان نے بتایا کہ اس عمارت کے دو حصے ہیں۔ ایک وزیر ہاؤس اور دوسرا بعد میں تعمیر کیا گیا مہمان خانہ یا گیسٹ ہاؤس۔ یہ تعمیرات اس وقت کی گئی تھیں جب سوات ایک خود مختار ریاست کے طور پر وجود رکھتا تھا۔

اس مہمان خانے میں زیادہ تر والی سوات کے مہمان اور دیگر اہم شخصیات قیام کرتی تھیں۔ والی سوات کو سیاحت کو فروغ دینے کا شوق تھا، اسی مقصد کے لیے انھوں نے کالام اور دیگر مقامات پر بھی ہوٹل تعمیر کرائے۔

یہ عمارت چونکہ ایک سٹیٹ گیسٹ ہاؤس تھی، اس لیے یہاں نمایاں شخصیات نے قیام کیا جن میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم اور ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ شامل ہیں۔ جب انھوں نے سوات کا دورہ کیا تو وزیر ہاؤس کے گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا۔

زاہد خان نے بتایا کہ انھیں وہ وقت یاد ہے جب ملکہ الزبتھ دوم نے سوات کا دورہ کیا تھا۔ یہ غالباً 1961 یا 1962 کا سال تھا۔

اس وقت وہ دوسری یا تیسری جماعت کے طالب علم تھے اور شہر میں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر ان کا استقبال کر رہے تھے۔

ملکہ نے یہاں تقریباً چار روز قیام کیا اور وہ والی سوات کی دعوت پر آئی تھیں۔ انہوں نے سوات کو اس خطے کی سیاحت کے لیے اہم مقام قرار دیا تھا۔

اس عمارت میں سرینا ہوٹل سے پہلے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا دفتر قائم تھا۔ اس دوران عمارت کی حالت کافی خراب ہو گئی تھی مگر یہاں سرینا ہوٹل بننے کے بعد اس میں کافی کام کیا گیا۔

سرینا ہوٹل، سوات

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

جب سوات میں آپریشن کے دوران سرینا ہوٹل کو خالی کرایا گیا

اس ہوٹل نے عروج کا دور بھی دیکھا جب وزرائے اعظم، صدور اور غیر ملکی شخصیات نے یہاں قیام کیا مگر سوات میں جب شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو ایک ایسا وقت بھی تھا جب ہوٹل کے کمرے اکثر خالی رہتے تھے اور قیام کے لیے بہت کم لوگ آتے تھے۔

بی بی سی کے بلال احمد اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے لیے 2007 اور 2008 میں سوات گئے تھے جب عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ اس دور میں دھماکے اور فائرنگ کے واقعات بڑھ گئے تھے۔

بلال احمد نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ سرینا ہوٹل پہنچے تو اس وقت صرف وہ اور ایک دوسرے صحافی ہی مہمان تھے، باقی سارے کمرے خالی تھے۔

’باہر سکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود تھے لیکن چونکہ یہ علاقہ سرکاری دفاتر اور اہم عمارتوں کے قریب تھا اس لیے یہاں اتنا خطرہ نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے قیام کے دوران اس عمارت کے ساتھ پولیس لائن میں دھماکے ہوئے تھے اور وہ اس وقت ہوٹل میں موجود تھے۔ بعد میں جب مکمل آپریشن شروع ہوا تو یہ علاقہ خالی کرا لیا گیا۔

اس ہوٹل نے ایک ایسا دور بھی دیکھا جب سوات میں امن قائم ہوا، آپریشن ختم ہو گئے اور غیر ملکی و ملکی اعلیٰ شخصیات کے دورے شروع ہوئے۔

اس وقت یہاں گہما گہمی دیکھنے کو ملتی تھی۔ صوبائی اور ضلعی سطح کے اعلیٰ افسران کے لیے بھی یہاں مخصوص کمرے رکھے گئے تھے۔