آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا ایران چند ماہ میں ایٹمی طاقت بننے والا تھا؟
- مصنف, ڈیوڈ گریٹن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایران میں تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا مقصد ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو تباہ کرنا اور دنیا میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی نمبر ون ریاست کے جوہری خطرے کو ختم کرنا تھا۔‘
فردو، نطنز اور اصفہان میں حملے ایک ایسے موقع پر کیے گئے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے دسویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور اب ان حملوں کے نتیجے میں امریکہ بھی اس کا حصہ بن گیا ہے۔
اس لڑائی کا آغاز 13 جون کو ایران میں اسرائیل کی جانب سے جوہری اور عسکری اہداف کو نشانہ بنانے سے ہوا تھا جس میں ایران کی عسکری قیادت اور نمایاں جوہری سائنسدان ہلاک ہو گئے تھے۔
حملوں کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے فردو کے یورینیئم کے مرکز اور اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اصفہان میں ایک حملے میں 'دھاتی یورینیئم بنانے کے ایک مرکز، افزودہ یورینیئم کو دوبارہ تبدیل کرنے کے بنیادی ڈھانچے، لیبارٹریوں اور اضافی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔'
اس کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر فضائی اور میزائل حملے کر رہے ہیں جس میں دونوں جانب سے جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
یہ جنگ ایک ایسے موقع پر شروع ہوئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جاری تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایرانی وزیرِ خارجہ نے 13 جون کو ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی جانب سے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر ایک ’غیر ذمہ دارانہ‘ حملہ قرار دیا تھا۔ تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھا تاکہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو روکا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے یہ کارروائی اس لیے کی کیونکہ ’اگر (ایران کو) نہ روکا گیا تو یہ بہت جلد جوہری ہتھیار بنا سکتا تھا۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ’یہ ایک سال کے اندر بھی ہو سکتا تھا۔ کچھ ماہ میں بھی ہو سکتا تھا۔‘ اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 'اس خطرے کو دور کرنے کے لیے جتنے دن لگیں' اتنے دن تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس بھی جوہری ہتھیار ہیں تاہم وہ اس کی تصدیق کرتا ہے نہ تردید۔
کیا ایسے شواہد موجود ہیں کہ ایران ایٹمی طاقت بننے کی کوشش کر رہا تھا؟
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے پاس انٹیلی جنس اطلاعات موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت نے ایٹم بم بنانے کے لیے ضروری سمجھے جانے والے ہتھیاروں کے حصے تیار کرنے کی کوششوں میں ’ٹھوس پیش رفت‘ کی ہے۔ اس میں یورینیئم میٹل کور اور نیوکلیئر دھماکے کرنے کے لیے ضروری نیوٹرون سورس انیشیئیٹر شامل ہیں۔
امریکہ میں قائم آرمز کنٹرول اسوسی ایشن میں عدم پھیلاؤ کی پالیسی کی ڈائریکٹر کیلسی ڈیون پورٹ کہتی ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اس متعلق کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے نزدیک تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی ماہ سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار فیژن مواد تیار کرنے کے بہت نزدیک ہے۔ ’اسی طرح یہ دعویٰ بھی کوئی نیا نہیں کہ ایران چند ماہ کے اندر جوہری ہتھیار بنا سکتا تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ایران کی کچھ کارروائیاں ایسی تھیں جو بم بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندازوں کے مطابق ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے پر کام نہیں کر رہا تھا۔
ڈیون پورٹ کہتی ہیں کہ اگر نتن یاہو کو خالصتاً ایران کے جوہری پھیلاؤ کے خطرے کا ڈر تھا تو اسرائیل ممکنہ طور پر اس انٹیلی جنس کو امریکہ کے ساتھ شیئر کرتا اور ابتدائی حملے میں ایران کی تمام اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا۔
رواں سال مارچ میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر تاریخ کی ’بلند ترین سطح‘ پر ہیں اور کسی ایسی ریاست میں اس کی نظیر نہیں ملتی جس کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کا اب بھی یہ ’اندازہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور اس کے رہبرِ اعلیٰ [آیت اللہ علی خامنہ ای] نے 2003 میں معطل کیے گئے جوہری ہتھیاروں کا منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کی منظوری نہیں دی ہے۔‘
گذشتہ روز جب صحافیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کے پاس ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے کیا معلومات ہے کیونکہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی پہلے کہہ چکی ہے کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'پھر میری انٹیلی جنس کمیونٹی غلط ہوگی۔ انٹیلیجنس کمیونٹی میں کس نے ایسا کہا ہے؟'
ایک صحافی نے انھیں بتایا کہ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گبارڈ نے ایسا کہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ: 'وہ غلط ہیں۔'
امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس، تلسی گبارڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اگر ایران چاہے تو وہ چند ہفتوں میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انھوں نے میڈیا پر الزام لگایا کہ اس نے مارچ میں سینیٹ کمیٹی میں دی گئی ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا۔ اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کا ماننا ہے کہ ایران فی الحال جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ تلسی گبارڈ ایران کے ارادوں کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں۔
دوسری جانب، ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے۔
آئی اے ای اے نے گذشتہ ہفتے اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران 60 فیصد تک خالص یورینیئم افزودہ کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے جو ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد یورینیئم افزودگی کے بہت نزدیک ہے۔
رپورٹ کے مطابق افزودہ یورینیئم کی مقدار اتنی ہے جس سے ممکنہ طور پر نو ایٹم بم بنائے جا سکتے ہیں۔ آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ جوہری پھیلاؤ کے خطرات کے پیش نظر یہ معاملہ ’سنگین تشویش‘ کا باعث ہے۔
ائی اے ای اے کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ ایرانی جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن تھا کیونکہ ایران تین غیر اعلانیہ جوہری مقامات سے ملنے والے انسانی ساختہ یورینیئم کے ذرات کی تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا۔
ہم ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
ایران ہمیشہ سے زور دیتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس نے کبھی نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی ہے۔
تاہم آئی اے ای اے کی ایک دہائی تک جاری رہنے والی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ایران نے 1980 کی دہائی کے اواخر سے 2003 تک ایسی متعدد ’سرگرمیاں انجام دیں جو ایٹمی دھماکہ خیز ڈیوائس کی تیاری‘ کے زمرے میں آتی ہیں۔ تاہم 2003 میں ’پروجیکٹ امد‘ نامی اس منصوبے کو روک دیا گیا تھا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھی 2009 تک ایران نے مختلف سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس وقت مغربی طاقتوں نے زیرِ زمین افزودگی کے مرکز فردو کا انکشاف کیا تھا۔ تاہم آئی اے ای اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس کے بعد سے ہتھیاروں کی تیاری کے ’کوئی قابل اعتماد شواہد‘ نہیں ملے ہیں۔
سنہ 2015 میں ایران نے دنیا کی چھ طاقتوں کے ساتھ ایک جوہری معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے بدلے اس نے نہ صرف اپنی جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں قبول کیں بلکہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو سخت نگرانی کی اجازت بھی دی۔
اس معاہدے کے تحت ایران پر افزودہ یورینیئم کی پیداوار پر بھی قدغن لگائی گئی۔ یہ یورینیئم جوہری ری ایکٹر کے ایندھن کے طور پر استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
لیکن 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران اس معاہدے کو یہ کہتے ہوئے ختم کر دیا کہ اس سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں زیادہ مدد نہیں ملی اور انھوں نے ایران پر امریکی پابندیاں بحال کر دیں۔
ایران نے اس کے جواب میں تیزی سے پابندیوں کی خلاف ورزی کی، خاص طور پر افزودگی سے متعلق پابندیوں کی۔
جوہری معاہدے کے تحت فردو میں 15 سال تک افزودگی کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم 2021 میں ایران نے 20 فیصد تک یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دی۔
جمعرات کو آئی اے ای اے کے 35 ملکی بورڈ آف گورنرز نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ ایران نے 20 سالوں میں پہلی بار جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ ’محفوظ مقام‘ پر ایک نئی یورینیئم افزودگی کی سہولت قائم کرے گا اور فردو پلانٹ میں یورینیئم کی افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے فرسٹ جنریشن سینٹری فیوجز کی جگہ جدید چھٹی جنریشن کی مشینیں نصب کرے گا۔
یورینیم ہے کیا اور آتی کہاں سے ہے؟
یورینیم ایک بھاری قدرتی دھات ہے جو چٹانوں، مٹی اور یہاں تک کہ سمندر کے پانی میں بھی پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ زمین کی تہہ بھی میں وسیع پیمانے پر پائی جاتی ہے لیکن اسے صرف چند مقامات سے ہی نکالا جا سکتا ہے۔
یہ دھات قازقستان، کینیڈا، آسٹریلیا، اور افریقہ کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ ایران کے پاس بھی یورینیم کے اپنے ذخائر ہیں جسے وہ اپنے صوبے یزد میں صغند اور صوبہ ہرمزگان میں گچین جیسے علاقوں میں موجود کانوں سے نکالتا ہے۔
لیکن یورینیم اپنی قدرتی حالت میں توانائی کی پیداوار اور ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا 99 فیصد حصہ یورینیم 238 پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ جوہری ری ایکشن پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ لیکن اس میں موجود یورینیم 235 ایسا نایاب آئسوٹوپ ہے جو کہ انتہائی قیمتی ہے لیکن یہ صرف یورینیم دھات کا صفر اعشاریہ سات فیصد حصہ ہی ہوتا ہے۔
جب یورینیم 235 میں موجود ایٹم جُدا ہوتے ہیں تو ان میں سے توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔ جوہری پاور پلانٹس میں اس توانائی کو استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے، لیکن ایک جوہری بم میں اس کا ری ایکشن بہت تیز ہوتا ہے، بے قابو ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے دھماکے ہوتے ہیں۔
افزودگی کیا ہے اور اس کی عام سطح کتنی ہوتی ہیں؟
بجلی اور ہتھیار دونوں ہی کی تیاری کے دوران یورینیم 235 کی مقدار بڑھانے کے لیے کام کیا جاتا ہے اور اسی عمل کو افزودگی کہتے ہیں۔ یورینیم کی سطح اور افزودہ شدہ مقدار ہی اس بات کا تعیّن کرتی ہے کہ اسے پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا ہے یا پھر عسکری مقاصد کے لیے۔
یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے سینٹری فیوجز کا استعمال کیا جاتا ہے جو گیس کی شکل میں یورینیم سے یورینیم 235 اور یورینیم 238 کو علیحدہ کرتے ہیں۔
یورینیم کی افزودگی کے موضوع پر جن سطحوں کا ذکر آتا ہے انھیں مختلف کٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے:
قدرتی یورینیم: اس میں صرف صفر اعشاریہ سات فیصد یورینیم 235 موجود ہوتی ہے جو کہ توانائی کی پیداوار یا بم بنانے کے لیے ناکافی ہے۔
کم افزودہ یورینیم: یہ قدرتی یورینیم کا پانچ فیصد ہوتی ہے جسے سویلین نیوکلیئر پاور پلانٹس میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تین اعشاریہ 67 فیصد یورینیم کی حد 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں طے کی گئی تھی۔
درمیانے درجے کی افزودہ یورینیم: اس کی 20 فیصد مقدار کا استعمال ریسرچ ری ایکٹرز میں ہوتا ہے۔ یورینیم کی اس قسم کا استعمال میڈیکل آئسوٹوپس کی تیاری، سائنسی تجربات کرنے اور انڈسٹریل مشینری کی تیاری میں ہوتا ہے۔
انتہائی افزودہ یورینیم: 60 فیصد سے زیادہ افزودہ یورینیم ہتھیار بنانے کے قابل ہونے کے قریب تر سمجھے جاتی ہے اور ایران کے پاس اس کا وسیع ذخیرہ موجود ہے جس کے سبب مغرب اور آئی اے ای اے کو تشویش ہے اور عمومی طور پر اسے ہتھیار بنانے کی تیاری سمجھا جاتا ہے۔
ہتھیار بنانے کے قابل یورینیم: 90 فیصد افزودہ شدہ یورینیم کو ہتھیار بنانے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ آئی اے ای اے سمجھتی ہے کہ 25 کلوگرام 90 فیصد افزودہ یورینیم ایک جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
یورینیم جتنی زیادہ افزودہ ہوگی جوہری ہتھیار بنانے کا خطرناک سفر مزید کم ہوتا جائے گا۔
یورینیم کی افزودگی کے لیے 3.67 فیصد کی حد کہاں سے آئی اور اتنی مقدار کس لیے استعمال ہو سکتی ہے؟
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان سنہ 2015 میں ایک جوہری معاہدہ ہوا تھا اور اس معاہدے میں تہران کے لیے یورینیم افزودگی کی حد تین اعشاریہ 67 فیصد مقرر کی گئی تھی۔ یہ حد ایک سیاسی اور تکنیکی معاہدے کے تحت مقرر کی گئی تھی جس کا مقصد ایران کو جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کا حق دینا تھا اور عالمی برادری کو یہ یقین دہانی کروانا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
تکنیکی طور پر تین اعشاریہ 67 فیصد تک افزودہ یورینیم جوہری توانائی کے ری ایکٹر میں استعمال ہو سکتی ہے۔ افزودگی کی مقرر کردہ یہ حد جویری ری ایکٹرز میں کنٹرولڈ ری ایکشن پیدا کرنے کے لیے کافی ہے لیکن اس سے جوہری ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ حد ایران کے جوہری بریک آؤٹ ٹائم (بم کے لیے مواد تیار کرنے میں لگنے والا وقت) کو تقریباً ایک سال تک بڑھانے کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ اس کے سبب عالمی برادری کو جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں سفارتی اور تکنیکی ردِ عمل دینے کا وقت مل جاتا ہے۔
ہتھیار بنانے کے قابل یورینیم کیا ہے اور ایران 60 فیصد ذخیرہ تشویش کی وجہ کیوں ہے؟
ہتھیار بنانے کے قابل افزودہ یورینیم میں آئسوٹوپ 235 کی مقدار 90 فیصد ہوتی ہے۔ اس مواد کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے سطح تک پہنچنے کے بعد ایک بے قابو ری ایکشن جنم لیتا ہے اور اس کے نتیجے میں دھماکہ ہوتا ہے۔
یورینیم جتنی زیادہ افزودہ ہوگی اگلا مرحلہ اتنا ہی آسان ہوگا۔ اسی سبب ایران کے پاس موجود 60 فیصد افزودہ شدہ یورینیم بہت سے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اس کے سبب ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ اس کا کوئی غیر عسکری استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی پاور ری ایکٹر یا سائنسی پراجیکٹ کو 60 فیصد افزودہ ہورینیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔
لہٰذا ایران کے پاس موجود یورینیم کے ذخیرے کی موجودگی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پیداوار کا اصل مقصد کیا ہے؟ تشویش کی بات یہ ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کے حامل ایران نے اپنا 'نیوکلیئر بریک تھرو ٹائم' یعنی ہتھیار بنانے کے لیے درکار وقت کو کم کر کے چند ہفتوں تک کر دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران چاہے تو مختصر وقت میں ایٹم بم بنانے کے قریب پہنچ سکتا ہے۔