سمیع چوہدری کا کالم: ’اگر فاسٹ بولنگ دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
کیپلر ویسلز کی قیادت میں انگلینڈ کے دورے پر گئی جنوبی افریقی ٹیم جب تیسرے ٹیسٹ کی تیسری صبح اوول کے میدان میں اتری تو خود ڈیوون میلکم کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہاں کیا تاریخ رقم ہونے جا رہی تھی اور وہ کیسے اپنے ’کلٹ‘ میں امر ہونے کو تھے۔
ڈیوون میلکم ایک دلچسپ کردار تھے۔ جمیکا میں پیدا ہونے والے طویل قامت فاسٹ بولر انگلینڈ کی جانب سے تب چنے گئے جب 1989 میں انگلش کرکٹ نے دورہ ویسٹ انڈیز پر جاتے وقت دراز قامت ویسٹ انڈین فاسٹ بولرز کو برابر کی ٹکر دینے کا فیصلہ کیا۔
میلکم نے اپنے مختصر کریئر میں محض چالیس ٹیسٹ میچ کھیلے اور بلا مبالغہ اپنے عہد کے تیز ترین بولر رہے جن کی باقاعدہ ریکارڈ کی گئی تیز ترین گیند 156.1 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکی گئی تھی مگر کئی ایک تنازعات سے ان کا کرئیر مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور ان کا مجموعی ریکارڈ بہت خوش کن نہیں رہا۔
حالانکہ انٹرنیشنل کرکٹ سے پابندی کے کچھ سال بعد جب وہ چالیس کی عمر میں کاؤنٹی سے ریٹائر ہوئے، تب بھی وہ انٹرنیشنل سرکٹ کے تیز ترین فاسٹ بولرز سے تیز ہی بولنگ کر رہے تھے۔
اوول کی پچ پر اس صبح جو تناؤ طاری تھا، اس کے محرک بھی خود ڈیون میلکم ہی تھے جن کا ایک باؤنسر پہلی اننگز میں جونٹی روڈز پر یوں لپکا تھا کہ انھیں میچ سے نکال کر فوری ہسپتال پہنچانا پڑا۔
اب جنوبی افریقی فیلڈرز کے لب و لہجے میں بھی وہی غیض تھا کہ جس نے فینی ڈی ویلئیرز کو اُکسا چھوڑا کہ وہ ویسا ہی جواب میلکم کے منہ پر ماریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حال ہی میں ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میلکم نے بتایا کہ ان کے عہد کے فاسٹ بولرز ایک ان کہے سے معاہدے کی پاسداری میں وضع رکھتے تھے اور لوئر آرڈر میں بیٹنگ پر آتے حریف فاسٹ بولرز کو باؤنسر نہیں کیا کرتے تھے۔
میلکم اپنے تئیں ہی طے کر چکے تھے کہ فینی ڈی ویلیئرز بھی یہ ’معاہدہ‘ نہیں توڑیں گے اور وہ سیدھے بلے سے دفاعی سٹروک کو تیار ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مگر فینی ڈی ویلیئرز کا سرپرائز باؤنسر عین میلکم کی آنکھوں کے سامنے سے ہیلمٹ کو توڑتا ہوا ماتھے سے جا ٹکرایا اور وہ چکرا کر پچھلے قدم پہ ڈگمگا گئے۔ جنوبی افریقی سلپ فیلڈرز نے کچھ جملے بھی کسے اور پھر میلکم نے اپنے حواس مجتمع کیے اور پلٹ کر وہ جملہ کہا جو انگلش کرکٹ میں لوک داستاں بن گیا:
’اگر فاسٹ بولنگ دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو بس اپنی اننگز کے شروع ہونے کا انتظار کرو۔ آج تم لوگ تاریخ کا حصہ بن جاؤ گے‘۔
پھر ڈیوون میلکم نے جنوبی افریقی بلے بازوں کی جرات کچھ یوں آزمائی کہ سیریز بھر میں برتری دکھاتی جنوبی افریقی بیٹنگ فقط دو سیشن کی مہمان ثابت ہوئی اور محض 57 رنز کے عوض 9 وکٹیں حاصل کر کے میلکم نے ایک یادگار جیت انگلش ٹیم کے نام کر دی۔
فاسٹ بولرز میں جب ایسی ’عقابی روح‘ بیدار ہو جائے جیسی حالیہ تاریخ میں وہاب ریاض کے سپیل کی صورت میں نمودار ہوئی تھی تو کرکٹ یک لخت کسی تھیٹر کا روپ دھار لیتی ہے۔ وہاب ریاض میں بھی وہ ’روح‘ بیدار ہونے کے بنیادی محرکات ایڈیلیڈ کی غیر معمولی گرین ٹاپ پر مچل سٹارک کے خطرناک باؤنسرز اور ان پر آسٹریلوی سلپ فیلڈرز کی چرب زبانی تھی۔

،تصویر کا ذریعہ@ACBofficials
اگرچہ احسان اللہ کا کرئیر ڈیون میلکم اور وہاب ریاض سے بالکل الگ مرحلے پر ہے اور یہاں ویسی کوئی ذاتی مخاصمت بھی کار فرما نہ تھی جو احسان اللہ کے اعصاب پر سوار ہوتی مگر اس آخری میچ میں جب اپنی ٹیم کے وقار پر سوالیہ نشان نظر آیا تو احسان اللہ نے بھی افغان جارحیت کو یہ بتلانے کا سوچا کہ فاسٹ بولنگ کس شے کا نام ہے۔
پاکستانی بیٹنگ نے بھی شاندار کاؤنٹر اٹیک کیا اور صائم ایوب نے پچھلے دو میچز کی تلخ یادیں پسِ پُشت ڈال کر اپنی مہارت کا بھرپور اظہار کیا۔ شاداب خان نے بہترین آل راؤنڈ کارکردگی دکھائی اور بجا طور پر میچ کے بہترین کھلاڑی رہے۔
مگر پاور پلے میں جب رحمٰن اللہ گرباز نے عماد وسیم کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کے بعد زمان خان کا اوور بھی خاصا مہنگا ثابت ہوا تو ایک لمحے کو وساوس سے ابھرے اور کلین سویپ کے خدشات بھی امکانات سے ٹکرانے کو تھے۔
احسان اللہ مگر جب پہلے ہی اوور کے لیے آئے تو ان کے ڈسپلن اور جارحیت میں وہ زبردست توازن تھا کہ کمال عیاری سے اوپر تلے دو کلیدی وکٹیں گرا ڈالیں اور اچھے بھلے رن ریٹ پر گامزن افغان اننگز اچانک کہیں دھند میں کھو گئی۔
احسان ابھی اپنے کرئیر کے عین اوائل میں ہیں اور انٹرنیشنل کرکٹ کے تجربے کی بھٹی ہر روز یوں ان پر مہربان بھی نہ ہو گی مگر جس طرح یہاں ان کے سپیل نے شارجہ سٹیڈیم پر سحر طاری کیا، افغان بیٹنگ کی سانس ہی ٹوٹ گئی۔
احسان اللہ نے نہ صرف وائٹ واش کے خدشات ہوا میں اڑا دیے بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی آمد کا نقارہ بھی بجا دیا۔
بہرحال یہی میچ اگر افغانستان کی بجائے کسی ہائی پروفائل ٹیم کے خلاف ہوتا تو یہ سپیل بھی کسی لوک داستاں کی مانند کچھ یادوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا۔










