اسلام آباد اور کابل میں سخت بیانات کا تبادلہ اور ’روس کا افسوس‘: ’ماسکو فارمیٹ‘ کا مشترکہ اعلامیہ کیوں نہ جاری ہو سکا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی نمائندے زامیر کابلوف کا کہنا ہے کہ ’ماسکو فارمیٹ‘ کے پیر کے روز ہونے والے مشاورتی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ منظور نہیں کیا جا سکا ہے، جس پر روس کو افسوس ہے۔
روس کے سرکاری خبر رساں ادارے ’طاس‘ کے مطابق زامیر کابلوف نے کہا کہ ’حتمی مشترکہ اعلامیے کا مسودہ تیار کرتے وقت ہمیں ایک مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، اور وہ مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے افغان اور پاکستانی ساتھیوں کے درمیان اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا، جس پر ہمیں افسوس ہے۔‘
یاد رہے کہ ’ماسکو فارمیٹ‘ کا آٹھواں اجلاس روسی دارالحکومت میں پیر (پانچ اکتوبر) کو منعقد ہوا تھا۔ ماسکو میں منعقد ہونے والے اِس مشاورتی اجلاس کا مقصد افغانستان میں قومی مفاہمت کے عمل کو فروغ دینا اور وہاں جلد از جلد امن کے قیام کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں افغانستان، پاکستان، انڈیا، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندوں اور سینیئر حکام نے شرکت کی تھی جبکہ بیلاروس اور مصر کے وفود کو اس اجلاس میں بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اس فورم پر پاکستان وفد کی نمائندگی وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اور افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے کی تھی جبکہ اُن کے ہمراہ روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی اور دیگر سیینئر حکام بھی پاکستانی وفد کا حصہ تھے۔
دوسری جانب افغان وفد کی نمائندگی افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کی تھی۔
پیر کو ہونے والے اجلاس کے دوران تقاریر میں پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے پر شدت پسندی کو فروغ دینے سمیت دیگر الزامات بھی عائد کیے جس کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ شاید اس مشاورتی اجلاس کے بعد کسی مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہ ہو پائے۔
اور پھر ایسا ہی ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعلامیہ کیوں نہ جاری ہو سکا؟

،تصویر کا ذریعہPakistan Embassy Russia
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’طاس‘ کے مطابق اجلاس کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی نمائندہ برائے أفغانستان زامیر کابلوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمارے افغان ساتھیوں کا خیال تھا کہ اس سال (مشترکہ اعلامیے کے مسودے کے متن میں) افغانستان کا بہت زیادہ ذکر دہشت گردی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سچ کہوں تو یہ بات ہمارے لیے حیران کُن تھی۔ کیونکہ گذشتہ سال ہونے والے ’ماسکو فارمیٹ‘ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے متن میں بھی یہی الفاظ اور عبارت استعمال کی گئی تھی۔‘
زامیر کابلوف کے مطابق ’تاہم اس مرتبہ افغان فریق کا مؤقف تھا کہ اس کے (ساتویں اجلاس) بعد دوطرفہ تعلقات کی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے، اس لیے اس سال یہ اعلامیہ اُن کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔‘
کابلوف نے مزید کہا کہ ’ماسکو فارمیٹ کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر بھی کام کر سکتا ہے اور اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن اجلاس کے اختتام پر اعلامیے کا جاری ہونا روایت اور طریقۂ کار کے زیادہ مطابق ہوتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ماسکو فارمیٹ ایک پلیٹ فارم کے طور پر برقرار ہے، تاہم یہ دوطرفہ اختلافات کے حل کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ علاقائی تعاون میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔‘
اجلاس کے دوران شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کابل کے ساتھ برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعاون کے فروغ اور افغانستان کو عالمی معیشت میں ضم کرنے کی حمایت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہوں نے اس مؤقف کی بھی توثیق کی کہ افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط اور تعاون جاری رکھا جانا چاہیے۔
اگرچہ مشترکہ اعلامیہ تو جاری نہیں ہو سکا مگر روسی وزارت خارجہ نے اس اجلاس کے بعد اپنے ایک اعلامیے میں کہا کہ ’اجلاس کے دوران شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کابل کے ساتھ برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعاون کے فروغ اور افغانستان کو عالمی معیشت میں ضم کرنے کی حمایت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ انھوں نے اس مؤقف کی بھی توثیق کی کہ افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط اور تعاون جاری رکھا جانا چاہیے۔‘
’پاکستان نے ڈیورنڈ لائن کے قریب ہزاروں جنگجو جمع کر لیے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اس اجلاس کے دوران پاکستان اور افغانستان کے نمائندوں نے سخت تقاریر کیں اور ایک دوسرے پر اپنے اپنے ملک کی سکیورٹی صورتحال کی ذمہ داری عائد کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان میں سکیورٹی کو صورتحال مضبوط بنانے اور منشیات کی کاشت اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور انھیں طالبان حکومت کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
بی بی سی پشتو کے مطابق امیر خان متقی نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ افغانستان تمام مسائل کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے اور ’یہ نہیں چاہتا کہ یہ مسئلہ باہمی الزامات اور پروپیگنڈے کا میدان بن جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ افغانستان کا مقصد اس مسئلے کو برقرار رکھنے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنا نہیں بلکہ مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے، تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی سیاست پر غالب فوجی نظام ایک غیر سیاسی فریق ہے۔ جو افغانستان کے ساتھ تعلقات میں سیاسی فہم کے بجائے صرف فوجی زبان استعمال کرتے ہیں۔‘
پاکستان کی جانب سے حال ہی میں افغانستان کے مختلف علاقوں پر کی جانے والی بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے اسے ’افغانستان کی خودمختاری کے خلاف جارحیت‘ قرار دیا اور کہا کہ ’یہ سلسلہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی فوج ایک طویل عرصے سے افغانستان کی خودمختاری کے خلاف فوجی جارحیت کا ارتکاب کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں موجود مریض، سکولوں اور جامعات کے طلبہ، نیز اپنے گھروں میں موجود بچے، خواتین اور عام شہری مارے جا رہے ہیں۔‘
امیر خان متقی نے پاکستان سے افغان مہاجرین کے انخلا اور تجارتی راستوں کی بندش کو افغان طالبان حکومت پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کا ایک ذریعہ قرار دیا۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’پاکستان نے اب ایک نئے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ انھوں (پاکستان) نے (اشرف غنی کی) سابق حکومت کے فوجی اہلکاروں کے ساتھ مل کر اور داعش کے ارکان کے ذریعے افغانستان میں عدم تحفظ پھیلانے کے لیے عملی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں آنے والے استحکام کو چیلنج کرنے کے لیے ڈیورنڈ لائن کے قریب ہزاروں جنگجو جمع کر لیے ہیں۔‘
امیر خان متقی نے افغان صوبوں بدخشاں اور نورستان میں حالیہ بدامنی کے واقعات کا ذکر کیا اور ان واقعات کا ذمہ دار بھی پاکستان ہی کو ٹھہرایا۔
انھوں نے کہا کہ اُن کی حکومت ’اپنی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کو مکمل خودمختاری کے ساتھ منظم کرے گی اور دباؤ کے نتیجے میں کبھی بھی اپنی بنیادی پالیسیوں سے انحراف نہیں کرے گی۔‘
پاکستان نے کیا کہا؟

،تصویر کا ذریعہPakinRussia
افغانستان کے لیے پاکستان نے نمائندہ خصوصی محمد صادق نے اپنے بیان کی ابتدا میں افغانستان میں امن کی بحالی اور افغان لوگوں کی بنیادی ضروریات پورا کرنے سے متعلق پاکستان کی کوششوں کا تذکرہ کیا، تاہم انھوں نے کہا کہ اس سب کے باوجود افغانستان نے اپنے ہمسایہ ملک کے جائز تحفظات پر غور نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی بدستور افغانستان کا بڑا مسئلہ ہے، جس کی جڑیں طالبان حکومت اور دہشت گرد گروہوں، بشمول ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم، آئی ایس کے پی، القاعدہ اور ان سے وابستہ تنظیموں کے درمیان روابط میں پیوست ہیں۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جو افغان سرزمین پر بلا روک ٹوک سرگرم ہیں۔ صورتحال کو بیرونی عناصر اور تخریب کار مزید خراب بنا رہے ہیں، جو افغانستان کے اندر موجود پراکسی گروہوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنایا جا سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو اپنی تاریخ کے سب سے سنگین سکیورٹی خطرے کا سامنا ہے۔ صرف گذشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زائد بے گناہ پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کوئی بھی ملک ایسی صورتحال برداشت نہیں کرے گا۔‘
محمد صادق نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہزاروں بے گناہ پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار گذشتہ چند برسوں کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والی منصوبہ بندی، مالی معاونت، حمایت اور عمل میں لائے جانے والے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں مارے جا چکے ہیں۔ طالبان حکومت اس میں شریکِ جرم ہے۔ کوئی بھی ذمہ دار ریاست ایسی صورتحال میں غیر فعال نہیں رہ سکتی جب اس کی سلامتی کو بار بار نقصان پہنچایا جا رہا ہو اور اس کے شہریوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہو۔‘
انھوں نے پاکستانی فضائی حملوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں افغان سرزمین سے کیے جانے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں انجام دی جاتی ہیں۔ یہ کارروائیاں درست معلومات پر مبنی، ہدفی اور دفاعی نوعیت کی ہوتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے اقدامات اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے حقِ دفاع کے استعمال کے تحت کیے جاتے ہیں اور یہ اقدامات صرف افغانستان میں موجود ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہوتے ہیں جو خطے اور بیرونی دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔‘
محمد صادق کے بیان کے مطابق ’پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق، اور بطور آخری چارہ تمام مناسب اقدامات کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ پاکستان کی جانب سے کیے گئے تمام اقدامات ان محفوظ ٹھکانوں اور اڈوں کے خلاف جائز دفاعی کارروائیاں ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور تربیت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی شدت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششوں میں صبر و تحمل کے ساتھ مسلسل مصروفِ عمل رہا ہے۔
’تاہم یہ افسوسناک ہے کہ پاکستان کے متعدد خیرسگالی اقدامات اور انتہائی ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو غلط سمجھا گیا، جس کے نتیجے میں افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا اور انھیں طالبان حکومت کی فعال حمایت اور پشت پناہی حاصل رہی۔‘
’پاکستان سرحد پار سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے مضبوط عزم اور ارادے کا اعادہ کرتا ہے اور ہم افغان حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین سے بلا روک ٹوک کارروائیاں جاری رکھنے کی جو مہلت حاصل ہے، اسے ختم کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان قریبی ہمسایہ ممالک ہیں جن کے درمیان تاریخی تعلقات اور برادرانہ روابط موجود ہیں اور افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔
ماسکو فارمیٹ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ماسکو فارمیٹ‘ کا آغاز سنہ 2017 میں روس کی جانب سے کیا گیا تھا اور اس کی پہلی باقاعدہ میٹنگ 14 اپریل 2017 کو ہوئی تھی جس میں 11 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
یہ ایک ایسا علاقائی پلیٹ فارم ہے، جو افغانستان میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کو سکیورٹی، شدت پسندی، سیاسی شمولیت اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام سمیت مختلف امور پر بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔
روس نے سنہ 2017 میں اس فارمیٹ کا آغاز چھ فریقی نظام کے طور پر کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس میں مزید علاقائی ممالک شامل کیے گئے اور یہ افغانستان سے متعلق علاقائی مشاورت کے اہم فورمز میں سے ایک بن گیا۔
جولائی 2025 میں روس کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے کے بعد افغانستان کی اس فارمیٹ میں بطور باضابطہ رُکن یہ دوسری شرکت تھی۔
روس کے علاوہ اس مشاورتی اجلاس میں شریک دیگر ممالک میں سے کسی نے بھی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، اگرچہ اِن میں سے بیشتر ممالک کابل حکام کے ساتھ سفارتی اور دیگر نوعیت کے روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ماسکو فارمیٹ کا پیر کے روز منعقد ہونے والا آٹھواں اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے بارے میں علاقائی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی مسئلے کے باعث طالبان حکام اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔




















