کیم سیکس: ’جنسی لذت کے لیے آئس کا نشہ کرنے سے لطف تو دوبالا ہوا لیکن ہم تیزی سے کمزور پڑنے لگے‘

ڈاکٹرز کے مطابق منشیات کا استعمال کر نے والے کچھ ہی عرصے میں غیر محفوظ جنسی سرگرمی میں مشغول ہو جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈاکٹرز کے مطابق منشیات کا استعمال کر نے والے کچھ ہی عرصے میں غیر محفوظ جنسی سرگرمی میں مشغول ہو جاتے ہیں
    • مصنف, دنوک ہیواویتھرانا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

’اپنے سابق بوائے فرینڈ کی وجہ سے مجھےآئس کے نشے کی عادت پڑی، میں نے اس سے ہی یہ عادت اپنائی ہے۔‘

27 سالہ نومی تقریباً ایک سال قبل منشیات ’میتھمفیٹامین‘ کی عادی ہو گئی تھیں جسے لوگ ’آئس‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

نومی نے بی بی سی سنہالا سے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے مزید بتایا کہ وہ اور ان کا بوائے فرینڈ دونوں سیکس کے دوران آئس کے نشے میں ہوتے تھے اور اس سے ان کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔ تاہم یہ ذیادہ عرصے نہ چلا اور اس کے مضر اثرات ظاہر ہونے لگے۔

’کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ میں اور میرا بوائے فرینڈ منشیات لینے کی وجہ سے کمزور سے کمزور تر ہو رہے ہیں۔ کیونکہ اسے استعمال کرنے کے بعد آپ ایک دن کچھ نہیں کھا نہیں سکتے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ مدہوشی میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہم دونوں تیزی سے دبلے اور کمزور ہونے لگے یہاں تک کہ ہمارے دوست ہم سے پوچھنے لگے کہ ہمیں کیا ہوا ہے۔‘

اس مضمون میں شناخت کے تحفظ کے طور پر بی بی سی نے نومی سمیت اپنے تجربات شیئر کرنے والے دیگر لوگوں کے نام مخفی رکھے ہیں۔

جنسی لذت کے زیادہ حصول کے لیے ڈرگز کا استعمال

اس سے پہلے کہ ہم نومی اور ان جیسے دیگر لوگوں کے کیم سیکس یعنی سیکس کے دوران نشہ استعمال کرنے سے متعلق تجربات اور اس کے سائیڈ ایفیکٹ پر بات کریں ہم یہ بتاتے چلیں کہ کیم سیکس کی اصطلاح سے کیا مطلب ہے۔

جنسی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر وینو دھرماکولاسنگھے نے بی بی سی سنہالا سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ زیادہ سے زیادہ جنسی لذت حاصل کرنے کے لیے انٹرکورس سے پہلے ادویات یا ڈرگز کا استعمال کرتے ہیں جسے ’کیم سیکس‘ کہا جاتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’اگر آپ جنسی تعلق قائم کرنے سے پہلے کوئی کیمیائی مادہ یا ڈرگز لیں تو ہم اسے کیم سیکس کہتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے جنسی لذت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس لذت کو بڑھانے کے لیے کیا کیا لے رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بعض معاملات میں یہ طبی منظوری کے ساتھ منشیات یا بغیر منظوری کے منشیات یا کیمیکل ہو سکتی ہے۔

’بہت سے لوگ پارٹیوں میں ان کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ ایسی جگہوں پر، لوگ غیر محفوظ جنسی عمل کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے معاملات میں، جنسی طور پر منتقل ہونے کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اس بارے میں منتخب گروپوں کو آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس مسئلے پر سری لنکا میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کا پروگرام جاری ہے۔‘

یونیورسٹی آف کیمبرج کی جون 2024 کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپی ممالک میں لوگ جنسی تعلقات کو طول دینے اور انٹرکورس کو پر لطف و آسان بنانے کے لیے کیم سیکس یا منشیات استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف کمیونٹیز خصوصاً ہم جنس پرستوں میں سیکس کے لیے کیم سیکس یا منشیات کے استعمال کا رجحان زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ایچ آئی وی اور ایڈز کے مشترکہ پروگرام یو این ایڈ کی نومبر 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2023 تک ایشیا پیسیفک کے خطے میں تقریباً 43 فیصد نئے ایچ آئی وی انفیکشن ان مردوں میں تھے جو مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتے تھے۔

اگرچہ ہم جنس پرست کمیونٹی میں کیم سیکس کا استعمال زیادہ سمجھا جاتا ہے تاہم دیگر افراد بھی اس کا استعمال عام کرتے ہیں۔

’اسے بچاتے بچاتے میں خود شکار ہو گئی‘

بی بی سی سنہالا سروس کو ایک اور شخص نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی طرح اس ملک میں نوجوان اور بالغ افراد جنسی ملاپ میں مشغول رہنے اور اس کو طول دینے کے لیے آئس سمیت مختلف ڈگرز استعمال کرنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

نومی نے بی بی سی سنہالا سروس میں اپنے سابق بوائے فرینڈ سے ملنے والے تجربے کی وضاحت کی۔

'میرے سابق بوائے فرینڈ کا تعلق دوسرے ملک سے تھا۔ وہ وہاں رہتے ہوئے بھی آئس لینے کے عادی تھا۔ اس وقت اس کا کسی اور لڑکی سے تعلق تھا۔ اس کے بعد جب وہ سری لنکا آیا تو آئس ڈرگز لینا چھوڑ دیا۔اس وقت تک ہم صرف دوست تھے۔

'اس دوران میرے بوائے فرینڈ کی سابق گرل فرینڈ نے کسی اور سے شادی کر لی۔اس واقعے کے بعد وہ جس سٹریس اور تناؤ سے گزرا اس نے اسےہ دوبارہ آئس لینے پر راغب کیا۔'

’وہ میرا بہترین دوست تھا اس لیے میں نے اسے اس سے بچانے کی کوشش کی ۔ جب بھی وہ آئس لینے کا ارادہ کرتا میں اسے آہستہ آہستہ اس سے روکنے کی کوشش کرتی۔ یوں ہمارے درمیان قربت بڑھتی گئی۔‘

’اگرچہ میں عام طور پر شراب اور سگریٹ جیسی چیزیں استعمال کرلیتی ہوں لیکن آئس جیسی منشیات استعمال کرنے کی کبھی عادی نہیں تھی اور پھر کچھ عرصے بعد اس نے مجھے ایک دن آئس کا نشہ کرنے پر اکسایا۔ میں نے بھی تجسس دور کرنے کے لیے اسے آزمایا۔‘

آئس لے کر جنسی تعلق مختلف محسوس ہونا

نوجوان اور بالغ افراد جنسی ملاپ میں مشغول رہنے اور اس کو طول دینے کے لیے آئس سمیت مختلف ڈگرز استعمال کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننوجوان اور بالغ افراد جنسی ملاپ میں مشغول رہنے اور اس کو طول دینے کے لیے آئس سمیت مختلف ڈگرز استعمال کر رہے ہیں

نومی نے بتایا کہ آئس لینے کے بعد انھیں انٹرکورس کے دوران ایسی لذت محسوس ہوئی جس سے وہ پہلے ناواقف تھیں۔ اور سب سے بری بات کہ ان کو تھکاوٹ کا احساس تک نہ رہا۔ پہلے تجربے کے بعد بھی وہ اسے استعمال کرتی رہیں۔

’جب میرا بوائے فرینڈ اور میں شروع میں جنسی تعلق میں آئے تو اس وقت کا احساس الگ تھا تاہم جب ہم دونوں نے آئس کا استعمال کر کے سیکس کیا تو محسوسات میں واضح فرق تھا۔‘

’میں طویل عرصے تک اور ذیادہ کثرت سے جنسی تعلق کرنے کے قابل تھی اور جب میں نے آئس لے کر سیکس کیا تو میں نے بہت زیادہ لذت اور تسکین محسوس کی۔‘

’اب ہم آئس کے عادی ہو چکے تھے اور تقریباً ایک سال سے ہمارے درمیان جنسی تعلقات قائم تھے۔ جب بھی ہم انٹرکورس کرتے تو آئس ہمارے لیے لازم ہو جاتی۔‘

’جب میرا بوائے فرینڈ ڈرگز نہیں ڈھونڈ پاتا تھا تو مجھے اس کے لیے تلاش کرنا ہوتی تاہم کچھ عرصے بعد ہی ایسا ہوا کہ میں اس کی مدد کرتے کرتے اب اپنے لیے بھی ڈرگز تلاش کر رہی تھی۔‘

’تھوڑے عرصے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ منشیات کے لیے مجھے استعمال کر رہا ہے۔ کیونکہ تب تک وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں وہ اسے نہیں پا سکتا تھا۔‘

’میں خطرات کو بھانپ گئی‘

’کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ میں اور میرا بوائے فرینڈ منشیات لینے کی وجہ سے کمزور سے کمزور تر ہو رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ میں اور میرا بوائے فرینڈ منشیات لینے کی وجہ سے کمزور سے کمزور تر ہو رہے ہیں‘

نومی نے انکشاف کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے بوائے فرینڈ کا رویہ ان کے ساتھ تبدیل ہوتا گیا۔

دوسری جانب وہ بھی اس کی طرح ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہو تی گئیں۔

ان کے مطابق ’منشیات کا استعمال شروع کرنے کے تقریباً ایک سال بعد میرے بوائے فرینڈ کو جنسی تعلقات میں بھی مشکل پیش آنے لگی اور آخر کار وہ اس مقام پر پہنچ گیا جہاں وہ ڈرگز لینے کے باوجود بھی انٹرکورس کرنے کے قابل بھی نہیں رہا۔‘

’مجھے اس کی سنگینی کا تب ہی احساس ہوا جب میرے بوائے فرینڈ کے دوستوں نے بتایا کہ وہ گھر جانے کے بعد ایک ہفتے تک اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلے گا۔‘

’میں نے اس وقت اس پر نظر رکھنا شروع کر دی۔ بعض اوقات ممجھے ایسی آوازیں سنائی دینے لگیں جیسے میرے پاس ریڈیو آن ہو یا میوزک چل رہا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پھر وہ وقت آیا کہ میرے بوائے فرینڈ کی ناک سے خون بہنے لگا۔ میں نے اسے کئی مواقع پر ڈاکٹر کے پاس جانے کو کہا لیکن وہ آخری لمحات میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہ بہت ضدی ہونے لگا اور لڑنے اور مجھ پر شک کرنے لگا۔ آخرکار اس نے اچانک مجھے بتائے بغیر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نفسیاتی مشاورت کی خدمات حاصل کر رہی ہوں اور اب آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہوں۔‘

’جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کا زیادہ خطرہ‘

جنسی بیماریوں کی ماہر ڈاکٹر نیمالی جیسوریا نے بی بی سی سنہالا سروس کو بتایا۔

’منشیات کا استعمال کرنے والے کچھ ہی عرصے میں غیر محفوظ جنسی سرگرمی میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس سے اکثر جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں جیسے کہ ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ سری لنکا بھی اس سے محفوظ نہیں لیکن ہمارے پاس اس بارے میں کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔

ان کے مطابق ہیروئن کے عادی لوگوں کے برعکس 20 سے 40 سال کی عمر کے اچھے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی آئس جیسے نشے کی طرف مائل ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

’مجھے اپنے کام کے دوران اس کی لت پڑی‘

بی بی سی سنہالا سروس سے بات کرتے ہوئے 26 سالہ نوجوان یومیل نے بتایا کہ انھیں بعض مواقع پر میوزک کنسرٹس میں شرکت کے دوران مخصوص قسم کی منشیات استعمال کرنے کا لالچ دیا گیا تھا۔

’میں جس صنعت میں کام کرتا ہوں اس میں اکثر میوزک کنسرٹس میں شرکت کرتا ہوں۔ ان کنسرٹس میں موسیقی کو محسوس کرنے کے لیے کچھ دوائیں مشہور ہیں میں بھی انھیں استعمال کرتا ہوں۔‘

’جب میں ان ڈرگز کا استعمال کرتا ہوں تو عام طور پر مجھے دوائیوں کے اثرات محسوس کرنے میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔‘

’اور پھر اگر سات آٹھ گھنٹے تک بھی میں ناچوں اور کودوں تو اس کے بعد بھی میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ سیکس کر لیتا تھا۔‘

میں اس وقت کے دوران بہت سیکس کر سکتا ہوں۔

’لیکن میں ان دوائیوں کے استعمال کے بعد کچھ دنوں تک ان کے اثرات محسوس کرتا ہوں۔ کبھی کبھی جبڑا بھی کانپتا ہے۔ اور میں اپنے قریب دوستوں کا سہارا لینے پر بھی مجبور ہو جاتا ہوں۔ یہ دوا کے اثرات کی وجہ سے ہے۔ اس کے بعد تو میں ایک یا دو دن تک کھا بھی نہیں سکتا۔‘

 موسیقی کو محسوس کرنے کے لیے نوجوان ڈرگز کا شوق سے استعمال کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکنسرٹس میں موسیقی کو محسوس کرنے کے لیے کچھ دوائیں مشہور ہیں جسے نوجوان شوق سے استعمال کررہے ہیں

’اب میں اس سے بچنے کی کوشش کر رہا ہوں‘

ایک اور 36 سالہ شخص پتھم نے بی بی سی سنہالا سروس کو انٹرویو میں بتایا کہ اس نے بھی طویل عرصے تک جنسی سرگرمیوں میں مشغول رہنے کی خواہش کی وجہ سے مختلف ادویات کا سہارا لیا ہے۔

’میری شادی کو آٹھ سال کا عرصہ گزر گیا ہے اور میرے دو بچے بھی ہیں۔‘

’میرے دوست نے سب سے پہلے مجھے بتایا کہ اگر آپ اس کو استعمال کر کے سیکس کرتے ہیں تو آپ زیادہ دیر تک سیکس کا مزا لے سکتے ہیں۔‘

’میں نے اسے ایک دن اپنے دوست کے ساتھ آزمایا۔ پھر میں ایک سپا میں گیا۔ مجھے اس دن احساس ہوا کہ یہ سچ ہے۔ پھر میں نے آئس کا استعمال شروع کیا، عام طور پر مہینے میں ایک یا دو بار، اور کچھ دوسری دوائیں جو پارٹیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔‘

’لیکن اب میں اسے چھورنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ کیونکہ مجھے احساس ہے کہ اب میرے بولنے کے انداز میں فرق ہے۔ میں ان کو لینے کے بعد سو نہیں سکتا۔ یہاں تک کہ میری بیوی مجھ سے پوچھتی ہے کہ میں ایسا کیوں ہوں؟ وہ مجھے ڈاکٹروں کے پاس لے جانے کی کوشش کرتی ہے لیکن میں نہیں جا پاتا۔‘

’اگر میں جاؤں گا تو انھیں میری حالت جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا کہ اصل میں کیا ہوا ہے اور میں کیا چیز استعمال کرتا ہوں۔ اب میں اپنے طور پر اس سے بچنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔‘

اس دعوے کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے کہ اس سے جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس دعوے کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے کہ اس سے جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے

کیا ڈرگز کا استعمال جنسی سرگرمی کو طول دیتا ہے

بی بی سی سنہالا سروس سے بات کرتے ہوئے راجرتا یونیورسٹی کے سینیئر لیکچرر ڈاکٹر منوج فرنینڈو نے کہا کہ لوگ جنسی تعلق کو طول دینے کے لیے محض ’توہمات اور اس کے سلسلے میں تخلیق کی جانے والی کہانیوں‘ کی وجہ سے منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹرمنوج کا مزید کہنا ہے کہ ذہنی طور پر بیمار افراد کا منشیات کا سہارا لینا عام بات ہے۔

’بہت سے لوگ توہمات کی وجہ سے اس طرح کی نشہ آور اشیا لینے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔ اس دعوے کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے کہ اس سے جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن تمام منشیات کے بارے میں یہ کہانیاں مشہور ہیں۔ ہیروئن سے لے کر آئس تک، بدسلوکی کی بہت سی منشیات سے وابستہ کچھ عام خرافات ہیں۔ جنسی توانائی بڑھانے اور خوشی لانے کے بارے میں ان میں سے کچھ کہانیاں اس سے منسلک ہیں۔‘

’کچھ لوگ ذہنی تناؤ کی وجہ سے منشیات لینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ خاص طور پر منشیات کی طرف بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔ بالکل اسی طرح جو آپ فلموں میں دیکھتے ہیں، منشیات استعمال کرنے والے لوگوں کو ان کا استعمال کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے واقعات بھی ہیں جب دوستوں کے لالچ میں بہت سے لوگوں نے منشیات کا سہارا لیا ہے۔‘

’منشیات میں جنسی سرگرمی کو طول دینے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ایک شخص جو اس قسم کی دوائی استعمال کرتا ہے سوچتا ہے کہ وہ طویل عرصے تک جنسی تعلقات قائم کر رہا ہے۔ یہ تب ہے جب وہ ذہنی طور پر سوچتے ہیں کہ وہ اس عمل میں بہت لمبے عرصے سے ہیں۔‘

’کچھ لوگ جب منشیات لیتے ہیں تو انھیں زیادہ نیند آتی ہے اور وہ بے جان محسوس کرتے ہیں۔ جو لوگ یہ دوائیں لیتے ہیں ان کو جنسی ملاپ کے دوران ایستادگی حاصل کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس لیے ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ طویل عرصے کے جنسی تعلق میں مشغول رہ سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر منوج فرنینڈو نے کہا کہ ’لیکن سچ یہ ہے کہ آئس یا ہیروئن یا کوئی اور نشہ زیادہ دیر تک جنسی تعلق قائم کرنے کی ضمانت نہیں دیتا۔‘