آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چینی کمپنی کے سستے مسافر طیارے جو بوئنگ اور ایئر بس کی اجارہ داری ختم کر سکتے ہیں
- مصنف, سورنجنا تیواری
- عہدہ, نامہ نگار برائے ایشیا بزنس، بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
یہ منظر سنگاپور ایئر شو کا ہے جہاں نمائشی ہالز میں ہوائی جہازوں کے ماڈل، کاک پٹ کے فرضی ڈھانچے اور انٹرایکٹو ڈسپلے رکھے گئے ہیں۔ یہاں جدید کمرشل ہوائی جہازوں سے لے کر ہوا بازی کی ٹیکنالوجی تک، سبھی کچھ موجود ہے۔
سنگاپور ایئر شو میں ایک بوتھ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جو کہ مسافر طیارے بنانے والی چین کی سرکاری کمپنی کومیک کا ہے۔
اس ادارے کے تیار کردہ مسافر طیارے سی 919 نے دو سال پہلے سنگاپور کی طرف پہلی اُڑان بھری تھی۔
یہ طیارہ ایئر بس اے 320 نیو اور بوئنگ 737 میکس سے مقابلے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور چین سے باہر کی منڈیوں کو بھی اپنا ہدف بنا رہا ہے۔
ایشیا پیسیفک کا خطہ ہوابازی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈی ہے۔ ایسے وقت میں جب فضائی کمپنیاں ترسیل میں تاخیر اور سپلائی چین کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، کومیک کے لیے یہ ایئر شو ایک موقع ہے کہ وہ خود کو ایشیا پیسیفک میں ایئر بس اور بوئنگ کا ممکنہ حریف ثابت کر سکے۔
بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے ڈائیریکٹر جنرل ولی والش نے بی بی سی کو بتایا: ’میرا خیال ہے ایک وقت میں کومیک دنیا بھر کو ٹکر دے گا لیکن اس میں وقت لگے گا۔
’آج سے 10، 15 سال بعد ہم بوئنگ، ایئر بس اور کومیک کی بات کر رہے ہوں گے۔ بلاشبہ وہ مستقبل کے اہم کھلاڑی ہوں گے۔‘
والش کہتے ہیں کہ طیارے دستیاب ہوئے تو ہی ایشیا پیسیفک کی فضائی کمپنیاں سنہ 2026 میں دو ہندسوں کی شرح سے ترقی دیکھ سکتی ہیں۔ اُن کے مطابق ’یہ فضائی کمپنیوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہے، طیارے کا آرڈر دینے اور اسے حاصل کرنے کے درمیان تقریباً سات سال کا وقت لگتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہی وجہ ہے کہ کومیک ایشیا پیسیفک کی فضائی کمپنیوں کے لیے ایک اور انتخاب کے طور پر ابھر رہی ہے۔
اس وقت چین میں 150 سے زیادہ کومیک طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لاؤس، انڈونیشیا اور ویتنام میں بھی کومیک کے طیارے اڑانیں بھر رہے ہیں۔ برونائی کی کمپنی گیلپ ایئر نے کومیک طیاروں کا بڑا آرڈر دیا ہے اور کمبوڈیا بھی 20 کے قریب طیارے خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ایشیا پیسیفک ایئرلائنز ایسوسی ایشن کے ڈائیریکٹر جنرل سبھاس مینن کہتے ہیں کہ ’سامان فراہم کرنے والوں کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ سپلائی چین میں رکاوٹ نہ آئے۔ اس صنعت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ سپلائی چین پر چند کمپنیوں کی اجارہ داری ہے اور بعض اوقات صرف دو کمپنیوں کی بھی۔‘
اُنھوں نے مزید کہا: ’ہم طویل عرصے سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کومیک ایک خوش آئند اضافہ ہے۔ ہمیں زیادہ سپلائرز کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایشیا پیسیفک میں۔‘
کمپنی ایک اچھے مقام پر ہے۔ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں کومیک کو دستیاب سرکاری حمایت اور قدرے سستے طیارے اسے محدود سرمایے کی حامل فضائی کمپنیوں کے لیے پُرکشش بناتی ہے۔
فلپائن کی کم لاگت والی فضائی کمپنی سیبو پیسیفک کے چیف ایگزیکٹو مائیک سزکس نے بی بی سی کو بتایا: ’مستقبل میں آنے والی نئی کمپنیوں کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہماری شدید خواہش ہے کہ اس شعبے میں مقابلہ بازی کی فضا ہو۔
’کومیک کو اپنی سرٹیفیکیشن کے عمل سے گزرنا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ سنہ 2030 کی دہائی میں کسی وقت کومیک ہمارے لیے اور دیگر فضائی کمپنیوں کے لیے پُر کشش ہو گی۔‘
ایشیا پیسیفک میں توسیع کے ساتھ ساتھ کومیک یورپی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ ریگولیٹر کومیک کے تیار کردہ سی 919 طیارے پر پروازیں کر کے اس کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ طیارہ کامیاب ٹھہرا تو اسے یورپی فضائی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی اجازت مل جائے گی۔
لیکن آگے کا سفر خاصا طویل ہے۔
ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ یورپی سرٹیفیکیشن ملتے ملتے سنہ 2028، حتیٰ کہ سنہ 2031 بھی آ سکتا ہے۔ اس وقت چینی پرزوں، فلائٹ کنٹرولز اور سافٹ ویئر کو مغرب کے مطابق ڈھالنا بھی بین الاقوامی آرڈرز کے لیے ایک تکنیکی پیچیدگی ہے۔
طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کا نظام کومیک کے لیے ایک اور رکاوٹ ہے، پائلٹس کی تربیت بھی۔ یہ وہ شعبے ہیں جن میں بوئنگ اور ایئر بس جیسی کمپنیوں نے کئی دہائیاں پہلے سے باقاعدہ نظام بنا رکھا ہے۔
ایشیا پیسیفک میں کومیک کو بوئنگ اور ایئر بس کے علاوہ بھی ایک اور مقابلہ درپیش ہے۔
یہ ہے برازیل کی طیارے بنانے والی کمپنی ایمبریئر جو خطے میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ سنگاپور کی کم لاگت والی ایئرلائن سکوٹ، ورجن آسٹریلیا اور جاپان کی آل نپان ایئرلائنز (اے این اے) ایمبریئر طیاروں کی خریداری کے لیے آرڈر دے رہی ہیں۔
تاہم بوئنگ اور ایئر بس کے سنگاپور ایئر شو کے ساتھ ساتھ خطے میں بھی قدم تا حال مضبوط ہیں۔ فضائی کمپنیاں جو کئی سال سے طیاروں کی ترسیل میں تاخیر سے تنگ ہیں، بوئنگ اور ایئر بس ان فضائی کمپنیوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ ترسیل کی رفتار بہتر ہونے جا رہی ہے۔
سیبو پیسیفک کے مائیک سزکس کہتے ہیں: ’یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ شاید ہم سرنگ کے آخر میں روشنی دیکھ سکیں۔‘
کومیک کی جانب سے طیاروں کی فراہمی کی تعداد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پہلے اس نے کہا تھا کہ چینی فضائی کمپنیوں نے اسے ایک ہزار سی 919 مسافر طیارے دینے کے آرڈر دے رکھے ہیں۔ لیکن ابھی تک صرف درجن بھر طیارے ہی فراہم کیے گئے ہیں۔
اس تعداد کی تصدیق کرنا بھی مشکل ہے کیوں کہ بوئنگ اور ایئر بس کے برعکس کومیک چین کی سرکاری کمپنی ہے۔ یعنی اس کے لیے اپنی پیداوار، اخراجات اور آمدن عوام کے سامنے لانا لازمی نہیں۔
جب تک کومیک ان مسائل میں سے کچھ یا سبھی مسائل حل نہیں کرتی، غالب امکان یہی ہے کہ ایشیا پیسیفک کی فضاؤں میں بوئنگ اور ایئر بس کی حکمرانی قائم رہے گی۔