2014 کا ورلڈ کپ فائنل: ’تب بھی میسی میری امید تھے آج بھی میسی پر ہی نظریں ہیں‘

فٹبال

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, پابلو زابالیتا
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹس کالم نگار

سنہ 2014 میں ریو میں ارجنٹینا اور جرمنی فٹبال کے ورلڈ کپ فائنل میں آمنے سامنے تھے۔ میں ارجنٹینا کا کھلاڑی تھا مگر فائنل میچ سے ایک رات قبل میں دو وجوہات سے سو نہیں سکا۔

پہلی وجہ تو میرے اعصاب بنے تھے۔ میں پہلی بار ایک عجیب بے چینی کا شکار ہوا۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ ہمارے ہوٹل کے باہر صبح تین بجے برازیل کے شائقین نے خوب آتش بازی کی۔

بہت زیادہ شور کی وجہ سے پوری ٹیم ہی جاگ گئی تھی۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں برازیل کے شائقین نے تمام میچز میں ہماری مخالفت میں مدمقابل ٹیم کو سپورٹ کیا تھا اور اب وہ یہ یقینی بنانے کے لیے بے چین تھے کہ ہم کسی بھی صورت ان کی سرزمین پر ماراکانا سٹیڈیم میں ہونے والے فائنل کے فاتح نہ بن سکیں۔

بہرحال میں کسی نہ کسی طور کچھ وقت کے لیے سو گیا۔ جب میں جاگا تو میرے ذہن میں یہی سوچ تھی کہ آج کا دن ہی سب کچھ ہے۔

میں لڑکپن سے لے کر اس وقت تک فٹبال کے سینکڑوں میچز کھیل چکا تھا۔ مگر جب آپ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے کے قریب ہوتے ہیں تو پھر آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ بہت خاص ہے اور یہ آپ کی زندگی کا ایک بہت یادگار میچ ہونے جا رہا ہے۔

بچپن سے ہی یہ میرا خواب تھا اور جو آپ چاہتے ہوں وہ ہو جائے اور آپ اپنی منزل پر پہنچ جائیں تو پھر اسے بیان کرنے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ میں دوبارہ ایک بچے کی طرح ہو گیا۔ اور اس دن اس کے علاوہ کچھ سوچنا محال تھا کہ ’واؤ آج ہم ورلڈ چیمپئین بن سکتے ہیں۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس بار بھی فائنل کے انتظار سے سنہ 2014 کی بہت سی یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ فائنل سے قبل جیسے وقت ٹھہر سا گیا ہو، ہوٹل اور سٹیڈیم کے رستے پر میرے ذہن پر صرف ایک ہی بات سوار تھی کہ کیا آج ہم جیت جائیں گے۔

کلب کے کھلاڑی کے طور پر ہر سیزن میں کھیلتے ہوئے میں نے متعدد اعزازات اپنے نام کیے۔ ہر سال ایک نیا موقع اور نیا چیلنج درپیش تھا مگر اس بار کا تجربہ مختلف تھا۔

ورلڈ کپ ہر چار برس بعد ہوتا ہے اور ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ یہ میرے لیے بہت خاص تھا۔ میں سنہ 2014 میں 29 برس کا تھا اور مجھے اس بارے میں کچھ یقین نہیں تھا کہ اگلے ورلڈ کپ کے لیے چار برس بعد میں روس جا سکوں گا۔

یہی وجہ تھی کہ میرے ذہن میں ایک سوچ یہ بھی تھی کہ آیا میں زندگی میں دوبارہ کبھی ایسے مقابلے میں شریک ہو سکوں گا یا نہیں۔

یہ وہ ساری وجوہات تھیں جنھوں نے اس فائنل کی تیاری میں میرے لیے عمومی ذہنی مشکلات کھڑی کیں۔ اور یہ کیفیت اس وقت تک طاری رہی جب میں پچ پر بھی آ گیا تھا۔

میں یہ بات جانتا تھا کہ میں ایک عظیم لمحے سے محض 90 منٹ کی دوری پر ہوں۔ اور میں اس بات کا تصور کر سکتا تھا کہ اپنے شائقین کے سامنے جیتنا کتنا دلچسپ اور حیرت انگیز تجربہ ہو گا۔ اس کے علاوہ میں نے دیگر نتائج پر بالکل غور نہیں کیا۔

Pableo Zabaleta

،تصویر کا ذریعہBBC Sport

مایوسی، غصہ اور درد

جیسے ہی میچ شروع ہوتا ہے تو اس کے بعد آپ اپنے اعصاب اور میچ کی اہمیت کے بارے میں باقی باتیں بھول جاتے ہیں۔ آپ اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں۔ جرمنی اس فائنل کے لیے فیورٹ قرار دیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے سیمی فائنل میں برازیل کو سات ایک گول سے بڑی شکست دی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ ہر ایک کی سوچ یہی تھی کہ وہ ہمیں بھی تہس نہس کر کے رکھ دیں گے۔

مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ہماری ٹیم بہت اچھی تھی۔ دفاعی طو پر مستحکم اور چٹان کی مانند تھی اور ہمیں تین یا چار بار گول کرنے کے اچھے مواقع بھی میسر آئے۔

مگر ہم نے وہ تمام مواقع ضائع کر دیے۔ اضافی وقت کے اختتام پر ماریو گوٹزے نے جرمنی کے لیے فیصلہ کن گول کیا۔ بس یہی سب کچھ تھا۔ جرمنی ورلڈ کپ کا چیمپیئن بن چکا تھا۔ یہ ایک بہت سخت مقابلہ تھا اور فٹ بال میں عظیم تر ٹرافی اٹھانے کے باوجود ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں آیا۔

رنر اپ ٹرافی کو لینا بہت مشکل تھا۔ فائنل کے بعد سب کچھ مشکل تھا، ہماری آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ڈریسنگ روم میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ اور جب ہم واپس ہوٹل میں گئے تو ہم دو گھنٹوں کے لیے سیدھے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

میرے اوپر مایوسی، غصے اور درد جیسی کیفیت طاری تھیں۔ مگر یہ سب کیفیت اس وقت ختم ہو گئی جب ہم دوبارہ ایک ٹیم کی صورت اکھٹے ہوئے اور اس چیز نے ہماری بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔

ایک ٹیکسٹ میسج کی صورت پیغام موصول ہوا کہ دوستو کہ اب ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ سنہ 1990 کے بعد ارجنٹینا کو فٹبال کے ورلڈ کپ فائنل تک پہنچنے میں 24 برس کا عرصہ لگا اور ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیے کہ ہم نے ایسا کھیل پیش کیا۔ چلیں، ہمیں کِٹ والے کمروں میں سے ایک میں جا کر بیئر نوشی سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔

ہم سب اس کمرے میں اکھٹے ہوئے۔ پورا سکواڈ وہیں پہنچ گیا۔ اور ہم نے بیئر کے ساتھ جو ہم پر گزری اس پر گفتگو کی۔

اب فائنل کو ہوئے چار سے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے۔ اگرچہ شکست کی تکلیف ابھی بھی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ میں یہ سوچنا شروع ہو گیا تھا کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ مجھے اس قدر دلچسپ میچ کھیلنے کا موقع ملا۔

ارجنٹینا سنہ 2014

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں جب جرمنی نے ارجنٹینا کے خلاف ورلڈ کپ فائنل میں اضافی وقت میں ایک صفر کی برتری حاصل کی

یہ بھی پڑھیے

’میں ابھی بھی سوچتا ہوں کہ ہم جیت کے کتنے قریب آ گئے تھے‘

Argentina

ہم اگلی صبح واپس ارجنٹینا چلے گئے۔ یہاں اپنے شائقین نے ہمارا زبردست استقبال کیا، جس سے ہماری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ہم اپنے ملک کے لیے کھیل رہے تھے اور جب ہم نے دیکھا کہ ہم نے اپنے لوگوں کو کتنا خوش کر دیا ہے تو یہی ہمارا مقصد تھا جس نے ہمیں پھر سے کھڑا کر دیا۔

میں کچھ دن ارجنٹینا میں ہی رکا اور جب کبھی بھی میں باہر ریسٹورنٹ یا چہل قدمی کے لیے نکلتا تھا تو بہت سارے لوگ میرے پاس آ کر اپنے ملک کے لیے اتنی محنت کرنے پر شکریہ ادا کرتے تھے۔

ورلڈ کپ کا فائنل وہ خاص لمحہ ہوتا ہے جب گذشتہ کئی برسوں بعد میرا خاندان یہ میچ دیکھنے کے لیے میرے گھر پر اکھٹا ہوا اور میرے لیے خاص طور پر یہ خاص بات تھی جب میں خود جا کر ان سے ملا۔

ورلڈ کپ لوگوں کو جوڑنے کے لیے خاص کردار ادا کرتا ہے اور انھیں اس قدر قریب دیکھ کر مجھے اس ورلڈ کپ کے فائنل کے بارے میں بھی اچھا محسوس ہوا۔

اگرچہ آپ مکمل طور پر اس احساس سے باہر نہیں نکل سکتے۔ میں جب بھی سنہ 2014 کے اس میچ کے ویڈیو کلپ دیکھتا ہوں تو میں یہ سوچتا ہوں کہ ہم جیت کے کتنے قریب آ چکے تھے۔

گھر پر میرے پاس اس میچ کے یونیفارم اور رنر اپ والے میڈل کے ساتھ وہ بُوٹ بھی موجود ہیں جو میں نے اس میچ میں پہنے تھے۔ اور اب بھی ان پر نظر دوڑانا بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔

جب آپ ایک ورلڈ کپ کا فائنل ہارتے ہیں تو آپ یہ نہیں جانتے کہ اب اس منزل تک پہنچنے کے لیے آپ کے ملک کو اور کتنا عرصہ لگ سکتا ہے۔ مگر اب آٹھ برس بعد ہم دوبارہ وہیں پر موجود ہیں۔ اب کی بار لوئنل میسی کے آخر چانس کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں سنہ 2014 میں فائنل والے دن کی صبح ناشتہ کر رہا تھا کہ میسی اس کمرے میں آیا۔ میں اس وقت جیوئیر میشرانو کے ساتھ بیٹھا تھا اور میں نے انھیں کہا کہ مجھے امید ہے کہ آج ہمارے لیے میسی دو گول کریں جس سے ہماری جیت ہو گی۔

ایسا نہ سوچنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ اگرچہ میں خود میدان میں تھا تو میں نے انھیں اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ میچ کے دوران ہر ایک کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ پاس میسی کو دیا جائے کیونکہ وہی ایک ایسے کھلاڑی ہیں کہ جو کچھ کر گزرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پھر ایسا ہی ہوا۔ وہ اس ٹورنامنٹ میں بہت متاثر کن کھلاڑی ثابت ہوئے۔ وہ ہمیشہ خاص اور نمایاں رہے جو بڑھ چڑھ کر ٹیم کو سبقت دلانے کی کوشش میں رہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ وہ اس ورلڈ کپ سے بھی اسی طرح لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

اتوار کو فرانس کے خلاف جو بھی نتیجہ رہے۔ مجھے ان پر اور اپنی پوری ٹیم پر بہت فخر ہے۔ مگر میں اس بار انھیں چیمپئین ٹرافی اٹھاتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس لمحے کا انتظار یقیناً بہت اہمیت کا حامل ہے۔

سنہ 2014 کے فٹبال ورلڈکپ میں جرمنی کے خلاف فائنل کھیلنے والی ٹیم ارجنٹینا کے کھلاڑی پابلو زابالیتا نے بی بی سی کے کرس بیون کے ساتھ دوحہ میں گفتگو کی ہے۔