قتل کے الزام میں 43 برس قید کی سزا کاٹنے والا شخص، جسے بے گناہی ثابت ہونے پر بھی رہائی نہیں مل سکی

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک ایسا قتل جو انھوں نے کبھی نہں کیا تھا اور پھر 43 سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنے والے سبرامنیم ’سبو‘ ویدم کو رہا کر دیا گیا ہے مگر اس کے باوجود اب بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئی ہیں۔

سبرامنیم کو ان کے روم میٹ کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا مگر ان کی بے گناہی ثابت کرنے والے نئے شواہد سامنے آنے کے بعد انھیں اب رہا کر دیا گیا۔

لیکن اس سے قبل کہ وہ اپنے خاندان کے پاس پہنچ پاتے سبرامینم کو ’یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ‘ (آئی سی ای) نے اپنی تحویل میں لے لیا، جو اب انھیں انڈیا ڈی پورٹ کرنا چاہتے ہیں۔

انڈیا سبرامنیم کے لیے اجنبی ملک ہے کیونکہ ان کی زیادہ تر زندگی امریکہ میں گزری۔

سبرامنیم کی قانونی ٹیم ملک بدری کے احکامات کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہی ہے اور ان کا خاندان انھیں حراست سے باہر نکالنے کے لیے پرعزم ہے۔

ان کی بہن سرسوتی ویدم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا خاندان اب ایک نئی اور ’بہت مختلف‘ صورتحال سے باہر نکلنے کے لیے کوشاں ہے۔

سبرامنیم ویدم نے نئی صورتحال کے تناظر میں اپنی بہن اور خاندان کے دیگر افراد کو ایک پیغام بھیجا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ہم جیت پر توجہ دیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے بریت مل گئی اب میں قیدی نہیں بلکہ حراست میں ہوں۔‘

1980 کا قتل

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

43 سال قبل سبرامنیم ویدم کو اپنے روم میٹ ٹام کنسر کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جو کالج کے 19 سالہ طالب علم تھے۔

ٹام کنسر کی لاش جنگل والے علاقے میں لاپتہ ہونے کے نو ماہ بعد ملی تھی جس کی کھوپڑی میں گولی لگی تھی۔ ان کی گمشدگی کے دن سبرامنیم نے ان سے گاڑی لی تھی۔ اگرچہ ٹام کنسر کو ان کی گاڑی معمول کی مختص جگہ پر واپس کر دی گئی تھی مگر اس واقعے کا کوئی عینی شاہد نہیں تھا۔

سبرامنیم پر ٹام کنسر کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔ امریکی حکام نے ان کا پاسپورٹ اور گرین کارڈ ضبط کر لیا تھا اور ان پر ’ممکنہ طور پر فرار اختیار کرنے والے غیر ملکی‘ شخص ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔

دو سال بعد انھیں قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

سنہ 1984 میں سبرامنیم کو عدالت کے سامنے طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت منشیات کے جرم میں علیحدہ سے ڈھائی سے پانچ برس کی سزا سنا دی گئی۔ یہ سزا انھیں عمر قید کی سزا کے ساتھ ہی بھگتنی تھی۔

سبرامنیم نے قتل کے الزامات میں اپنی بے گناہی پر اصرار جاری رکھا۔

ان کے حامیوں اور اہلخانہ نے زور دیا کہ ان کے جرم سے منسلک ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔

امریکہ میں قید انڈین شہری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سبرامنیم کی بریت

سبرامنیم نے قتل کی سزا کے خلاف بار بار اپیل کی اور چند سال قبل اس کیس میں نئے شواہد سامنے آئے جن کے باعث انھیں بریت مل گئی۔

لیکن سبرامنیم کے اہل خانہ کو معلوم تھا کہ ان کی رہائی سے قبل ایک اور رکاوٹ بھی باقی تھی۔ ان کے خلاف سنہ 1988 کا ملک بدری کا حکمنامہ موجود تھا، جس کی بنیاد قتل اور منشیات کے جرم میں ان کو سزا تھی۔

سرسوتی ویدم نے کہا کہ خاندان کو توقع تھی کہ انھیں ان کے امیگریشن کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک درحواست دائر کرنی پڑے گی۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ کیس کے حقائق اب مختلف ہیں۔

لیکن جب انھوں نے سبرامنیم کو گرفتار کیا تو آئی سی ای نے امیگریشن آرڈر کا حوالہ دیا کہ وہ انھیں پنسلوانیا کی ایک اور جیل میں فوری طور پر حراست میں لے رہے ہیں۔

اب جبکہ انھیں قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا لیکن ان کو منشیات کے مقدمے میں دی جانے والی سزا اب بھی برقرار ہے۔ انھوں نے کہا کہ امیگریشن ایجنسی نے کہا کہ اس نے قانونی طور پر جاری کردہ حکم پر عمل کیا۔

آئی سی ای نے تبصرے کے لیے بی بی سی کی درخواست کا جواب نہیں دیا، لیکن اس نے دیگر امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سبرامنیم ملک بدری کے مقدمے کے فیصلے تک حراست میں ہی رہیں گے۔

سبرامنیم کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ جب امیگریشن کی عدالت اس مقدمے کی سماعت کرے تو پھر وہ ان کے کئی دہائیوں کے اچھے رویے، سزا کی تکمیل اور سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے کمیونٹی سروس کا بھی جائزہ لے۔

سرسوتی ویدم کا کہنا ہے کہ جو بات انتہائی مایوس کن تھی وہ یہ تھی کہ ’ہمیں انھیں گلے لگانے کا ایک لمحہ بھی نہیں مل سکا۔‘

ان کے مطابق ان کے بھائی کو غلط طریقے سے قید میں رکھا گیا اور کوئی یہ سوچے گا کہ انھوں نے اتنے وقار، مقصد اور دیانتداری کے ساتھ تمام سزاؤں کا سامنا کیا اور یہ پہلو بھی قابل غور ہیں۔

ممکنہ ملک بدری

ان کے خاندان نے سبرامنیم کے انڈیا سے تعلق کے پہلو پر زور دیا ہے، جس ملک اب امریکی حکام انھیں بھیجنا چاہتے ہیں۔

خاندان کے مطابق انڈیا میں اب سبرمنیم کے لیے کچھ نہیں۔

وہ وہاں پیدا ہوئے تھے لیکن نو ماہ کی عمر میں امریکہ آ گئے تھے۔ سرسوتی ویدم نے بی بی سی کو بتایا کہ جو رشتہ دار ابھی تک زندہ ہیں، وہ دور پار کے ہیں۔

ان کی برادری، ان کی بہن سرسوتی ویدم اور دیگر کزنز امریکہ اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی ’سبرمنیم پھر لٹ جائیں گے اور وہ دنیا کے ایک کونے پر جا کر اپنے قریبی رشتہ داروں اور خاندان سے محروم رہ جائیں گے۔ یہ ایسا ہی جیسے ان کی زندگی دوبارہ چرا لی گئی ہو۔‘

’وہ اپنے قریبی لوگوں کی زندگیوں سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ تقریباً ایسا ہی ہے جیسے ان سے ان کی زندگی دو بار چھین لی گئی ہو۔‘

سبرامنیم جو قانونی طور پر امریکہ کے مستقل رہائشی ہیں، کی گرفتاری سے قبل ان کی شہریت کی درخواست قبول کر لی تھی۔ ان کے والدین بھی امریکی شہری تھے۔

ان کے وکیل ایوا بینچ نے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اب امریکہ سے ملک بدری، انھیں ایک ایسے ملک میں بھیجنا جہاں ان کے بہت کم روابط ہیں، ایک ایسے شخص کے ساتھ کیا گیا ایک اور بھیانک ظلم ہو گا جو پہلے ہی ’ریکارڈ‘ ناانصافی کو برداشت کر چکا ہے۔‘