آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانی
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’کپتان مجھے پاکستان واپس آ کر کرکٹ کھیلنی ہے اور بڑے بڑے کھلاڑیوں کی وکٹیں اُڑانی ہیں۔ مجھ سے دبئی میں یہ ملازمت نہیں ہوتی۔‘
یہ الفاظ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے سکواڈ میں شامل سپنر 28 سالہ عثمان طارق کے ہیں۔ جو انھوں نے سنہ 2015 سے 2017 تک کئی مواقع پر خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے میونسپل کرکٹ کلب کے کپتان گوہر علی سے کہے۔
گوہر علی نوشہرہ میں ’کپتان‘ کے نام سے مشہور ہیں اور عثمان طارق اس کرکٹ کلب میں کئی سال تک کھیلتے رہے ہیں۔
گوہر علی کہتے ہیں کہ ’جب عثٖمان طارق مجھ سے کہتا کہ انھیں ملازمت نہیں کرنی اور کرکٹ کھیلنی ہے اور پاکستان آنا ہے تو میں انھیں کہتا کہ دیکھو یہ مت کرو۔ تمھیں بڑی مشکل سے دبئی میں اچھی ملازمت ملی ہے اس سے پہلے تم دبئی اور افغانستان بھی گئے مگر تمھیں اچھی ملازمت نہیں ملی تو براہِ مہربانی یہ ملازمت چھوڑ کر صرف کرکٹ کھیلنے کے لیے مت آؤ کرکٹ میں چانس ملنا بہت مشکل ہے۔‘
مگرعثمان طارق نے ’کپتان‘ کی بات نہیں مانی اور سنہ 2017 میں وہ ایک بار پر نوشہرہ کے کرکٹ گراؤنڈ میں تھے۔ جہاں وہ دوبارہ ایک نئے عزم سے اپنی نئی اننگز کا آغاز کر رہے تھے۔
کچھ سال تک تو مایوسی کا عالم رہا۔ مگر پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ انھیں مختلف مواقع ملنا شروع ہوئے اور ان مواقع سے عثمان طارق نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
عثمان طارق کیربیئن پریمیئر لیگ (سی پی ایل) میں اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کی نظروں میں آئے۔ اس لیگ میں اُنھوں نے 10 میچز میں 20 وکٹیں حاصل کیں اور وہ ٹورنامنٹ کے دوسرے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بنے۔
اس کارگردگی کے بعد نومبر 2025 میں انھیں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم میں منتخب کیا گیا۔ اپنے پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی میں انھوں نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ مگر راولپنڈی میں زمبابوے کے خلاف ہیٹرک نے اُن کی شہرت میں مزید اضافہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پھر آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں کیمرون گرین اور میتھیو کوہنمین کی وکٹیں لے کر اُنھوں نے اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھا۔ کیمرون گرین جب پویلین لوٹ رہے تھے تو اس دوران اُنھوں نے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کی نقل کی اور بظاہر اُن پر ’چکنگ‘ کا الزام لگایا۔
اس کے بعد اُن کے بولنگ ایکشن پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی اور اب جبکہ عثمان طارق پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ ہیں تو پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کا دفاع کرتے ہوئے اُنھیں ورلڈ کپ میں پاکستان کا ’ایکس فیکٹر‘ قرار دیا ہے۔
کولمبو میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ اُنھیں سمجھ نہیں آتی کہ عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر سوال کیوں اُٹھایا جاتا ہے، ان کا دو مرتبہ بولنگ ایکشن کا ٹیسٹ لیا جا چکا ہے۔
دبئی میں پیاز کاٹنے کی ملازمت
حسیب الرحمان، عثمان طارق کے پھوپھی زاد اور بچپن کے دوست ہیں۔ دونوں کا بچپن پشاور کی گلیوں اور گراؤنڈ میں اکھٹے کرکٹ کھیلتے ہوئے گزرا ہے۔
حسیب الرحمان اس وقت دبئی میں مقیم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ عثمان طارق کے والد پیشے کے لحاظ سے بینکر تھے۔ وہ نیشنل بینک آف پاکستان میں تھے اور عثمان طارق کے بچپن ہی میں وفات پا گئے تھے۔
عثمان طارق دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ والد کی وفات کے بعد عثمان طارق کے ماموں ان کے سرپرست تھے۔
حسیب الرحمان کا کہنا تھا کہ والد کی وفات کے بعد اب اس خاندان کے لیے گزر بسر کا واحد ذریعہ والد کی پینشن ہی تھی۔
عثمان طارق اپنی والدہ اور بھائی بہنوں کے ساتھ اپنے ماموں کے پاس منتقل ہو گئے تھے۔ بعد میں ان کے ماموں کا تبادلہ نوشہرہ ہوا تو یہ بھی نوشہرہ چلے آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ عثمان طارق کو بچپن ہی سے کرکٹ کا جنون تھا۔ ان کا زیادہ وقت گراؤنڈ میں گزرتا تھا۔ شروع میں وہ فاسٹ بولنگ کرتے تھے مگر بعد میں انھوں نے سپن بولنگ کرنا شروع کردی تھی۔ ان کو بچپن ہی سے پتا تھا کہ ان کے اندر قدرتی طور پر ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی کو بھی آؤٹ کرسکتے ہیں۔
حسیب الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ شاندار کھلاڑی کے ساتھ ایک حساس انسان بھی ہیں۔
’جب وہ تھوڑا بڑے ہوئے تو اُنھیں احساس ہوا کہ ان کی کچھ ذمے داریاں بھی ہیں۔ ایسے میں ہمارے ایک رشتہ دار نے ان کو دبئی میں بلایا جہاں پر انھوں نے کافی کام تلاش کیا مگر نہیں ملا تو انھیں ایک ریستوران میں پیاز کاٹنے کا کام مل گیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عثمان طارق کو یہ پیاز کئی گھنٹے تک کھڑے ہو کر کاٹنے پڑتے تھے۔ پیاز کاٹنا ایک بہت ہی مشکل مرحلہ تھا۔ جو عادی نہ ہو تو آنکھوں میں جلن اور پانی نکلنا یہ سب کچھ عثمان طارق برداشت کرتے رہے، مگر وہاں پر کئی گھنٹے تک کھڑے ہونے سے ان کی کمر میں تکلیف شروع ہو گئی تھی۔ جس کے بعد عثمان طارق کے لیے یہ کام جاری رکھنا مشکل ہوا تو وہ واپس پاکستان آ گئے۔
حسیب الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت میں افغانستان میں ایک این جی او میں ملازمت کرتا تھا۔ عثمان طارق کی معاشی مشکلات سے آگاہ تھا۔ عثمان طارق ہی کی درخواست پر اُنھوں نے کہا کہ وہ افغانستان آ جائے اور ہم افغانستان میں ملازمت تلاش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل کے منفی درجہ حرارت میں عثمان طارق ملازمت تلاش کرتے رہے، مگر کامیابی نہ ملی یہاں تک کہ میں نے اپنے باس سے کہا کہ وہ اس کو ویسے ہی کچھ عرصے کے لیے رکھ لے اور میری تنخواہ میں سے اس کو کچھ پیسے دے دے مگر یہ بات بھی نہ بن سکی اور عثمان طارق ایک مرتبہ پھر واپس پاکستان آ گئے۔
کرکٹ کی خاطر ملازمت چھوڑ دی
حسیب الرحمان کہتے ہیں کہ اس دوران عثمان طارق پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ پاکستان ہی میں چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتے رہے۔
’میں افغانستان سے دبئی منتقل ہو گیا تھا۔ عثمان طارق ایک بار پر میرے پاس 2015 میں دبئی پہنچ گئے۔ اس مرتبہ عثمان طارق کو ایک ملازمت مل گئی تھی۔ یہ ملازمت ایک سپیئر پارٹ بنانے والی کمپنی میں تھی جہاں عثمان کا کام خریداری کرنا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عثمان طارق دو سال تک دبئی رہے اس دوران وہ دبئی کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلتے رہے۔ اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے لیے وہ کئی گھنٹے ورزش کرتے اور جب موقع ملتا کرکٹ کھیلتے۔ مگر ظاہر ہے کہ کرکٹ کھیلنے کے وہ مواقع تو دستیاب نہیں تھے اور کرکٹ ان کا جنون، شوق اور ضد تھا۔
حسیب الرحمان کا کہنا تھا کہ چند ماہ بعد اُنھوں نے دبے الفاظ میں اس بات کا اظہار کرنا شروع کردیا تھا کہ ملازمت تو اچھی ہے مگر انھیں پاکستان کی طرف سے کرکٹ کھیلنا ہے اور کرکٹ میں نام کمانا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ’میں جانتا ہوں کہ یہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اب اگر یہ ملازمت چھوڑی تو شاید دوبارہ ایسی ملازمت نہ ملے مگر کیا کروں یہ خطرہ تو مول لینا ہی پڑے گا۔‘
گوہر علی کہتے ہیں کہ منع کرنے کے باوجود عثمان پاکستان آ گئے اور اُنھوں نے شاندار کارگردگی دکھانا شروع کردی تھی۔
’وہ جادوگر بولر تھے۔ محنت بھی بہت کرتے تھے، مگر کوئی چانس نہیں مل رہا تھا۔ چانس نہ ملنے سے جب وہ مایوس ہوتے تو اور زیادہ محنت شروع کردیتے۔‘
’میں مایوس ہو جاتا تھا کہ اس کو کبھی چانس نہیں ملے گا۔ مگر عثمان کبھی بھی مایوس نہیں ہوا۔ وہ مجھے کہتا تھا کہ کپتان فکر نہ کرو میں محنت کررہا ہوں مجھے ضرور ایک چانس ملے گا اور ایک ہی چانس میرے لیے بہت ہو گا۔‘
ماضی میں ایک انٹرویو کے دوران عثمان نے بتایا تھا کہ وہ دبئی میں ایک کمپنی کے ساتھ بطور سیلز مین کام کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انڈیا کے سابق کپتان ایم ایس دھونی پر بنی بالی وڈ فلم دیکھی تھی جس نے انھیں متاثر کیا تھا۔
نوشہرہ سے پہلا بین الاقوامی کرکٹر
ہارون رضا قریشی پشاور کرکٹ رینج کے سکریٹری اور عثمان طارق کے بچپن کے دوست ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ عثمان طارق کا دبئی سے واپسی کا فیصلہ بہت مشکل تھا۔ اس فیصلے نے ان کی زندگی بدل دی تھی گو کہ جب وہ دبئی سے واپس آئے اور روزگار کے لیے اُنھوں نے سکول میں سپورٹس انچارج کی ملازمت کر لی تھی۔ اب ایک سپورٹس انچارج کی کیا تنخواہ ہو سکتی ہے مگر وہ تو اپنی ضد کے پکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نوشہرہ پریمیئر لیگ کے شاندار کھلاڑی تھے۔ بعد میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیرِ اہتمام انٹر ڈسڑکٹ تورنامنٹ ہوا تو اس میں اُنھوں نے نوشہرہ کی جانب سے شاندار کارگردگی دکھائی یہاں پر بھی انھیں چانس نہیں ملا مگر محنت اپنا رنگ ضرور لاتی ہے۔ وہ کراچی کی عمر ایسوسی ایٹ کی ٹیم کی نظروں میں آ گئے۔
ہارون رضا قریشی کہتے ہیں کہ کراچی کی عمر ایسوسی ایٹ ٹیم کے مالک ندیم عمر ہیں جو کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر ہی کی ٹیم ہے۔
سنہ 2023 میں اُنھوں نے کراچی رمضان ٹورنامنٹ میں عمر ایسوسی ایٹ کی جانب سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ان کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی۔ دوسرے سال بھی وہ عمر ایسوسی ایٹس کی جانب سے کھیلے اور اس کے بعد وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نظروں میں آ گئے۔
ہارون رضا قریشی کہتے ہیں کہ عثمان طارق نے فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلی تھی، مگر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے انھیں سنہ 2024 میں اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔ اس دوران انھیں امریکہ میں ایک پرائیویٹ پریمیئر لیگ میں کھیلنے کا موقع ملا، جہاں اُنھوں نے بہترین کارکردگی دکھائی۔
شادی، آنکھوں میں آنسو اور کچھ کر گزرنے کا عزم
ہارون رضا قریشی کہتے ہیں کہ نوشہرہ میونسپل کرکٹ کلب کے کپتان گوہر علی نے ہمیشہ عثمان طارق کا بہت ساتھ دیا ہے۔ جب یہ سی پی ایل میں کارگردگی دکھانے کے بعد وہ سلیکٹرز کی نظروں میں آئے تو یہ اطلاع سب سے پہلے گوہر علی تک پہنچی۔
ان کا کہنا تھا کہ گوہر علی نے یہ اطلاع براہ راست عثمان طارق کو نہیں دی بلکہ مجھے سنائی اور ہم سب بہت خوش ہوئے۔
ہارون رضا قریشی کا کہنا تھا کہ اُن کی والدہ بیمار ہیں اور ان کے ماموں نے ساری زندگی عثمان طارق کی بہت مدد کی تھی۔ اس کے بعد عثمان طارق اپنی والدہ اور ماموں کے پاس گئے اور ان کو یہ اطلاع فراہم کی تھی۔
عثمان طارق کے لیے ’وہ دن بہت خوشی کا تھا۔ وہ ہم سے بات کررہا تھا تو ہم محسوس کرتے تھے کہ اس کی آ نکھوں میں خوشی کے آنسو ہیں۔‘
حسیب الرحمان کہتے ہیں کہ عثمان طارق کی پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شمولیت کی اطلاع ہمیں اُس وقت ملی جب عثمان طارق کی شادی میں دو دن باقی تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں اور اب ٹیم میں شمولیت کا جشن بھی شامل ہو گیا تھا۔
’ہمیں لگتا ہے اور ہم سب دعا کر رہے ہیں کہ عثمان طارق ورلڈ کپ میں پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘