کراچی کی تنگ گلیوں میں کثیرالمنزلہ مخدوش عمارتیں اور ’پگڑی‘ کا نظام: ’اب سر پر چھت نہیں رہی، اِس بڑھاپے میں کہاں جاؤں‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پرویز بلوچ کراچی کے علاقے لیاری کے محلے نیا آباد میں ایک کمرے کے فلیٹ میں کرائے پر رہتے ہیں، کثیرالمنزلہ رہائشی عمارت کی چوتھی منزل پر واقع یہ چھوٹا سا فلیٹ انتہائی خستہ حال ہے۔
پرویز بیروزگار ہیں اور اُن کا بیٹا گھر کا واحد کمانے والا ہے جو محنت مزدوری کرتا ہے۔ تاہم اب ان پر نئی افتاد یہ آن پڑی ہے کہ پرویز سمیت اس عمارت کے تمام مکینوں کو اب یہ عمارت خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔
کراچی میں حکام کی جانب سے محلہ نیا آباد میں آٹھ عمارتوں کو ’رہائش کے لیے خطرناک‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ عمارتیں لیاری کی اُن 54 عمارتوں میں شامل ہیں جن کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے حال ہی میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
پرویز نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اپنے فلیٹ کی چھت دکھائی اور کہا کچھ عرصہ پہلے یہ چھت گِر گئی تھی جس کی مرمت حال ہی میں انھوں نے خود کروائی ہے۔
’اب ہمیں کہا جا رہا ہے کہ فلیٹ خالی کریں۔ مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اسے خالی کر کے کہاں جائیں؟ ہمیں کوئی جھونپڑی ہی دے دیں۔ پہلے یہ افسر لوگ فائلوں پر دستخط کر کے اجازت دے دیتے ہیں کہ جاؤ جا کر دس منزلیں بناؤ، بعد میں سارا بوجھ رہائشیوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔‘

یاد رہے کہ کراچی میں چار جولائی کو بغدادی کے علاقے میں ایک رہائشی عمارت گرنے کے نتیجے میں ہونے والی 27 ہلاکتوں کے بعد شہر بھر میں ’خستہ حال اور خطرناک‘ قرار دی گئی عمارتوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ تاحال نوعمارتیں خالی کروائی جا چکی ہیں جبکہ ایک عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
ریکارڈ کے مطابق یہ تمام عمارتیں 80 گز سے لے کر 240 گز تک کے سائز کی ہیں اور اُن میں سے بیشتر چھ منزلوں تک بلند ہیں۔ تنگ سیڑھیوں اور چھوٹے چھوٹے فلیٹس والی ان عمارتوں میں نہ تو ہوا کا گزر ہے اور نہ ہی روشنی کا باقاعدہ انتظام۔ بیشتر عمارتوں میں سوریج کی لائنیں زیر زمین ہونے کے بجائے گلیوں اور راہداریوں میں پڑی ہوئی ہیں جبکہ ان فلیٹس کی بالکونیوں اور واش رومز میں سریے کے ڈھانچے نظر آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بغدادی تھانے میں عمارت گرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس حوالے سے ایس ایس پی وسطی عارف عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں عمارت کے مالک اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔ نامزد افراد میں سے مالک سمیت سات افراد کو پولیس نے حراست میں بھی لیا ہے۔
کراچی کے پرانے علاقوں میں زیادہ تر لوگ ’پگڑی‘ کے نظام کے تحت رہتے ہیں۔ یعنی ایک بڑی رقم ایڈوانس ادا کر دی جاتی ہے جس کے بعد چار، پانچ سو سے لے کر ایک ہزار روپے تک کا کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔
یہ کرایہ دار زیادہ تر کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور گزر اوقات کے لیے محنت مزدوری کرتے ہیں۔
سنہ 1983 میں بنائی گئی ’امینہ منزل‘ پر بھی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے ایک انتباہی بینر لگایا گیا ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو سرکاری اہلکاروں کی جانب سے رہائشیوں کو عمارت فوراً خالی کرنے کے لیے کہا جا رہا تھا۔

وہاں موجود حمیدہ بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شادی کے بعد بیاہ کر اسی بلڈنگ میں آئی تھیں۔ یہ عمارت چند روز قبل کراچی میں آنے والے زلزلے کے ایک جھٹکے سے لرز اٹھی تھی۔ یہ واقعہ پیش آنے کے بعد یہاں رہنے والوں کو کہا گیا کہ عمارت خالی کر دیں، لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔
حمیدہ بی بی کے مطابق ’ہم نے بلڈنگ کنٹرول والوں کو کہا ہے کہ آپ عمارت کو سیل نہ کریں، ہم خود اسے گِرا کر دوبارہ تعمیر کر لیں گے۔‘
چھ منزلہ امینہ منزل میں فلیٹوں کی گیلریاں تک گل چکی تھیں جن میں واضح طور پر سریے نظر آ رہے تھے جو زنگ آلودہ تھے۔
بی بی سی نے حمیدہ بی بی سے سوال کیا کہ جب حکام نے اس کو ’خطرناک‘ قرار دیا تو اس کی مرمت کیوں نہیں کروائی گئی؟ جس کے جواب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہاں پانی کھارا ہے جو عمارت کو گلا رہا ہے۔‘

لیاری کے علاقے بغدادی میں عمارت کے ملبے میں 27 افراد دب کر ہلاک ہوئے تھے جن میں جمعہ دیو جی مہیشوری کے خاندان کے چھ لوگ بھی شامل تھے۔ دیو جی اِن دنوں تنہا اور بے گھر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔
اُن کے دو بیٹے، بیٹوں کی بیویاں، ایک پوتی اور دیو جی کی اپنی اہلیہ اس واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اُن کے ایک بیٹے کی شادی محض 10 مہینے پہلے ہی ہوئی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر عمارت کمزور ہوتی تو اس بلڈنگ کا مالک کبھی اپنی فیملی کے ہمراہ یہاں نہ رہتا۔ اس حادثے میں مالک کی فیملی کے بھی لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ یہاں پانچ فلورہیں اور ہر فلور پر چار فلیٹس۔ اگر متعلقہ حکام کی جانب سے نوٹس دیے جاتے تو کسی کو تو پتہ ہوتا۔ اگر حکومت نے نوٹس دیے ہیں تو سامنے لائیں۔۔۔ یہاں غریب کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی، اب سر پر چھت نہیں ہے، اِس بڑھاپے میں کہاں بھٹکوں۔‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بغدادی میں منہدم ہونے والی عمارت اور اِس کے آس پاس کی عمارتوں کے درجنوں رہائشی اِس وقت اپنے عزیز و اقارب کے پاس موجود ہیں۔ سنجے مہیشوری متاثرہ عمارت کے برابر والی عمارت میں رہتے تھے، یہ فلیٹ اُن کے دادا نے پگڑی پر لیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ وہ چار ہی روز میں گھر سے سڑک پر آ گئے ہیں، اب کسی سے قرضہ لے کر ایڈوانس دیں گے اور کرائے پر گھر لیں گے۔
بغدادی میں عمارت کے متاثرین کے حوالے سے صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ معاوضہ اصل مالکان کو ادا ہو گا جبکہ متاثرہ کرایہ داروں کو کم از کم تین ماہ کا کرایہ دیا جائے گا، لیکن یہ کتنا ہو گا ابھی اس بات کا تعین نہیں ہوا۔
صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے اس صورتحال پر بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ انھیں احساس ہے کہ زیادہ تر متاثرہ لوگ کرائے دار ہیں مالکان نہیں۔
’ہمارے پورے پلان میں جو پلاٹ کا مالک، عمارت کا مالک یا بلڈر ہے اس کو ریلیف نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے ریکوری کی جائے گی اور جرمانہ عائد کیا جائے گا، کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کی جانیں داؤ پر لگیں اور لوگوں کا پیسہ برباد ہوا۔‘
سعید غنی نے کہا کہ اُن کی کوشش ہے کہ قوانین سخت بنائے جائیں اور غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ بند کروایا جائے۔
اس حوالے سے حکومت سندھ نے سعید غنی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس میں بلڈر، پاکستان انجینیئرنگ کونسل، آرکیٹیکٹس کی تنظیم کا نمائندہ اور دیگر محکموں کے نمائندے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ جون 2022 میں بغداری میں گرنے والی عمارت سے تین کلومیٹر دور کھڈہ مارکیٹ میں ایک پانچ منزلہ عمارت گرنے سے 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
گذشتہ پانچ برسوں میں صرف لیاری میں 76 سے زائد افراد عمارتیں گرنے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم کسی ایک بھی کیس میں نہ تو ذمہ داران کا تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
اب یہ پہلی بار ہے جب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سمیت دیگر افسران کو معطل کیا گیا ہے۔
دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی میں رہائش کا فقدان ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی ہاؤسنگ سکیمیں محدود ہیں اور شہر سے دور ہیں۔ نتیجتاً لوگ شہر کے وسطی حصے میں رہنا پسند کرتے ہیں جو بلڈرز کے لیے سود مند ثابت ہوتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اتنی گنجان آبادیوں میں مانٹیرنگ مشکل ہے۔
صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کے مطابق اسی صورتحال کے باعث چھوٹی چھوٹی گلیوں میں بڑی بڑی عمارتیں بن جاتی ہیں، اور اتنے بڑے شہر میں یہ ممکن نہیں رہتا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران ہر تعمیر ہونے والی نئی عمارت پر چیک رکھ سکیں۔ جبکہ زیادہ تر یہ بھی ہوتا ہے کہ اہلکار تعمیر کے وقت صرفِ نظر اس لیے کرتے ہیں کہ ان کا اس میں معاشی فائدہ ہوتا ہے۔
اُن کے بقول بغدادی میں جو عمارت گری اس کا ایس بی سی اے کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں تھا تاہم اس کے باوجود اسسٹنٹ انسپیکٹر سے لے کر کر ڈائریکٹر تک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جو بھی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں ان پر نظر رکھیں اور چیک کریں کہ کتنے فلورز کی منظوری لی گئی ہے اور قانون کی کتنی پاسداری کی گئی۔













