سرحد پار جمی نظریں اور ’کوریئر‘ کا انتظار: انڈیا کا نیا اینٹی ڈرون نظام جو ’چٹا‘ کی سمگلنگ روکنے کے لیے بنایا گیا ہے

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اروند چھابڑا
    • عہدہ, بی بی سی چندی گڑھ

آدھی رات کے قریب سب انسپکٹر ونود شرما نے آسمان میں ایک مدھم سی گھن گھناہٹ سنی۔ امرتسر کے سرحدی علاقوں کے اوپر ایک ڈرون اندھیرے سے نمودار ہوا۔۔۔ تیز رفتار مگر خاموش اور ایسا سامان لے کر جو پنجاب کے خاندانوں کے لیے وہ تباہی لانے والا تھا جو برسوں تک ان کا پیچھا کرتی۔

چند لمحوں بعد رات کی خاموشی کو گولیاں کی آواز نے توڑ دیا۔

گولیوں سے خوفزدہ ہو کر ڈرون نے پاکستان کا رخ کیا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے ایک مشکوک پیکٹ گر گیا جو اگلی صبح برآمد ہوا۔

اس میں دو کلو سے زائد ہیروئن کے مضبوطی سے پیک کیے گئے پیکٹ تھے۔

سکیورٹی فورسز نے ایک اور ڈرون کی آواز کا سراغ لگاتے ہوئے امرتسر سے چند اضلاع دور گرداسپور سے دو نوجوانوں ایک کھیت سے گرفتار کیا۔ ان کی عمریں بیس کے قریب ہوں گی۔

ڈرون تو غائب ہو گیا لیکن اس کے گرائے گئے 500 گرام ہیروئن کے پیکٹ وہاں سے برآمد ہوئے۔

ایسے واقعات اب عام ہو گئے ہیں۔ یہ انڈین پنجاب کی پاکستان کے ساتھ 553 کلومیٹر لمبی سرحد کے قریب ہونے والے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

سمگلر اب ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے خاموشی سے منشیات انڈیا کے مختلف علاقوں میں پہنچا رہے ہیں جہاں مقامی کورئیر رات کی تاریکی میں ان کا انتظار کرتے ہیں۔

لیکن اب انڈین پنجاب کی حکومت اپنی مشینوں سے ان کا جواب دے رہی ہے۔

یہاں سب سے عام نشہ ہیروئن یا چِٹا ہے

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آج کے پنجاب میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں رہی جہاں گاؤں کی گلیوں میں نوجوان لڑکے لڑکھڑاتے قدموں اور سرخ آنکھوں کے ساتھ آوارہ گھومتے دکھائی دیتے ہیں یا بیس کی دہائی کی لڑکیاں گھروں کی چار دیواری کے پیچھے خاموشی سے نشے کی لت سے لڑ رہی ہیں۔

منشیات خصوصاً ہیروئن جسے مقامی طور پر چِٹا کہا جاتا ہے، کچھ کمیونٹیز میں اس حد تک عام ہو گئی ہیں کہ کسی کو ’نشے کی حالت‘ میں دیکھنا اب حیران کن نہیں لگتا۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ چیز پریشانی کا باعث تھی لیکن اب اسے ایک عام سی حقیقت کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔

لدھیانہ کی 24 سالہ کالج کی طالبہ جسپریت کور بتاتی ہیں ’کسی بھی مقامی پارٹی میں چلے جائیں، آپ خود دیکھ لیں گے کہ اب صرف شراب نہیں چل رہی ہے۔ گولیاں، پاؤڈر، انجیکشن۔۔۔ سب کو پتہ ہے کیا چل رہا ہے۔ اب تو لوگ اس پر مذاق بھی کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر سندیپ بھولا پنجاب کے ڈی ایڈکشن پروگرام کے افسر ہیں۔ ان کے لیے یہ نقصان محض اعدادوشمار نہیں بلکہ ذاتی اور بہت بڑا ہے۔

پورے صوبے کے 577 سرکاری اور 147 پرائیویٹ مراکز میں دس لاکھ افراد رجسٹرڈ ہیں۔

سندیپ بھولا کہتے ہیں کہ ’عورتوں کی تعداد اب بھی کم ہے اور یہ محض 1300 کے لگ بھگ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ موجود نہیں۔ زیادہ تر خواتین بدنامی کے خوف سے سامنے نہیں آتیں۔‘

یہاں سب سے عام نشہ ہیروئن یا چِٹا ہے۔

’باز-اَکھ‘ کیا ہے؟

x/@Ferozepurpolice

،تصویر کا ذریعہx/@Ferozepurpolice

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے پنجاب نے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے۔ یوں یہ انڈیا کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اینٹی ڈرون سسٹم (اے ڈی ایس) تعینات کیے ہیں۔

یہ ایک ایسے بحران کا ہائی ٹیک جواب ہے جس نے گھر اجاڑ دیے ہیں۔۔۔ نشے کی لت کو بڑھایا ہے اور حکام کو سمگلروں کی بدلتی حکمتِ عملی کے سامنے بے بس کر دیا ہے۔

’باز-اَکھ‘ کہلانے والا یہ نظام مشکوک ڈرونز کا سراغ لگانے اور انھیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تین یونٹ پہلے ہی فعال ہیں جبکہ مزید چھ جلد تعینات کیے جائیں گے۔ ان سسٹمز پر ریاست نے 51 کروڑ روپے سے زائد لاگت خرچ کی ہے اور انھیں دفاع کی ایک اہم دیوار سمجھا جا رہا ہے۔

اس پیش رفت نے سرحدی اضلاع کی پولیس کو نئی امید دی ہے۔ ایسے ہی حساس ضلع ترن تارن کے پولیس چیف دیپک پریِک کہتے ہیں کہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ڈرون دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی میں پولیس کیا کر سکتی ہے۔

دیپک پریِک کہتے ہیں کہ ’لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ یہ سسٹمز ہمیں ڈرون کے اصل مقام تک پہنچنے اور اس کے سامان کو زمین پر گرنے سے پہلے ہی روکنے میں مدد دیں گے‘۔

انھوں نے زیادہ تفصیلات بتانے سے گریز کیا لیکن تصدیق کی کہ یہ سسٹمز خودکار الرٹس اور بی ایس ایف، فوج اور ایئر فورس کے ساتھ ریئل ٹائم کوآرڈی نیشن رکھتے ہیں۔

ان کے بقول اینٹی ڈرون سسٹم پنجاب کی ’دوسری دفاعی لائن‘ ہے، ایک مضبوط شہری ڈھال جو بی ایس ایف کی صفِ اوّل کی کوششوں کو نئی طاقت اور سہارا فراہم کرتی ہے۔

ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ڈرونز ان لوگوں کے لیے ہتھیار بن چکے ہیں جو پنجاب کی نوجوان نسل کو تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اب پنجاب مقابلہ کر رہا ہے‘۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

منشیات اور سیاست

منشیات کا استعمال پنجاب کے سب سے سنگین مسائل میں سے ایک ہے اور سب سے زیادہ متنازع سیاسی موضوع بھی۔

2017 کے انتخابات سے قبل کیپٹن امریندر سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے صرف چار ہفتوں کے اندر منشیات کا خاتمہ کر دیں گے۔ انھوں نے یہ وعدہ ایک مقدس کتاب پر حلف لے کر کیا تھا۔ وہ وزیراعلیٰ تو بن گئے لیکن منشیات کا مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہا۔

اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی اسی نوعیت کے وعدے کیے۔ تازہ ترین وعدہ عام آدمی پارٹی کی طرف سے کیا گیا تھا جس نے 31 مئی 2025 تک منشیات کے خاتمے کا اعلان کیا۔

اگرچہ یہ ڈیڈ لائن بھی گزر گئی اور مسئلہ پوری طرح ختم نہیں ہو سکا لیکن حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ اس حکمتِ عملی میں اینٹی ڈرون سسٹمز (اے ڈی ایس) کی تنصیب کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

حکومت نے اسے ’منشیات کے خلاف جنگ‘ کا نام دیا ہے۔ رواں سال یکم مارچ سے اب تک پنجاب پولیس نے منشیات سے متعلق 17 ہزار 125 مقدمات درج کیے ہیں، 26 ہزار 653 افراد کو گرفتار کیا ہے اور ایک ہزار کلوگرام سے زائد مقدار کی ہیروئن برآمد کی ہے۔ اس کے علاوہ سمیک، آئیس، افیون اور کوکین جیسی دیگر منشیات بھی پکڑی گئیں۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے مبینہ منشیات فروشوں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور بعض عمارتوں کو منہدم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ یہ ایک ایسا متنازع اقدام ہے جس پر تعریف کے ساتھ ساتھ تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

لیکن زمینی سطح پر شکوک و شبہات اب بھی موجود ہیں۔

’اصل دشمن صرف سرحد پار نہیں بلکہ اندر بھی موجود ہے‘

BBC

امرتسر کے کسان یونین لیڈر سرون سنگھ پندھیر اس آسمان کے نیچے کھڑے ہیں جس میں اڑتی چیزوں کی اب وہ کافی حد تک پہچان رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم تقریباً ہر دوسرے ہفتے ڈرون دیکھتے ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجی لانا اچھی بات ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ منشیات کے خاتمے کا حوصلہ کہاں سے آئے گا؟‘

پندھیر کے نزدیک اصل دشمن صرف سرحد پار نہیں بلکہ اندر بھی موجود ہے: بگڑا ہوا نظام، روزگار کی کمی اور ناامیدی۔

پنجاب کی کبھی خوشحال زرعی معیشت اب مشکلات کا شکار ہے۔ نوجوانوں میں بیروزگاری کی سطح بلند ہے۔ کئی پڑھے لکھے، باصلاحیت نوجوان مایوس ہیں اور آہستہ آہستہ نشے کی طرف کھسکتے جا رہے ہیں۔

ماہرینِ عمرانیات اسے ’مقصد کے بحران‘ کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی شاید کسی ڈرون کو روک دے لیکن مایوسی کا آپ کیا کریں گے؟

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ترن تارن میں ایس ایس پی دیپک پریِک اپنا رات کا گشت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان کے پاس مدد ہے یعنی خاموش سینسر جو آسمان کو خطرات کے لیے ٹٹولتے رہتے ہیں۔

ہر گھن گھناتی آواز، ہر سایہ، ریڈار پر ہر ہلکی سی جھلک۔۔۔ کسی خطرناک چیز کا آغاز ہو سکتی ہے یا اسے وقت پر روکنے کا موقع بھی دے سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کہ ’یہ جنگ ہے جو ہم اپنے لوگوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘