بہاولپور کے چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے میں موجود لاش کی شناخت مکمل، سکیورٹی لیپس کا اعتراف

،تصویر کا ذریعہDC Office
- مصنف, احتشام شامی
- عہدہ, صحافی
حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب میں ضلع بہاولپور کے چڑیا گھر میں بنگالی نسل کے شیروں کے حملے سے ہلاک شخص کی شناخت ان کے فنگر پرنٹ اور جیب میں پڑے کارڈ کی مدد سے کر لی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر بہاولپور ظہیر انور جپہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا نام محمد بلاول جاوید بتایا ہے جو ان کے بقول لاہور کے رہائشی تھے اور ان کے خلاف تین مختلف مقدمات میں لاہور کے مختلف تھانوں میں چالان ہوچکا تھا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق محمد جاوید کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بلاول منشیات کا عادی تھا۔ اس سے قبل انتظامیہ نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے نوجوان چڑیا گھر کی انتظامیہ کا حصہ نہیں اور ان کے جسم پر پنجوں کے ساتھ ساتھ انجیکشن کے نشانات پائے گئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک ٹیموں پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا ہے تاہم اب تک اس کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی ہدایت پر معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی تھی۔
اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد چڑیا گھر کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے آئے سکول ٹرپس منسوخ ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDC Office
’کہیں نہ کہیں سکیورٹی لیپس ہوا‘
حکام کے مطابق مرنے والے شخص کی شناخت کے لیے ضلعے کے تمام تھانوں اور یونین کونسلوں کو متوفی کی تصاویر بھجوائی گئیں لیکن جب فنگر پرنٹس کی رپورٹ موصول ہوگئی تو بہاولپور میں ورثا کی تلاش جاری کام روک دیا گیا۔
بہاولپور پولیس ترجمان محمد عمر سلیم کے مطابق پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت تھانہ کوتوالی میں شکایت کا اندراج کر لیا ہے اور ’اگر کوئی جرم سرزد ہونے کی رپورٹ یا درخواست موصول ہوگی تو اس پر قانون کے مطابق مقدمہ درج کر لیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’متوفی کے ورثا کی طرف سے ابھی تک لاش کے حصول کے لیے پولیس سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ تاہم پولیس ازخود ورثا سے رابطہ کر کے لاش پہنچا دے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ادھر ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ فشریز ساؤتھ پنجاب ڈاکٹر انصر چٹھہ کا کہنا ہے کہ ’یہ بات معمہ بنی ہوئی ہے کہ مرنے والا کہاں سے آیا اور چڑیا گھر کے اندر کیسے گیا۔ اس کی آواز یا چیخ و پکار تک کسی نے نہیں سنی۔‘
ڈی جی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بھی واضح نہیں ہوسکی کہ مرنے والا شخص رات کو چڑیا گھر کے اندر آیا یا پھر صبح سویرے ’کیونکہ ہمیں تو دن گیارہ بجے کے بعد پتا چلا کہ یہاں شیر کے احاطہ میں لاش پڑی ہے۔ شیر کے احاطہ میں دو الگ الگ کمرے ہیں، ایک کمرے میں میل شیر ہے جبکہ دوسرے کمرے میں فی میل (شیرنی) اور اس کے دو بچے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ عام طور پر چڑیا گھر کا عملہ ڈیوٹی پر موجود ہوتا ہے، کوئی جانوروں کو خوراک ڈالتا ہے تو کوئی پنجروں کی صفائی کرتا ہے۔ لیکن چونکہ پنجرے کافی زیادہ ہیں اس وجہ سے کسی کو واقعے کے بارے میں پتا نہیں چل سکا۔‘
ڈی جی کہتے ہیں کہ چڑیا گھر کے مین گیٹ پر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں مگر ’اب مزید کیمرے لگائے جائیں گے اور کچھ خطرناک جانوروں کے پنجروں پر بھی کیمرے لگیں گے۔
’سکیورٹی انتظامات تو پہلے سے موجود ہیں لیکن کہیں نہ کہیں تو سکیورٹی لیپس ہوئے ہیں۔ ہماری ترجیح انھیں بہتر بنانا ہوگی۔‘

،تصویر کا ذریعہDC office
جب شیر کے منھ میں جوتے سے ہلاکت کا علم ہوا
اس واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب بدھ کو 11:30 بجے کے قریب چڑیا گھر کی صفائی کا عملہ شیر کے پنجرے اور احاطہ کی صفائی کرنے وہاں پہنچا تو ایک اہلکار نے شیر کے منھ میں ایک جوتا دیکھا۔
اہلکار کے شور مچانے پر جب دیگر اہلکار بھی وہاں اکٹھے ہوگئے تو انھوں نے شیر کے پنجرے کے اندر ایک شخص کی لاش دیکھی جسے جانوروں نے کاٹ کھایا تھا۔
ڈپٹی کمشنر ظہیر انور جپہ کا کہنا ہے کہ وہ ہوم سیکرٹری پنجاب کے ساتھ آن لائن کانفرنس میٹنگ کر رہے تھے جب انھیں اس واقعہ کی اطلاع ملی جس پر وہ ہوم سیکریٹری کے نوٹس میں یہ بات لائے اور میٹنگ چھوڑ پر ہنگامی طور پر چڑیا گھر پہنچے جہاں سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی۔
ان کے مطابق ’چڑیا گھر کے عملے سے اس بارے الگ الگ پوچھ گچھ کی گئی لیکن اس واقعہ کے محرکات سامنے نہیں آسکے اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ مرنے والے شخص کا دماغی توازن درست نہیں تھا جو رات گئے اندھیرے میں اس پنجرے میں کود گیا ورنہ کوئی ذی شعور ایسا اقدام نہیں اٹھا سکتا۔‘
ڈپٹی کمشنر نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے حالات و واقعات کا بغور جائزہ لیا ہے اور چڑیا گھر کے عملے کی سرگرمیوں کے بارے معلومات حاصل کی ہیں۔
’صبح ساڑھے گیارہ بجے معمول کے مطابق چڑیا گھر کی صفائی کی جاتی ہے ۔ شیروں کے احاطہ اور پنجروں کی صفائی پر مامور ایک اہلکار عنایت مسیح نے آج اچانک شور مچایا کہ ایک شیر کے منھ میں جوتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’وہاں موجود دیگر اہلکار بھی دوڑتے ہوئے اس احاطے میں پہنچے تو انھوں نے اندر دیکھا تو وہاں انسانی لاش پڑی تھی جس پر شور مچ گیا۔پہلے پہل تو یہ شک گزرا کہ یہ چڑیا گھر کے عملے کا ہی کوئی فرد ہوگا لیکن پھر جب سارے سٹاف کی دو تین بار گنتی کی گئی تو سٹاف پورا تھا۔‘
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ شخص رات کے کسی وقت پنجرہ پھلانگ کر اس میں داخل ہوا ہے جس پر شیر نے حملہ کیا اور مرنے والے شخص کے کپڑے بھی خون میں لت پت تھے۔
بہاولپور پولیس کے ترجمان محمد عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے سکیورٹی گارڈز سے پوچھ گچھ کی ہے جنھوں نے بتایا کہ انھوں نے نہ تو رات گئے اور نہ ہی آج صبح کوئی شور شرابہ یا چیخ و پکار کی آوازیں سنیں۔
پولیس کی ابتدائی انکوائری کے مطابق ’اس شخص کو آتے جاتے کسی نے نہیں دیکھا اور ہماری اطلاعات یہی ہیں کہ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کسی وقت پیش آیا ہے اور آج صبح ساڑھے گیارہ بجے کے بعد رپورٹ ہوا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’چڑیا گھر کے گردونواح کے سی سی ٹی وی کیمروں سے رات گئے لوگوں کے آنے جانے کا ریکارڈ چیک کیا جارہا ہے یہ شخص کس طرح چڑیا گھر کے اندر داخل ہوا اور رات گئے شہریوں کے چڑیا گھر آنے جانے کے اوقات کار کیا ہوتے ہیں اس بابت بھی ڈائریکٹر چڑیا گھر سے تفصیلات مانگی گئی ہیں جن کی روشنی میں پولیس قانونی کارروائی کرے گی۔‘










