کیا پاکستان میں سونے کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کی وجہ اس میں ہونے والی سرمایہ کاری ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
’مارکیٹ میں کام نہیں اور جیولرز کے پاس سونے کے زیورات بنانے کے آرڈر کم ہیں جس کی وجہ سے کام شدید متاثر ہوا ہے تاہم دوسری جانب سونے کی طلب زیادہ ہے کیونکہ لوگ اب بسکٹ کی صورت میں زیادہ سونا خرید رہے ہیں۔‘
کراچی میں قادری جیم اینڈ جیولری کے چیف ایگزیکٹو عدنان قادری بتاتے ہیں کہ جیولرز اس صورتحال سے پریشان ہیں کیونکہ ان کا کام اب پہلے جیسا نہیں رہا اور زیورات بنوانے کے لیے اس وقت کم خریدار آ رہے ہیں۔
کراچی کے رہائشی اصغر محمود پراپرٹی کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے ڈیڑھ مہینے پہلے تقریباً پچاس تولے کے لگ بھگ سونا اس وقت خریدا جب انھوں نے اپنی ایک پراپرٹی بیچی۔
اصغر نے بتایا کہ کافی مہینوں سے پراپرٹی کا کام مندی کا شکار ہے اور سمینٹ اور سریے کے مہنگا ہونے کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں اور پراپرٹی کی قیمت بھی اس وقت جمود کا شکار ہے۔
اصغر نے بتایا کہ ڈیڑھ مہینے قبل انھوں نے ڈیڑھ لاکھ روپے فی تولہ سونا خریدا اور صرف ڈیڑھ مہینے میں اس کی قیمت 165000 روپے فی تولہ پہنچ گئی۔
’اس وقت سونے میں سرمایہ کاری ہی سب سے بہتر آپشن ہے کیونکہ دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری میں منافع کچھ اتنا منافع بخش نہیں۔‘
اصغر نے بتایا کہ ڈیڑھ مہینے میں سونے میں سرمایہ کاری سے جو منافع مل رہا ہے وہ اس وقت کسی اور سیکٹر میں نظر نہیں آرہا۔
انھوں نے کہا کہ فی الحال وہ سونے میں سے اپنی سرمایہ کاری نہیں نکالنا چاہتے کیونکہ مارکیٹ میں ایسی خبریں ہیں کہ سونے کی قیمت مزید اوپر جائے گی جو دو لاکھ روپے فی تولہ تک پہنچ سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے سونے کے زیورات کی طلب میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم دوسری جانب سونے کے بسکٹوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک میں سونے کی قیمت میں حالیہ مہینوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور سونے کی قیمت 165000 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی جو ملکی تاریخ میں سونے کی قیمت کی بلند تریں سطح ہے۔
سونے کے کاروبار سے وابستہ افراد سونے کی قیمت میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں اور ان کے مطابق آنے والے سال میں سونے کی قیمت دو لاکھ فی تولہ تک پہنچ سکتی ہے۔
اگرچہ سونے سے بنے ہوئے زیورات جو شادی بیاہ کے موقع پر تیار کیے جاتے ہیں انھیں محفوظ رکھ لیا جاتا ہے اور اکثر خاندانوں میں اسے مشکل وقت میں بیچا جاتا ہے تاہم پاکستان میں سونا سٹاک مارکیٹ، فارن کرنسی اور رئیل اسٹیٹ کے ساتھ سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ اس میں زیادہ سرمایہ کاری ہے جسے ’محفوظ سرمایہ کاری‘ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کے ساتھ اس کی طلب میں میں بھی زیادہ اضافہ دیکھا گیا اور ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جولائی سے ستمبر کے تین ماہ میں سونے کی طلب میں تیس فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔
پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آرہا ہے جب ملک کے معاشی اشاریے گرواٹ کا شکا رہیں۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں جبکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ساتھ سٹاک مارکیٹ گذشتہ کئی مہینوں سے مندی کا شکار ہے جبکہ دوسری جانب ملک میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد پر موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
پانچ سے چھ مہینے قبل فی تولہ سونے کی قیمت 135000 سے 140000 روپے تھی جو دسمبر میں 165000 تک پہنچ گئی اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے سونے کے شعبے کے ماہر اور تاجر احسن الیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ سونے کی قیمت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اس کی طلب میں اضافہ ہے اور اس کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی نے بھی قیمت میں اضافہ کیا۔
مالیاتی امور کے ماہر یوسف سعید نے بتایا کہ سونے کی قیمت عالمی سطح پر بین الاقوامی مارکیٹ اور ڈالر کے ریٹ سے منسلک ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں سونے کی قیمت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ڈالر ریٹ ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکاری ریٹ جو انٹر بینک میں 223 سے 224 تک ہے اس کے مقابلے میں اوپن مارکیٹ کا ریٹ 240-245 تک ہے اور سونے کو اسی اوپن مارکیٹ ریٹ سے منسلک کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ سونے کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 363 کلوگرام سونے کو درآمد کیا گیا تھا جو اس سے گذشتہ مالی سال میں 148 کلو گرام تھا۔
موجودہ مالی سال کے پہلے چار ماہ یعنی جولائی سے اکتوبر کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 157 کلو گرام سونا درآمد کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کے پہلے چار ماہ کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ ہے جب 93 کلو گرام سونا درآمد کیا گیا تھا۔
یوسف نے بتایا کہ اس درآمدی سونے کے علاوہ مقامی طور پر زیورات کو پگھلا کر انھیں بسکٹ کی شکل دی جاتی ہے اور یہ سونا مارکیٹ میں زیادہ موجود ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سونے کی طلب میں اضافہ کیوں ہوا؟
پاکستان میں سونے کی طلب میں اضافے پر بات کرتے ہوئے عدنان قادری نے بتایا کہ اگر جیولرز کے کاروبار کو دیکھا جائے تو سونے کے زیورات کے کم آرڈ آرہے ہیں اور جیولرز اس صورتحال پر پریشان ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ مجموعی طور پر سونے کی طلب بڑھی ہے کیونکہ اب لوگ اس میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور انھیں اس وقت سونے میں سرمایہ کاری سب سے زیادہ پرکشش نظر آرہی ہے۔
قادری نے بتایا کہ جب سے ملک کے دیوالیہ ہونے کی افواہوں میں تیزی آئی ہے تو سونے میں سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے۔
عدنان قادری نے بتایا کہ جس طرح سے کرنسی گر رہی ہے تو لوگوں کا اندیشہ ہے کہ بینکوں میں رکھے ان کے پیسے کی مالیت بہت کم رہ جائے گی اس لیے وہ ایک محفوظ سرمایہ کاری جو گولڈ ایسٹ سمجھی جاتی ہے، اس میں زیادہ تر جا رہے ہیں۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سٹاک، فارن کرنسی، پراپرٹی اور گولڈ اہم ذریعے سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہے اور زمین کی قیمتیں بھی جمود کا شکار ہیں۔ ملک کو اس وقت فارن کرنسی یعنی ڈالر کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ملکی درآمدات کے لیے بھی اس وقت ڈالر دستیاب نہیں۔ درآمد کنندگان بینکوں کی جانب سے ایل سی نہ کھولنے کی شکایت کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب حکومت کی جانب سے فارن کرنسی کی خریداری پر سختی کر دی گئی ہے اور سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری پر حد بھی مقرر کر دی گئی۔
مالیاتی شعبے کے افراد کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب ڈالر کی شدید قلت ہے اور درآمد کے لیے ڈالر دستیاب نہیں ہیں تو سرمایہ کاری کے لیے ڈالر لینا بہت مشکل ہے اور ایسی صورتحال میں سونے میں سرمایہ کاری سب سے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سونے میں سرمایہ کاری کیوں محفوظ سمجھی جاتی ہے؟
سونے میں سرمایہ کاری کتنی محفوظ ہوتی ہے، اس بارے میں یوسف سعید نے بتایا کہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب بھی کساد بازاری ہوتی ہے یا معاشی صورتحال ابتری کا شکار ہوتی ہے تو لوگ زیادہ تر سونے کی طرف جاتے ہیں۔
ان کے مطابق دنیا کی بڑی معیشتوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی وجہ سے بانڈز پر منافع کی شرح بھی بڑھی ہے اور وہ سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش آپشن ہیں تاہم پھر بھی سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
یوسف سعید نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں سونے میں سرمایہ کاری اس لیے پرکشش سمجھی جاتی ہے کہ اس کی خریداری پر کوئی قدغن نہیں۔
انھوں نے کہا کہ کوئی مارکیٹ میں جا کر جتنا سونا خریدنا چاہے خرید سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ رسمی طور پر پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج پر دوسری دھاتوں کے علاوہ سونے کی بھی خرید و فروخت ہوتی ہے تاہم سونے میں سرمایہ کاری زیادہ تر غیر رسمی و انفرادی سطح پر ہوتی ہے۔
احسن الیاس نے اس سلسلے میں بتایا کہ سونے میں سرمایہ کاری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں معیشت دستاویزی نہیں اور لوگوں کے پاس کیش کی صورت میں بہت زیادہ پیسہ موجود ہے اور جب سونے کا نرخ ہر روز بڑھ رہا ہو تو ان کے لیے سب سے زیادہ پرکشش سرمایہ کاری سونے کی صورت میں ہوتی ہے جہاں وہ کیش میں کام کر کے منافع کما سکتے ہیں۔
عدنان قادری نے اس سلسلے میں بتایا کہ سونے میں سرمایہ کاری کو پرکشش اور محفوظ سمجھنا ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہے تاہم انھوں نے کہا کہ اگر سونے کو خرید کر رکھ لیا جائے اور کل پاکستان میں بہت زیادہ معاشی حالات خراب ہوں اور لوگوں کے پاس پیسہ نہ ہو تو یہ سونا کون خریدے گا لیکن اس کے باوجود سونے میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔









