کیا والدین کا انتہائی حساس ہونا بچوں کی پرورش کو متاثر کرتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ چھوٹے بچوں کے والدین سے پوچھیں کہ کیا انھوں نے کبھی ایسا محسوس کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں سے تنگ آچکے ہیں؟ شاید سب کا جواب ہاں میں ہوگا۔
کسی بھی گھر کا ماحول کتنا ہی اچھا اور پُرسکون کیوں نہ ہو، کوئی نہ کوئی دن ایسا ضرور ہوتا ہے کہ بچوں کا شور اور افراتفری حد سے زیادہ ہو جاتی ہے اور والدین اس سے تنگ آ جاتے ہیں۔
یہ ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن یہ آپ کی شخصیت کا ایک پہلو ہے جو آپ کی گھریلو زندگی کو متاثر کرتا ہے۔
سنہ 2018 کی ایک تحقیق کے مطابق، تقریباً 20 سے 30 فیصد لوگ انتہائی حساس افراد (ایچ ایس پی) کے زمرے میں آتے ہیں۔
آپ کی یہ حساسیت کسی بو، منظر یا آواز کے لیے ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگوں کو چمک دار اور شوخ رنگوں یا اونچی آواز سے پریشانی ہوتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں اس موضوع پر زیادہ باتیں ہونے لگی ہیں۔
تو پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے جانیں کہ آپ انتہائی حساس انسان ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپ کتنے حساس ہیں؟
اس کے لیے مختلف یونیورسٹیوں سے وابستہ کئی سائنسدانوں نے مفت آن لائن ٹیسٹ تیار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انھوں نے اپنے مطالعے میں پایا کہ انتہائی حساس ہونا کوئی عارضہ نہیں ہے، یہ آپ کی شخصیت کا صرف ایک حصہ ہے۔
آسان الفاظ میں کہا جائے کہ آپ کتنے حساس ہیں، اس بات کا تعین اس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے کہ آپ اپنے اردگرد کے ماحول پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
ایک عام آدمی کے لیے یہ ایک عام سی بات ہو سکتی ہے لیکن والدین کے لیے حد سے زیادہ حساس ہونا بڑی بات ہے۔
دہلی کے سینیئر ماہر نفسیات ڈاکٹر شیخ عبدالبشیر کہتے ہیں کہ خصلت اور ذہنی خرابی میں فرق ہوتا ہے اور ہر خصلت خرابی نہیں ہوتی۔
ان کے مطابق خرابی اس وقت ہوتی ہے جب آپ کی کچھ عادتیں آپ کی زندگی میں تبدیلی لانے لگتی ہیں۔
کوئن میری یونیورسٹی آف لندن کے ایک ماہر نفسیات مائیکل پلوس، جنھوں نے مفت آن لائن ٹیسٹ تیار کرنے میں مدد کی ہے، کہتے ہیں کہ غیر مستحکم ماحول میں انتہائی حساس والدین کو درپیش چیلنجز ان کے بچوں کی پرورش پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ والدین کے لیے ابتدائی مراحل حساس لوگوں پر دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن جب ان کے بچے نو ماہ کے ہو جاتے ہیں، تو ان کی پرورش میں نمایاں بہتری آنے لگتی ہے۔
لیکن خاص بات یہ ہے کہ تحقیق بتاتی ہے کہ انتہائی حساس ہونے کے کچھ فوائد بھی ہیں۔
مائیکل پلوس کے مطابق، انتہائی حساس والدین اپنے بچوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور اپنے بچوں کی ضروریات کے متعلق زیادہ تیزی اور بہتر طریقے سے جواب دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPRASHANTI ASWANI
انڈیا میں اس بارے میں بات چیت ضرور شروع ہوئی ہے، لیکن ابھی تک کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں جو یہ بتا سکے کہ انڈیا میں کتنے فیصد لوگ انتہائی حساس ہیں۔
ڈاکٹر شیخ عبدالبشیر کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ابھی تک ایسی کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہے۔ لیکن یہاں ایسے والدین کی ایک بڑی تعداد ہے جن کے لیے انتہائی حساسیت ایک بڑا مسئلہ ہے۔
پیرنٹنگ کوچ ردھی دیورا کا کہنا ہے کہ والدین کو انتہائی حساس یا غیر حساس قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ زیادہ تر آپ کے ارد گرد کے ماحول اور بعض اوقات آپ کے مزاج پر منحصر ہوتا ہے۔
ردھی دیورا کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ حساس ہونا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن کسی بھی چیز کا بہت زیادہ ہونا برا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق والدین کی دو جہتیں ہیں: دیکھ بھال اور کنٹرول۔ اگر آپ صرف بچے کی دیکھ بھال کر رہے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی حد مقرر نہیں کر رہے ہیں تو یہ بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بہت زیادہ پیار بھی بچوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ردھی کا کہنا ہے کہ والدین کی جانب سے بچوں کو ہر بات کی اجازت ملنا بچوں کے لیے اچھا نہیں ہے۔ ’پرمیسیو پیرنٹنگ‘ کا مطلب ہے بچوں کی اس طرح پرورش کرنا کہ والدین اپنے بچوں میں معمولی سی چوٹ بھی نہ دیکھ سکیں۔
لیکن ایسا کرنا بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ جب بچے گھر سے باہر جاتے ہیں تو وہ نئے ماحول سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔
بچوں کا پودے سے موازنہ کرتے ہوئے ردھی دیورا کا کہنا ہے کہ جس طرح ایک پودے کو پانی اور سورج دونوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بچوں کو بھی دیکھ بھال اور کنٹرول دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ کا بچہ بجلی کے بورڈ کو چھو رہا ہے تو اسے روکنا آپ کا فرض ہے۔

،تصویر کا ذریعہPRASHANTI ASWANI
اگر بچہ بھی والدین کی طرح انتہائی حساس ہو؟
اگر انتہائی حساس والدین کا بچہ بھی انتہائی حساس ہو جائے تو کیا ہو گا؟
ردھی دیوڑا کہتی ہیں کہ زیادہ تر بچے حساس ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی بچے کے چار بنیادی یقین یا اعتماد ہوتے ہیں۔
مجھے وہ سب کچھ ملنا چاہیے جو مجھے پسند ہے، مجھے کوئی کسی بھی کام کرنے سے نہ روکے، اگر میں کسی مقابلے میں حصہ لیتا ہوں تو مجھے پہلی پوزیشن ملنی چاہیے اور میرے پاس بہترین چیزیں ہونی چاہئیں۔ ایسے میں اگر والدین انھیں وہ سب کچھ نہیں دین تو تو بچہ حساس ہو جاتا ہے۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ وہ اپنے جذبات پر کیسے قابو پا سکتے ہیں۔
انتہائی حساس لوگوں کا موازنہ آرکڈ یا ثعلبہ مصری کے پھول سے کیا جاتا ہے اور کم حساس لوگوں کا موازنہ ڈینڈیلین یا ککروندے کے پھول سے کیا جاتا ہے۔
آرکڈ کے پھولوں سے اس لیے موازنہ کیا جاتا ہے کیونکہ حالات ٹھیک نہ ہونے کی صورت میں ان کے لیے زندہ رہنا اور بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کم حساس لوگوں کا موازنہ ڈینڈیلین پھولوں سے اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی ماحول میں آسانی سے زندہ رہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPRASHANTI ASWANI
انتہائی حساسیت اور بقا کا سوال
ردھی دیورا کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے دنیا نہیں بدل سکتے، اس لیے والدین کا کام اپنے بچوں کو اس دنیا کے لیے تیار کرنا ہے۔ جب بچے باہر جاتے ہیں تو انھیں دوسروں کے ساتھ پیار سے رہنا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی انھیں اپنی حفاظت بھی کرنی ہوتی ہے۔
اپنے آپ کو بچانے کے لیے، آپ کے پاس ڈینڈیلین کا معیار ہونا چاہیے اور دوسرے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے آپ کے پاس آرکڈ کا معیار ہونا چاہیے۔
آپ کا بچہ ایسا بنے اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اسی طرح تیار کریں۔
اگر آپ اپنے بچوں کے ساتھ ہمیشہ سختی سے پیش آئیں گے تو اس بات کا امکان ہے کہ وہ یا تو باغی ہو جائے گا یا وہ ہر بات پر ہاں میں ہاں ملانے لگے گا اور اس کی اپنی شخصیت دبی رہ جائے گی۔ بچوں کا باغی ہو جانا یا چھپ کر رہنا دونوں صورتیں بچوں کے لیے اچھی نہیں ہیں۔
ردھی دیورا کا کہنا ہے کہ اس سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ والدین میں آرکڈ اور ڈینڈیلین کا امتزاج ہونا چاہیے۔













