24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور ’آپریشن موغادیشو‘: وہ کارروائی جس کے بعد امریکی فوج کو صومالیہ سے نکلنا پڑا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی
اگر آپ صومالیہ کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو قحط، خشک سالی، سفاک آمر، متحارب قبائل اور انارکی یعنی بدامنی نظر آئے گی۔
لیکن صومالیہ ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ سنہ 1980 کی دہائی میں صومالیہ اس قدر شدید خشک سالی کا شکار ہوا کہ اس کا بنیادی ڈھانچہ ہی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
ایسی صورت حال میں سنہ 1992 میں امریکہ کے فرسٹ میرین ڈویژن اور سپیشل فورسز کے کچھ فوجی وہاں امدادی کارروائیوں کے لیے بھیجے گئے۔ اس وقت صومالیہ میں فعال حکومت ہی نہیں تھی۔ اقتدار پر قابض ہونے کے لیے دو گروہوں کے درمیان جنگ جاری تھی۔
ایسے میں پانچ جون سنہ 1993 کو محمد فرح عیدید کے حامی جنگجوؤں نے گھات لگا کر 24 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تو اس کے جواب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے عیدید اور صومالی قومی اتحاد کے ارکان کی گرفتاری کا حکم دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عیدید کے لوگوں کو گرفتار کرنے کا مشن
میٹ ایورسمین اور ڈین شیلنگ اپنی کتاب ’بیٹل آف موغادیشو‘ میں لکھتے ہیں: ’امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی ہدایت پر امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ نے عیدید کو پکڑنے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی۔‘
26 اگست 1993 کو امریکی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے اہلکاروں کی ایک ٹیم موغادیشو ایئرپورٹ کے مرکزی ہینگر پر پہنچی۔
پانچ ہفتے بعد ایک اتوار کی دوپہر ان فوجیوں نے ’گوتھک سرپنٹ‘ نامی آپریشن شروع کیا۔ یہ ان کا ساتواں اور آخری آپریشن تھا۔
اس وقت تک صومالیہ کے لوگ دس سال سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لڑائی کا کافی تجربہ حاصل کر چکے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
واضح رہے کہ موغادیشو شہر کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ تھی اور ان میں سے زیادہ تر لوگوں کے پاس ہتھیار تھے۔
تین اکتوبر 1993 کو امریکیوں کو معلوم ہوا کہ اولمپک ہوٹل کے ساتھ والی عمارت میں عیدید کے دو قریبی افراد ملاقات کر رہے ہیں۔
فیصلہ ہوا کہ اس عمارت پر حملہ کرکے ان لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ یہ ہوٹل موغادیشو کے بیچوں بیچ بکارا مارکیٹ میں واقع تھا۔
امریکی فوج میں شامل میٹ ایورسمین لکھتے ہیں: ’ہمیں موغادیشو میں ایک عمارت پر حملہ کرنا تھا۔ 3:32 پر ہمارے ہیلی کاپٹروں نے اپنے ہدف کے لیے اڑان بھری۔‘
’ہدف تک پرواز کا وقت صرف تین منٹ تھا۔ یہ ایک گنجان آباد علاقہ تھا جس میں عیدید کے حامی چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے۔ ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ ہم اپنا پورا آپریشن آدھے گھنٹے میں مکمل کر لیں گے۔ لیکن ہمارا یہ مشن ہمارے ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے بعد ایک ریسکیو آپریشن میں بدل گیا۔‘
’جیسے ہی ہم نے ٹیک آف کیا، ہمارے پائلٹوں نے اطلاع دی کہ صومالی سڑکوں پر ٹائر جلا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ٹائر جلانا صومالی جنگجوؤں کی طرف سے کوڈ لینگویج ہے تاکہ اپنے لوگوں کو حملے سے خبردار کیا جا سکے۔ دوسروں کا خیال تھا کہ ٹائر جلا کر وہ امریکی حملہ آوروں کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہیلی کاپٹروں کے پنکھوں سے اڑتی دھول
اس مشن میں 12 بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں اور 100 کے قریب امریکی فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔
ہر ہیلی کاپٹر میں چار فوجی تھے اور انھوں نے کالے رنگ کی بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ انھوں نے ریڈیو ایئر پلگ کے اوپر پلاسٹک کی ہیلمٹ پہن رکھی تھی۔ ان کے پاس ایک مائیکروفون تھا جس کے ذریعے وہ سب ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں تھے۔ ہیلی کاپٹر پرہجوم علاقے میں اترنے لگے تو نیچے کھڑے لوگ اور کاریں ادھر ادھر ہونے لگیں۔
ہیلی کاپٹر کے پنکھوں کی تیز ہوا کی وجہ سے کچھ لوگ زمین پر بھی گر گئے۔ نیچے کھڑے کچھ لوگ اوپر کی طرف اشارہ کر رہے تھے جیسے وہ ہیلی کاپٹر کو نیچے اترنے اور لڑنے کا چیلنج دے رہے ہوں۔
مارک باؤڈن اپنی کتاب ’بلیک ہاک ڈاؤن اے سٹوری آف ماڈرن وار‘ میں لکھتے ہیں: ’پہلے دو ہیلی کاپٹر ہدف والی عمارت کے جنوب میں اترے، ان کی لینڈنگ نے اتنی دھول اڑا دی کہ دوسرے ہیلی کاپٹروں میں موجود پائلٹ اور فوجی نیچے کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھے۔‘
’پہلا ہیلی کاپٹر دوسرے ہیلی کاپٹر کی جگہ اتر گيا جس کی وجہ سے دوسرے ہیلی کاپٹر کو پھر اڑان بھرنی پڑی اور وہ براہ راست ہدف والی عمارت کے سامنے اترا۔ لینڈنگ کی جگہ پہلے سے طے نہیں کی گئی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک فوجی ہیلی کاپٹر سے نیچے گرا
جیسے ہی امریکی فوجی اترنے لگے ایک حادثہ پیش آ گیا۔ ایک فوجی ٹوڈ بلیک برن 70 فٹ کی بلندی سے ہیلی کاپٹر سے سیدھا زمین پر جا گرا۔
اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے میٹ ایورسمان لکھتے ہیں: ’میں نے اترنا شروع کیا تو میں ہیلی کاپٹر کی طرف دیکھنے لگا۔ دستانے پہننے کے باوجود میرے ہاتھ نائیلان کی رسی سے جل رہے تھے۔ میں نے نیچے دیکھا کہ مجھے اور کتنا نیچے جانا ہے۔ جب میں نے نیچے دیکھا تو میرا دل دھک سے رہ گیا۔ نیچے ایک جسم تھا۔‘
’پہلا خیال جو میرے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ کسی کو گولی لگی ہے۔ شاید وہ مر گیا ہے؟ جب میرے پاؤں زمین سے لگے تو میرے پاؤں تقریباً اس جسم کو چھو گئے۔ اس کی ناک، کان اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ بے ہوش تھا۔'‘
انھوں نے مزید لکھا: ’ہیلی کاپٹر سے اترتے ہوئے اس کے ہاتھ سے رسی چھوٹ گئی تھی اور وہ 70 فٹ کی بلندی سے گرا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے بارے میں جاننا چاہا تو پتا چلا کہ ہم پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی فوجی کی موت
پہلے تو صومالی باشندوں کی گولیاں نشانے پر نہیں لگ رہی تھیں لیکن پھر انھوں نے درست طریقے سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
سڑک کے بیچوں بیچ ایک گاڑی کھڑی تھی۔ صومالی اس کی آڑ لے کر امریکیوں پر گولیاں چلا رہے تھے۔
وہ ایک عمارت کے کنارے سے گاڑی کی طرف بھاگتے، گاڑی کی آڑ لیتے اور گولی چلا دیتے اور پھر سڑک کے دوسری طرف بھاگ جاتے۔
اسی دوران بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں نے بھی اوپر سے صومالی جنگجوؤں پر فائرنگ شروع کر دی۔ لیکن صومالی جنگجو بھی ہر گولی کا جواب گولیوں سے دے رہے تھے۔ اس سب کے باوجود امریکی فوجی 19 مطلوب باغیوں کو پکڑنے میں کامیاب رہے۔
میٹ ایورسمین لکھتے ہیں: ’گولیوں کی آواز اتنی تیز تھی کہ اس سے میرے دانت بجنے لگے۔ پھر ہمارے ساتھی سارجنٹ کیسی جوائس کو گولی لگی۔ حالانکہ انھوں نے کیولر جیکٹ پہن رکھی تھی، گولی ان کے پہلو سے ہوتی ہوئی ان کے جسم میں ایسی جگہ پر چلی گئی جو جیکٹ سے نہیں ڈھکی ہوئی تھی۔ ان کی چوٹ اس قدر معمولی تھی کہ میں نے انھیں نظر انداز کر دیا۔‘
’لگا کہ وہ زیادہ تکلیف میں نہیں ہیں، وہ صرف میری طرف دیکھتے رہے۔ لیکن جب ہمارے ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا تو انھوں نے اشارہ کیا کہ اس کی لاش ٹرک میں ڈال دی جائے۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میری ٹیم کا یہ رکن مر چکا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلیک ہاک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار
اس وقت بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کی پہلی ترجیح زخمی فوجی بلیک برن اور پکڑے گئے باغیوں کو ان کے ٹھکانے تک پہنچانا تھی۔
پھر ریڈیو آپریٹر مائیک کارتھ نے دیکھا کہ ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بہت نیچے چکر لگا رہا ہے۔
کارتھ لکھتے ہیں: ’یہ دیکھ کر مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ پھر میں نے دیکھا کہ ہیلی کاپٹر نیچے جا رہا ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ پائلٹ ایک زاویہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ جہاز میں موجود سنائپرز کو درست ہدف لینے کا موقع مل سکے۔ لیکن ہیلی کاپٹر مسلسل گھومتا رہا اور نیچے گرتا رہا۔‘
’ایک پورا چکر لگانے کے بعد ہیلی کاپٹر عمارتوں کے پیچھے غائب ہو گیا۔ میں نے حادثے کی آواز نہیں سنی لیکن مجھے معلوم تھا کہ کیا ہوا ہے۔ میں نے فوری طور پر سب کو مطلع کیا، ’وی ہیو اے برڈ ڈاؤن‘ (یعنی ہمارا ایک پرندہ گر گيا ہے)۔ اس وقت گھڑی پر 4:18 بج رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہلاکتوں میں اضافہ
اس دوران امریکی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔
ایک امریکی آپریٹر ایک چوراہے کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور گلی کے ایک کونے سے تقریباً چار یا پانچ فٹ کے فاصلے پر تھا کہ ایک گولی اس کے ہیلمٹ میں لگی۔
مائیک کارتھ لکھتے ہیں: ’اس کا ہیلمٹ ہمارے ہیلمٹ جیسا مضبوط نہیں تھا۔ گولی لگتے ہی اس کا سر پیچھے کی طرف جھک گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کے سر کے پچھلے حصے سے خون کا ایک فوارہ نکلا جس نے پیچھے دیوار کو سرخ کر دیا۔ وہ زمین پر گر گیا۔‘
’میں نے جو دیکھا اس پر مجھے یقین نہیں آیا۔ جیسے ہی وہ زمین پر گرا، ایک اور آپریٹر نے اسے کھینچنے کی کوشش کی۔ لیکن ابھی وہ دو ہی قدم چلا ہوگا کہ اسے بھی گولی لگ گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوجیوں کو ٹرکوں پر لاد کر سٹیڈیم لے جایا گیا
موغادیشو میں پھنسے امریکی فوجیوں کی مدد کے لیے دیگر فوجی رات کے 2 بجے تک ہی وہاں پہنچ سکے۔ لیکن وہاں لڑنے والے امریکی فوجیوں نے مردہ چیف وارنٹ آفیسر کلف والکوٹ کی لاش لیے بغیر جانے سے انکار کردیا۔
والکوٹ کی لاش ابھی تک گرائے گئے ہیلی کاپٹر کے اندر پھنسی ہوئی تھی جسے وہ اڑا رہے تھے۔ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد وہ ان کی لاش نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن تب تک تقریباً صبح ہو چکی تھی۔
صبح 5:42 پر انھوں نے تمام مرنے والوں کو ٹرکوں میں لاد دیا۔ تب انھیں معلوم ہوا کہ ٹرک میں ان لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی جو زخمی نہیں ہوئے تھے۔
مارک باؤڈن لکھتے ہیں: ’بچنے والے فوجی ان ٹرکوں کے پیچھے بھاگے اور اولمپک ہوٹل تک پہنچے۔ یہ جگہ ہیلی کاپٹر کے حادثے کی جگہ سے صرف 400 سے 600 میٹر کا فاصلے پر تھی۔ بعد میں اس فاصلے کو ’موگادیشو مائل‘ کہا گیا۔‘
’وہاں سے تمام لاشوں اور زخمی فوجیوں کو ٹرکوں پر لاد کر سٹیڈیم لے جایا گیا۔ یہ جگہ وہاں تعینات پاکستانی امن فوج کا اڈہ تھی۔ تمام راستے عیدید کے حامی ٹرکوں کے قافلے پر فائرنگ کرتے رہے، جس میں دو ملائیشین فوجی مارے گئے۔‘
’اس آپریشن میں کل 88 فوجی زخمی ہوئے۔ یہ تمام تھکے ہارے فوجی صبح ساڑھے چھ بجے تک ہی سٹیڈیم پہنچ سکے۔ سٹیڈیم میں موجود ڈاکٹر بروس ایڈمز ایک وقت میں ایک یا دو مریضوں کو دیکھنے کے عادی تھے جبکہ وہاں پورا سٹیڈیم خون آلود امریکی فوجیوں سے بھرا ہوا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صومالی زخمیوں سے بھرا ہسپتال
موغادیشو کا ہسپتال بھی زخمی صومالیوں سے بھر گیا۔ سرجن عبدی محمد ایلمی کے کپڑے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ زخمیوں کو دیکھتے دیکھتے وہ تھک گئے تھے۔
مارک باؤڈن لکھتے ہیں: ’رکاوٹوں کی وجہ سے گاڑیاں سڑکوں پر چلنے کے قابل نہیں تھیں۔ اس لیے زخمیوں کو ٹھیلوں میں لایا جا رہا تھا۔‘
لڑائی شروع ہونے سے پہلے یہ ہسپتال مکمل طور پر خالی تھا۔ 4 اکتوبر کی شام کو ہسپتال کے تمام 500 بستر بھر گئے۔ مزید 100 زخمیوں کو ہسپتال کے برآمدوں میں رکھا گیا ہے۔
تین بستروں والے آپریٹنگ تھیٹر میں رات بھر کام جاری رہا۔ پورا ہسپتال لوگوں کی چیخ و پکار سے بھرا ہوا تھا۔
خون میں لت پت لوگوں کے اعضاء یا تو ان کے جسموں سے جدا ہو گئے تھے یا ان پر بہت گہرے زخم تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنی آخری گھڑیاں گن رہے تھے۔
ڈگفر ہسپتال میں زخمیوں اور مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکن پائلٹ یرغمال
اس پورے آپریشن میں 18 امریکی فوجی مارے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس حملے میں 315 سے 2000 کے درمیان صومالی زخمی یا ہلاک ہوئے۔
ایک امریکی فوجی کی تقریباً برہنہ لاش کو موغادیشو کی سڑکوں پر گھسیٹ کر لے جانے کا لرزہ خیز منظر پوری دنیا نے دیکھا۔
اس کے علاوہ صومالیوں کے ہاتھوں پکڑے گئے بلیک ہاک پائلٹ مائیکل ڈیورنٹ کی ٹی وی فوٹیج بھی پوری دنیا میں دکھائی گئی جس میں صومالی ان سے سوالات کرتے نظر آئے۔
ڈیورنٹ کو 11 دن کے بعد رہا کیا گیا۔ ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشیں بھی امریکی حکام کے حوالے کی گئیں۔
ڈیورنٹ نے ریڈ کراس کے کارکنوں کو بتایا کہ اسے مکوں اور لاٹھیوں سے پیٹا گیا۔ ان کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور تقریباً برہنہ حالت میں ہجوم کے سامنے پریڈ کی گئی۔
جب ڈاکٹروں نے ڈیورنٹ کا معائنہ کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ اس کی ایک ٹانگ، کمر اور گال کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ان کی ٹانگوں اور کندھوں پر بھی گولیوں کے معمولی زخم آئے تھے۔
ان کی ٹانگ پر پلاسٹر ضرور باندھا گیا تھا لیکن ہڈی جڑی نہیں تھی۔ یہ دن ڈیورنٹ کے لیے خوشی اور غم دونوں لے کر آیا۔
اس دن انھیں معلوم ہوا کہ ان کے سپر سکس ہیلی کاپٹر کے عملے میں سے صرف ایک وہی زندہ بچے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے فوج واپس بلا لی
سات اکتوبر کو صدر بل کلنٹن نے مارچ 1994 تک صومالیہ سے تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کر دیا۔
چند ماہ بعد امریکہ کے وزیر دفاع لیس سپین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ٹاسک فورس رینجر کے کمانڈر جنرل ولیم گیریسن کا کرئیر بھی وقت سے پہلے ختم ہو گیا۔
اس واقعے کا اثر یہ ہوا کہ چھ ماہ بعد اسی علاقے میں ہونے والی روانڈا کی نسل کشی میں امریکہ نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔
عیدید نے دعویٰ کیا کہ ان کے لوگوں نے اپنے ملک سے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت کو نکال باہر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کا قبیلہ اب بھی تین اکتوبر کو قومی تعطیل کے طور پر مناتا ہے۔ عیدید زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہے۔ اس آپریشن کے تین سال بعد وہ وفات پا گئے۔












