’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا الزام اور ہبت اللہ اخونزادہ سمیت چار طالبان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری: ’افغانستان کسی آئی سی سی کو تسلیم نہیں کرتا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images/ Social Media
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے طالبان کی اعلیٰ قیادت سے تعلق رکھنے والے چار افراد بشمول ہبت اللہ اخونزادہ کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری کے وارنٹ منظرِ عام پر لاتے ہوئے اِن افراد پر افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ظلم و ستم کا الزام عائد کیا ہے۔
دوسری جانب طالبان حکام نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کسی بین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ اس کے کسی فیصلے کو کوئی اہمیت دیتا ہے۔
پیر کے روز آئی سی سی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک فیصلے میں عدالت کے ججوں نے افغان طالبان کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ اور طالبان کے چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے خلاف جولائی 2025 میں جاری وارنٹ عام کر دیے ہیں۔
ان کے علاوہ حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے خلاف جاری وارنٹس بھی منظرِ عام پر لائے گئے ہیں۔
یہ چاروں وارنٹ جولائی اور ستمبر 2025 کے درمیان جاری کیے گئے تھے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ چاروں افراد انسانیت کے خلاف جرائم کے احکامات دینے، اس کی ترغیب دینے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے جرم کے ذمہ دار ہیں۔
آئی سی سی وارنٹس میں کیا کہا گیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان حکام پر عائد الزامات میں صنف کی بنیاد پر ظلم، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں اور منظم اور ادارہ جاتی بنیاد پر پہنچایا جانے والا نقصان بھی شامل ہے۔
صنفی بنیاد پر ظلم
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
آئی سی سی کے مطابق یہ ظلم و ستم لڑکیوں، خواتین اور ان دیگر افراد کے خلاف صنف کی بنیاد پر روا رکھا گیا جو طالبان کی موجودہ حکومت کی صنف، صنفی شناخت یا اس کے اظہار سے متعلق پالیسیوں سے متفق نہیں تھے۔
اس کے علاوہ طالبان حکام کی جانب سے ایسے افراد کو بھی سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا جنھیں ’لڑکیوں اور خواتین کا حامی‘ سمجھا جاتا تھا۔
عدالت کے مطابق یہ جرائم افغانستان میں 15 اگست 2021، جب طالبان نے اقتدار سنبھالا، سے لے کر کم از کم 20 جنوری 2025 تک کیے جاتے رہے۔
بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں
ججوں نے قرار دیا کہ طالبان نے ایسی پالیسی نافذ کی جس کے نتیجے میں شہری آبادی کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔
عدالت نے کہا کہ اگرچہ طالبان کے بعض قواعد و ضوابط سب پر لاگو ہوتے تھے، لیکن لڑکیوں اور خواتین کو خاص طور پر اُن کی جنس کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
حکمناموں اور فتووں کے ذریعے انھیں تعلیم، نجی اور خاندانی زندگی کے حق کے علاوہ نقل و حرکت، اظہارِ رائے، فکر اور مذہب کی آزادی جیسے حقوق سے بڑی حد تک محروم کر دیا گیا۔
دیگر افغان شہریوں کو بھی اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ ان کی جنسی یا صنفی شناخت کے اظہار کو طالبان کی پالیسی کے منافی سمجھا جاتا تھا۔
ججوں نے یہ بھی قرار دیا کہ جن افراد کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا کہ وہ لوگ ان پالیسیوں کے مخالف ہیں، انھیں بھی سیاسی مخالفین کے طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان میں وہ افراد بھی شامل تھے جنھیں 'لڑکیوں اور خواتین کے حامی' قرار دیا گیا تھا۔
منظم اور ادارہ جاتی نقصان
آئی سی سی کی جانب سے جاری وارنٹس میں ججوں نے کہا کہ روم اساس نامے میں صنف کی تعریف محض حیاتیاتی جنس تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون میں حالیہ پیش رفت کے مطابق اس کا دائرہ اس سے وسیع ہے۔
انھوں نے کہا کہ صنف کی بنیاد پر ظلم و ستم کا جائزہ لیتے وقت ان سماجی رویوں اور درجہ بندیوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے جو روایتی طور پر لوگوں سے ان کی جنس کی بنیاد پر منسلک کی جاتی ہیں اور جنھیں عام طور پر صنفی اقدار یا معیارات کہا جاتا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے ظلم و ستم میں صرف براہِ راست تشدد ہی شامل نہیں بلکہ منظم اور ادارہ جاتی سطح پر پہنچایا جانے والا نقصان بھی شامل ہے، جن میں امتیازی سماجی اقدار اور اصولوں کا نفاذ بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ آئی سی سی کے پراسیکیوٹر نے 23 جنوری 2025 کو ابتدائی دو وارنٹس کے لیے درخواست دی تھی، جبکہ ججوں نے اسی سال آٹھ جولائی کو یہ وارنٹس جاری کر دیے تھے۔ ابتدائی طور پر انھیں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ اور عدالتی کارروائی کے مفادات کی خاطر خفیہ رکھا گیا تھا، تاہم عدالت نے ان کے وجود کی تصدیق کر دی تھی۔
اس وقت آئی سی سی کے پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ طالبان کی مزید اعلیٰ قیادت کے خلاف بھی ایسی درخواستیں دائر کی جائیں گی۔
’بین الاقوامی فوجداری عدالت نامی کسی عدالت کو تسلیم نہیں کرتے‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت نے آئی سی سی کی جانب سے اس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف وارنٹ جاری کیے جانے کی مذمت کی ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’افغانستان بین الاقوامی فوجداری عدالت نامی کسی عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے کسی فیصلے کو کوئی اہمیت دیتا ہے۔‘
ایکس پر جاری ایک بیان میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’افغانستان کی اسلامی امارت کے رہنماؤں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی بنیاد پر کسی عدالت کی جانب سے ان کی گرفتاری کی جائے یا انھیں سزا دی جائے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کی حکومت ’انٹیلیجنس اداروں اور نام نہاد عدالتوں کے بجائے اسلامی شریعت اور اس کی عدالتوں کے احکام کو مانتے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’افغانستان توقع کرتا ہے کہ ایسے ادارے اپنی ساکھ اور وقار برقرار رکھنے کے لیے اپنے حدودِ اختیار اور ذمہ داری سے تجاوز کرنے سے گریز کریں گے۔‘
کن افراد کے خلاف وارنٹ جاری کیے گئے؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سنہ 2016 میں طالبان کے سپریم لیڈر بننے والے ملا ہبت اللہ اخونزادہ کے متعلق اندازے لگائے گئے ہیں کہ اُن کی عمر 70 برس سے زیادہ ہے اور وہ نہ صرف دنیا کے لیے بلکہ افغان شہریوں کے لیے بھی ایک پراسرار شخص ہیں۔
اگر آپ انٹرنیٹ پر اُن کی تصویر ڈھونڈنا چاہیں گے تو آپ کو صرف دو تصاویر ملیں گی۔ ان میں سے سب سے زیادہ مقبول ایک پاسپورٹ سائز تصویر ہے جو 1990 میں بنائی گئی تھی۔
طالبان کی جانب سے انھیں امیر مقرر کیے جانے کے بعد بی بی سی کی ایک رپورٹ کے لیے افغان امور کے ماہر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا تھا کہ ملا ہبت اللہ افغان طالبان کی سنہ 1994 میں قندھار سے شروع ہونے والی تحریک کے 33 ارکان کا حصہ نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ ملا ہبت اللہ اصل میں ایک مذہبی رہنما ہیں جن کا جنگی تجربہ کم ہے لیکن طالبان میں دھڑے بندیوں کے باعث ایک مذہبی رہنما کو سربراہ مقرر کیا گیا تاکہ زیادہ لوگوں کو اعتراض نہ ہو۔
ملا ہبت اللہ طالبان کی جنگی کارروائیوں کے حق میں فتوے جاری کرتے رہے ہیں۔ وہ سنہ 2001 سے قبل افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت میں عدالتوں کے سربراہ بھی رہے ہیں۔
سنہ 2023 سے عوام کی نظروں سے اوجھل رہنے والے ہبت اللہ اخونزادہ کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے بی بی سی نے ان کی تقاریر اور جاری کیے گئے احکامات کا جائزہ لیا تھا، جس کی تفصیل اس لنک پر کلک کر کے پڑھی جا سکتی ہے: دنیا کی نظروں سے دور اور پراسراریت کے پردے میں لپٹے افغانستان کے رہبرِ اعلیٰ ہیبت اللہ اخونزادہ کیا سوچتے ہیں؟
عبدالحکیم حقانی

،تصویر کا ذریعہTwitter: Emarat Islami Afghanistan
امریکہ میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے مطابق شیخ عبدالحکیم حقانی اکتوبر 2021 سے طالبان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہیں۔
طالبان تحریک کے بانی رہنماؤں میں شمار کیے جانے والے حقانی کو تنظیم کے اندر سب سے بااثر مذہبی رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
وہ طالبان کی اہم قیادت، جن میں بانی رہنما ملا محمد عمر اور موجودہ امیر ملا ہبت اللہ بھی شامل ہیں، کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں۔ طالبان کے مذہبی فتاویٰ اور پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اُن کا نمایاں اثر و رسوخ ہے۔
مولوی حبیب اللہ آغا

،تصویر کا ذریعہTaliban Social Media
مولوی حبیب اللہ آغا ایک ممتاز مذہبی عالم ہیں جنھیں 20 ستمبر 2022 کو طالبان کا وزیرِ تعلیم مقرر کیا گیا۔
اس عہدے پر تعیناتی سے قبل وہ صوبہ قندھار میں طالبان کی علما کونسل کے صوبائی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے مطابق سنہ 1980 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے پاکستان کے مقامی مدارس میں تدریس کی اور سنہ 1994 میں طالبان تحریک کے قیام کے کچھ ہی عرصے بعد اس میں شامل ہو گئے۔
سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان کے پہلے دورِ حکومت کے دوران وہ صوبہ قندھار کی ابتدائی عدالت میں دیوانِ تعزیرات کے سربراہ کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔
ندا محمد ندیم
شیخ ندا محمد ندیم ایک تجربہ کار طالبان کمانڈر اور سخت گیر مذہبی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ انھیں 16 اکتوبر 2022 کو افغانستان کا اعلیٰ تعلیم کا وزیرِ مقرر کیا گیا۔
امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس سے قبل وہ فروری 2022 سے اکتوبر 2022 تک صوبہ کابل کے گورنر رہے، جبکہ اکتوبر 2021 سے فروری 2022 تک صوبہ ننگرھار کے پولیس سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ پر شائع معلومات کے مطابق شیخ ندا محمد ندیم کو طالبان کے امیر کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جہادی گروہوں کے ساتھ بھی طویل عرصے سے روابط رہے ہیں۔
وہ اس وقت قندھار میں ایک مدرسے کی نگرانی بھی کر رہے ہیں، جس کی بنیاد انھوں نے سنہ 2015 میں رکھی تھی۔
ندا محمد ندیم ان طالبان رہنماؤں میں شامل ہیں جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مبینہ کردار کے باعث یورپی یونین پابندیاں عائد کر چکی ہے۔
ان گرفتاری وارنٹس کا کیا اثر ہو گا؟
برطانیہ سمیت کل 124 ممالک آئی سی سی کے دستخط کنندگان ہیں تاہم ان میں امریکہ، روس، چین اور اسرائیل شامل نہیں ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تکنیکی اعتبار سے اگر یہ افراد آئی سی سی کے دستخط کنندگان ممالک میں سے کسی بھی ملک میں قدم رکھتے ہیں تو انھیں وہاں سے گرفتار کر کے عدالت کے حوالے کیا جانا چاہیے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینیئر ڈائریکٹر ایریکا گویوارا روزاس نے آئی سی سی کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ظلم، صنفی شناخت یا اس کے اظہار کی وجہ سے نشانہ بنائے جانے والے افراد، اور ان کے حامی سمجھے جانے والوں کے خلاف ظلم و ستم کو بھی تسلیم کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس فیصلے کی اہمیت صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات اس سے کہیں وسیع ہیں۔ صنفی امتیاز پر مبنی نظام مردانہ بالادستی کی ایک انتہائی شکل ہے، جس کا مقصد خواتین کی زندگیوں، ان کے جسم، آواز اور مستقبل پر کنٹرول قائم کرنا ہوتا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے اسے ایک ’نہایت اہم فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’صرف اضافی گرفتاری وارنٹس ہی اہم نہیں بلکہ صنف کی بنیاد پر ظلم و ستم کے بارے میں عدالت کا تجزیہ اور طالبان کی پالیسیوں اور طرزِ عمل پر اس کا اطلاق بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔‘




















