آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹوئٹر نے ڈزنی کے فیک اکاؤنٹ کو گولڈ ٹِک دے دیا
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے اب یہ خبر سامنے آئی ہےکہ ٹوئٹر نے ڈزنی جونیئریوکے (@DisneyJuniorUK) نامی ایک ایسے اکاؤنٹ کو گولڈ ٹک دے کر مصدقہ اکاؤنٹ کا درجہ دے دیا ہے جو درحقیقت ایک فیک اکاؤنٹ ہے۔
ٹوئٹر ہینڈل ایٹ ڈزنی جونیئریوکے نامی اکاؤنٹ قابل اعتراض مواد ٹویٹ کر رہا تھا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ اکاؤنٹ معطل ہوتا، کمپنی سے گولڈ ٹک کی تصدیق کروانے میں کامیاب ہو گیا۔
اس اکاؤنٹ کے اونر نے اپنے فالوورز سے کہا کہ ’یہ حقیقتاً اصلی نہیں ہے؟ کوئی مجھے چٹکی کاٹ کر بتائے کہ یہ کیا واقعی اصلی ہے۔‘
یہ ٹویٹ بعد میں وائرل ہو گئی۔
بی بی سی نے اس حوالے سے تبصرہ کے لیے ٹوئٹر سے رابطہ کیا ہے۔
دوسری جانب ڈزنی جونیئر کے ’اصل‘ اکاؤنٹ کو بھی گولڈ بیج دیا گیا ہے۔
پچھلے ہفتے ٹوئٹر نے (پہلے سے تصدیق شدہ) لیگیسی ویریفائیڈ اکاؤنٹ سے بلیو ٹک کے نشانات ہٹا دیئے تھے اور اب ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کی رہنمائی میں نیا تصدیقی نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے ان اکاؤنٹس سے بلیو ٹک ہٹائے جانے کے عمل میں بہت سی مشہور شخصیات کے اکاؤنٹس کے بیجز بھی ختم کر دیئے گئے تھے۔ تاہم 10 لاکھ سے زیادہ فالوورز رکھنے والے اکاؤنٹس کو ایک نئے بلیو ٹک کے ساتھ تصدیقی بیج دے دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹوئٹر کے نئے ضوابط کے مطابق
- تصدیق کے روایتی بلیو ٹک کا اب مطلب ہے کہ بلیو ٹِک کو سبسکرائب کیا گیا ہے جس کی فیس آٹھ ڈالر ماہانہ ہے۔ اب اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے کچھ تصدیقی مراحل کو مکمل کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے جیسے اکاؤنٹ سے موبائل فون کا لنک ہونا۔ٹوئٹر کے مطابق یہ اکاؤنٹ کم از کم 30 دن سے زیادہ پرانا بھی ہونا چاہیے اور اس کے نام یا ہینڈل میں کوئی حالیہ تبدیلی نہیں کی گئی ہو۔
- گولڈ بیج ان تنظیموں اور کاروباروں کے لیے مخصوص ہے جو ماہانہ ایک ہزار ڈالر ادا کریں گے ادا کرتے ہیں جبکہ ان تنظیموں یا اداروں کو اپنے متعلقہ دیگر اکاؤنٹس کے لیے اضافی فیس کی ادائیگی کرنا ہو گی۔
- گرے: یہ تصدیقی رنگ سرکاری اکاؤنٹس یا آفیشلز کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جس میں ملک کی سرکاری ایجنسیاں اور سربراہ مملکت سمیت دیگر اہم عہدیدار شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:
’ممکنہ طور پر ایلون مسک کی ٹوئٹر پر اب تک کی سب سے بڑی غلطی‘
سوشل میڈیا کنسلٹنٹ میٹ ناوارا نے بی بی سی کو بتایا کہ لیگیسی چیک مارکس کو ہٹانے کا فیصلہ ایک بڑی غلطی تھی۔
ان کے مطابق ’ممکنہ طور پر یہ ایلون مسک کی ٹوئٹر پر اب تک کی سب سے بڑی غلطی ہے۔‘
میٹ ناوارا کے مطابق ’پچھلے چھ ماہ میں جب سے ایلون مسک نے پلیٹ فارم کی ملکیت حاصل کی ہے، ٹوئٹر بحران سے مزید بحران کی طرف بڑھ گیا ہے۔
’ٹوئٹر نے اب جعلی اکاؤنٹس اور غلط معلومات کے لیے بہترین افزائش گاہ تیار کر لی ہے۔ اس کے صارفین یا دیگر برانڈز کے پاس اس گندگی سے محفوظ رکھنے کا کوئی حقیقی طریقہ نہیں ہے اور اب خود ٹوئٹر کی اس تازہ ترین غلطی کے بعد اگر ہم مزید برانڈز کو ٹوئٹر سے دور جاتا دیکھیں تو مجھے ہرگز حیرت نہیں ہوگی۔‘
اس مقام پر اکاؤنٹ اونر بھی باقی لوگوں کی طرح ہی حیران ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔
’یہ اکاؤنٹ (اپنی ٹویٹس کے ذریعے) کسی بھی طرح آفیشل ڈزنی اکاؤنٹ نظر آنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا تھا تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نہایت عام پیروڈی کس طرح گولڈ ٹک حاصل کر پایا؟‘
ٹوئٹر اکاؤنٹ کے تصدیقی ٹک کی حالیہ مثال سامنے آنے کے بعد ایلون مسک کے ناقدین نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’فیک اکاؤنٹس کو تصدیقی بیجز ملنا دراصل غلط معلومات کے پھیلاؤ میں انھیں بے لگام کرنے کے مترادف ہے۔‘
ٹوئٹر نے پہلے ہی ایک ملین سے زیادہ فالوورز والے اکاؤنٹس کے لیے بلا معاوضہ بلیو ٹِکس واپس کردیے ہیں اور ایسے اکاؤنٹس کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جن کے پاس بظاہر ایسے بیجز ہیں جن کے لیے انھوں نے ادائیگی نہیں کی۔
جب الیون مسک نے ٹوئٹر کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا تو انھوں نے اعلان کیا تھا کہ ٹوئٹر پر بلا امتیاز سب کو یکساں مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔
وہ ’آزاد تقریر‘ کو واپس لانے کے بارے میں بلند عزائم سے سرشار تھے اور چاہتے تھے کہ پلیٹ فارم ’زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد‘ ہو اور یہ ’پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
مگر اب ٹوئٹر کی پالیسی ان خیالات سے مختلف نظر آتی ہے۔ ایلون مسک کے مطابق کہ یہ مناسب نہیں تھا کہ ٹوئٹر کو ہی فیصلہ کرنا پڑا کہ کون سی آوازیں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اہم ہیں۔
لیکن سوشل نیٹ ورک چلانے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہے، اور اب تک ہم سبسکرپشن کے ذریعے سوشل میڈیا کے اس کے خواب کی بہت سی مثالیں دیکھ رہے ہیں جو منصوبہ بندی کے مطابق نہیں۔