آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
زمین پر دھماکوں کے بعد وجود میں آنے والے بڑے گڑھے جو سائنسدانوں کے لیے معمہ بنے ہوئے ہیں
- مصنف, رچرڈ گرے
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
آرکٹک سرکل کے ایک جزیرے نما پر اچانک ایک دھماکے کی آواز آئی اور زمین پر ایک بڑا گڑھا نمودار ہو گیا۔
اس گڑھے کے کونوں پر زمین پھٹی پھٹی نظر آ رہی تھی اور سُرمئی رنگ کی برف بھی یہاں موجود تھی۔
اس گڑھے کے کنارے موجود تالاب کے قریب سبز گھاس پر مٹی پھیلی ہوئی تھی۔ گڑھے میں موجود پتھر بھی دِکھائی دے رہے تھے اور اس سے قبل کے سائنسدان اس گڑھے کا معائنہ کرنے پہنچتے یہ سیاہ مائل پانی سے بھر چکا تھا۔
اس مقام پر پہنچنے والے سائنسدانوں میں روس سے تعلق رکھنے والے ایوگینی چوولن بھی تھے جو سائبیریا کے یمال نامی جزیرہ نما میں اس گڑھے کا معائنہ کرنے کے لیے پہنچے تھے۔
اس گڑھے کی گہرائی تقریباً 50 میٹر تھی اور ایوگینی کو لگتا تھا کہ شاید وہ اس نئے گڑھے کے نمودار ہونے کے بعد پچھلے چھ برس کے دوران پیش آنے والے اسی نوعیت کے پراسرار واقعات کی گتھی سُلجھا لیں گے۔
سائبیریا کے اس جزیرہ نما پر پہلا گڑھا 10 سال قبل نمودار ہوا تھا۔ اس گڑھے کی چوڑائی تقریباً 20 میٹر اور لمبائی 171 میٹر تھی۔
یہ گڑھا سنہ 2014 میں ایک ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے حادثاتی طور پر دریافت کیا تھا اور یہ جزیرہ نما یمال میں بووانینکوا گیس فیلڈ سے تقریباً 42 کلومیٹر دور واقع تھا۔
بعد میں سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ گڑھا، جسے ’جی ای سی ون‘ کا نام دیا گیا، 9 اکتوبر سے یکم نومبر 2013 کے بیچ نمودار ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس جزیرے پر تازہ گڑھا اگست 2020 میں نمودار ہوا تھا جسے ایک ٹی وی چینل کے لیے کام کرنے والے لوگوں نے سب سے پہلے دیکھا تھا۔ یہ لوگ جزیرہ نما یمال میں کچھ سائنسدانوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔
سنہ 2020 تک جزیرہ نما یمال اور اس سے جُڑے جزیرہ نما گیدان پر 17 ایسے گڑھے نمودار ہو چکے تھے۔
لیکن زمین پر اتنے بڑے گڑھے اچانک کیسے نمودار ہو رہے ہیں؟ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو آج بھی سائنسی دنیا کے لیے ایک پہیلی کی حیثیت ہی رکھتا ہے۔
آرکٹک کے محل وقوع پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسے بہت سے اشارے دیکھ رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ انتہائی تیزی سے بدل رہا ہے۔
لیکن تازہ ترین تحقیق سے کچھ معلومات سامنے آئی ہے اور اس سے کچھ جوابات بھی اخذ کیے جا رہے ہیں۔
ایک بات تو واضح ہے کہ یہ گڑھے صرف برف پگھلنے کے سبب تو سامنے نہیں آ رہے، بلکہ یہ دھماکوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔
ایوگینی کہتے ہیں کہ ’جیسے ہی دھماکے ہوتے ہیں ویسے ہی برف کے بڑے ٹکڑے اور مٹی دھماکوں کے مرکز سے دور جا گرتے ہیں۔ ہمیں یہاں ایک بڑی طاقت کا سامنا ہے جو ایک قسم کے دباؤ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ دباؤ اتنا کیوں ہوتا ہے یا آج بھی ایک معمہ ہی ہے۔‘
ایوگینی روسی سائنسدانوں کے ایک گروپ کا حصہ ہیں جو دنیا بھر کے محققین کے ساتھ مل کر ان گڑھوں کا دورہ کر رہے ہیں اور مٹی کے نمونے جمع کر رہے ہیں۔
کچھ سائنسدان ان گڑھوں کا موازنہ ایسے پہاڑوں سے کر رہے ہیں جو لاوا نہیں بلکہ برف اُگلتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ پہاڑ ہمارے سولر سسٹم کے دیگر سیاروں پر بھی موجود ہیں۔
تحقیق کے دوران ان گڑھوں کو ’گیس ایمیشن کریٹرز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نام سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ گڑھے کیسے وجود میں آ رہے ہیں۔
ایوگینی کہتے ہیں کہ ’سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ یہ بڑے بڑے گڑھے چھوٹے چھوتے ٹیلوں کی جگہ پر دھماکوں کے نتیجے میں جنم لے رہے ہیں۔‘
آرکٹک سرکل میں ایسے ٹیلے اور بھی مقامات پر موجود ہیں لیکن یہ وہاں پھٹنے نہیں ہیں بلکہ پگھل کر گر جاتے ہیں۔
ایوگینی کہتے ہیں کہ اب یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ شمال مغربی سائبیریا میں موجود یہ ٹیلے تھوڑے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق ’یہ بہت جلدی بڑے ہو جاتے ہیں اور کئی میٹر لمبے ہو جاتے ہیں اور پھر یہ اچانک پھٹ جاتے ہیں۔‘
لیکن یہ گڑھے پانی کی وجہ نہیں نمودار ہو رہے بلکہ اس کا سبب زیرِ زمین موجود گیس ہو سکتی ہے۔
میساچوسٹس میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر ریسرچ کرنے والی سائنسدان سوئی نٹالی کہتی ہیں کہ ’ایسے ٹیلوں کو بننے میں دہائیاں لگتی ہیں اور یہ بڑے لمبے عرصے تک اپنی جگہ پر موجود رہتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’گیس سے بھرے ٹیلوں کو وجود میں آنے کے لیے مزید وقت درکار ہوتا ہے۔‘
ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی سے منسلک الیگزینڈر کزیاکوو کا خیال ہے کہ ’گیس کے ان ٹیلوں میں گیس موجود رہنے کا دورانیہ کم ہوتا ہے جو کہ تین سے پانچ برس ہو سکتا ہے۔‘
جزیرہ نما یمال کے بارے میں نٹالی کہتی ہیں کہ ’یہاں کے منظر میں کچھ الگ سا ہے۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں موٹی موٹی برف جمی ہوئی ہے اور یہاں گیس اور آئل کے ذخیرے کی موجودگی کی بھی نشانیاں نظر آتی ہیں۔‘
اس علاقے میں ایک اور گڑھے کا معائنہ کیا گیا تھا۔ 20 میٹر چوڑا یہ گڑھا ایک خشک جھیل کے کنارے نمودار ہوا تھا اور ایوگینی کا کہنا ہے کہ جب یہ جھیل خشک ہوئی تو اس کے نیچے زمین میں گیس جمع ہونا شروع ہو گئی، لیکن یہ گیس آئی کہاں سے؟ یہ بات اب تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ان گڑھوں پر تحقیق کے دوران سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ زمین کے نیچے جمع ہونے والی گیس کا ذریعہ کیا ہے۔ جب گڑھا نمودار ہوتا ہے تو اس وقت تک تمام گیس خارج ہو چکی ہوتی ہے۔‘
نٹالی اس پہیلی کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ یہاں کوِئی نیا یا انتہائی قدیم جیوکیمیکل عمل دوبارہ شروع ہو رہا ہے، جس کے بارے میں شاید ابھی تک انھیں کچھ علم نہیں۔
محققین ہمت کر کے ان گڑھوں میں بھی کئی بار اُتر چکے ہیں اور وہاں موجود پاںی میں میتھین گیس کے اثرات نظر آئے ہیں، جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ شاید یہ گیس کہیں زمین کے نیچے سے باہر آ رہی ہے۔
محققین کے پاس ایک تھیوری اور بھی موجود ہے جس کے مطابق پانی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہو رہی ہے جس کے سبب انھیں گڑھوں کے اندر بُلبُلے بنتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ میتھین گیس برف کے اندر سے لیک ہو رہی ہو کیونکہ گیس برف کے اندر بھی جمع ہو سکتی ہے اور اسے سائنسی زبان میں ’گیس ہائیڈریٹ‘ کہا جاتا ہے۔
جب یہ چھوٹے ٹیلے پھٹتے ہیں تو ایک حسین منظر سامنے آتا ہے جیسا کہ پھٹتی ہوئی زمین اور اس سے کئی فٹ بلند ہوتی مٹی اور برف۔ یہ قوت اتنی شدید ہوتی ہے کہ اس سے زمین کے ٹکڑے تین، تین فٹ کی بلندی تک اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پیچھے ایک گڑھا رہ جاتا ہے۔
جون 2017 میں بھی ایک ایسا ہی دھماکا سُنا گیا تھا اور قریب واقع ایک علاقے کے رہائشی کہتے ہیں کہ انھوں نے یہاں سے شعلے اور دھواں اُٹھتا ہوا محسوس کیا تھا۔ ان علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ آگ اور گیس تقریباً 90 منٹ تک جلتی رہی تھی۔
ایک ایسا علاقہ جہاں یہ پرُاسرار واقعات پیش آ رہے ہوں وہاں لوگوں کی موجودگی بہت سے خدشات کو جنم دیتی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں آئل اور گیس کی لائنیں بھی موجود ہیں۔
نٹالی کہتی ہیں کہ ’ہم یہ بات واضح طور پر نہیں کہہ سکتے کہ یہاں رہائش پزیر لوگوں کو کوئی خطرہ ہے یا نہیں۔‘
نٹالی اور ان کے دوست اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس خطے میں ایسے بہت سے گڑھے اور بھی موجود ہیں جنھیں اب تک انسانی آنکھ نے نہیں دیکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اب تک دو ایسے مزید مقامات کا سُراغ لگا چکے ہیں جہاں ایسے گڑھے موجود ہیں۔‘
نٹالی اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ مزید گڑھوں کی دریافت ان کی تحقیق کو آگے بڑھائے گی اور انھیں مزید سوالات کے جوابات مل سکیں گے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا مقصد ہے کہ ہم اس جگہ پر پہنچ جائیں جہاں ہم ان کے نمودار ہونے سے پہلے ان کی موجودگی کے حوالے سے آگاہی حاصل کر سکیں۔‘
الیگزینڈد کزیاکوو اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ کچھ جھیلوں کے نیچے گیس سے بھرے گڑھے موجود ہوں۔ لیکن یہ کہنا قبل ازوقت ہو گا کہ یہ جھیلوں کو وسعت دینے کا قدرتی عمل ہے یا نہیں۔‘
آرکٹک سرکل میں درجہ حرارت حالیہ دور میں تیزی سے بڑھنا شروع ہوا ہے جس کے سبب گرمی کے موسم میں برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اس کے سبب اس خطے میں ایک تبدیلی برپا ہو رہی ہے اور لینڈ سلائیڈنگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
نٹالی کہتی ہیں کہ ’اس زمین پر ایسی کوئی دوسری جگہ نہیں جہاں موسمیاتی تبدیلی اتنی تیزی سے اثرانداز ہو رہی ہو۔‘
آرکٹک میں برف کی تہہ کے نیچے کاربن موجود ہے جو اکثر پودوں یا دوسری شکل میں ہوتی ہے اور یہ میتھین کے ساتھ بڑے بڑے برف کے ٹکڑوں میں پھنسی ہوئی ہے۔
ایوگینی کا کہنا ہے کہ جیسے ہی زمین کی سطح کُھلتی ہے ویسے ہی کاربن اور میتھین گیس باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میتھین کا شمار گرین ہاؤس گیسز میں ہوتا ہے اور اس کے اخراج کے سبب سبب گلوبل وارمنگ کا عمل تیزی اختیار کر رہا ہے۔
اگر جزیرہ نما یمال میں بھی یہ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آرکٹک میں موجود برف کمزور ہوتی جا رہی ہے اور اس سے نہ صرف یہ خطے تبدیل ہو گا بلکہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دِکھنا شروع ہو جائیں گے۔
نٹالی کے مطابق جزیرہ نما یمال میں ان گڑھوں کا نمودار ہونا دنیا کو اشارہ دے رہا ہے کہ آرکٹک میں کوئی بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔
جزیرہ نما یمال میں نمودار ہونے والے گڑھوں کی پہیلی اب تک سلجھی نہیں ہے لیکن جو منظر اب تک سامنے آئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔