سلطانز، قلندرز کو ہرا کر پی ایس ایل فائنل میں: ’یہ ضرور آندھی کا قصور ہے ورنہ میری ٹیم تو ایسی نہیں‘

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں سیزن کے کوالیفائر میں ملتان سلطانز نے دفاعی چیمپیئن لاہور قلندرز کو یک طرفہ مقابلے کے بعد 84 رنز سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے کوالیفائر میچ میں ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

ملتان سلطانز کے اوپنرز محمد رضوان اور عثمان خان نے ٹیم کو اچھا اوپنگ سٹینڈ فراہم کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پہلی وکٹ کے لیے 53 رنز کی شراکت قائم کی، جس کے بعد حارث رؤف کی سلو ڈیلیوری نے عثمان خان کو بولڈ کر دیا۔

ملتان سلطانز کے لیے رن اگلنے والے رائلی روسو کا بلا بھی اس بار نہ چل سکا اور وہ صرف 13رنز بنانے کے بعد زمان خان کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

کپتان محمد رضوان نے کیرن پولارڈ کے ساتھ مل کر ٹیم کا مجموعی سکور 90 رنز تک پہنچایا ہی تھا کہ راشد خان نے سلطانز کے کپتان کو 33 کے انفرادی سکور پر پویلین کی راہ دکھا دی۔

90 کے مجموعی سکور پر تین وکٹیں گرنے کے بعد پولارڈ کا ساتھ دینے ٹم ڈیوڈ آئے اور دونوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 65 رنز بنائے۔

پولارڈ نے قدرے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 34 گیندوں پر چھ چھکوں کی مدد سے 57 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو قابل دفاع مجموعے تک رسائی میں اہم کردار ادا کیا۔

155 کے سکور پر قلندرز کے حارث رؤف نے تیز ترین بولنگ کا مظاہرہ کیا اور یکے بعد دیگرے دو گیندوں پر پولارڈ اور پھر خوشدل شاہ کی وکٹ لے کر سلطانز کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ملتان سلطانز نے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 160 رنز بنائے۔ لاہور قلندرز کی جانب سے حارث رؤف تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہے۔

قلندرز کی اننگز کا تباہ کن آغاز

لاہور قلندرز کی اننگز کا آغاز تباہ کن انداز میں ہوا اور شیلڈن کوٹریل نے عمدہ سپیل کرتے ہوئے ابتدا میں ہی تین وکٹیں حاصل کر لیں۔

اننگز کے تیسرے ہی اوور میں کوٹریل نے طاہر بیگ اور عبداللہ شفیق کو اپنا شکار بنایا جبکہ دوسرے اینڈ سے انور علی نے فخر زمان کو بولڈ کر کے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلائی۔

ٹیم کو مشکلات میں دیکھ کر کپتان شاہین شاہ آفریدی پہلے بیٹنگ کے لیے آئے لیکن کوٹریل نے قلندرز کو ایک اور نقصان پہنچاتے شاہین آفریدی کو صفر رن پر ہی چلتا کر دیا۔

شاہین شاہ کے بیٹنگ آرڈر پر پہلے آ کر کھیلنے پر کرکٹ تجزیہ کار عالیہ رشید نے ٹویٹ کے ذریعے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’شاہین ابھی کافی جذباتی نوجوان ہیں، بیٹنگ کے لیے اوپر آنے کی کوئی منطق نہیں تھی۔‘

ان کے بعد لاہور قلندرز کے حسین طلعت اور سکندر رضا بھی ٹیم کو ہدف تک پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکے جبکہ سیم بلنگز بھی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے۔

اسامہ میر نے رضوان کی مدد سے راشد خان کو سٹمپ کرانے کے بعد ڈیوڈ ویزے کو بھی پویلین کی راہ دکھائی جبکہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے عباس آفریدی نے اپنے کھاتے میں ایک اور وکٹ کا اضافہ کرتے ہوئے قلندرز کی اننگز کا 76 رنز پر خاتمہ کر دیا۔

ملتان سلطانز نے دفاعی چمپیئن لاہور قلندرز کو 84 رنز سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

لیکن لاہور قلندرز کے پاس فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کا ایک اور موقع ہے وہ پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائٹیڈ کے درمیان ہونے والے ایلیمنیٹر میچ کے فاتح سے جیت کر فائنل تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

سوشل میڈیا ردعمل

ملتان سلطانز کی شاندار فتح پر سعد نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ملتان سلطانز نے مسلسل تیسری بار پی ایس ایل فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ یہ پی ایس ایل کی سب سے مستقل ٹیم اور محمد رضوان سب سے انڈر ریٹیڈ کپتان ہیں۔

جبکہ آیت نامی صارف نے محمد رضوان کی کپتانی پر تبصرہ کیا کہ ’جو لوگ رضوان کو اس کی اننگز پر ٹرول کر رہے تھے اب آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ وہ اس طرح کی پچ پر جمے رہے جہاں لاہور قلندرز کا کوئی بلے باز بھی زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکا۔ نہ حالات کا پتا نہ پچ کا ٹرولنگ کروا لو ان سے بس۔‘

اسلام آباد یونائٹیڈ کے اسسٹنٹ کوچ سعید اجمل نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ ملتان سلطانز آپ کو مبارک ہوں، کم ٹوٹل کا شاندار دفاع کرتے ہوئے میچ میں واپس آئے۔ مجموعی طور پر زبردست بولنگ کی ہے۔ امید ہے فائنل میں آپ سے سامنا ہو گا۔ لاہور قلندرز کے لیے آج بدقسمت دن تھا۔

ملتان سلطانز کے ہاتھوں لاہور قلندرز کی بری شکست اور صرف 76 رنز پر ڈھیر ہونے پر طنز کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ’لاہوریوں آج کا میچ بھی صدقہ تھا کیا؟

جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ ’لاہور میں آندھی آئی ہوئی ہے تو ضرور اس کا قصور ہے ورنہ میری ٹیم تو ایسی نہیں۔‘

تاہم میچ کا نتیجہ جو بھی ہوا لیکن شائقین کرکٹ کو قلندرز کے حارث رؤف کی بولنگ بہت اچھی لگی۔ متعدد سوشل نے انھیں ڈیلوری 154 کلومیٹر فی گھنٹہ کروانے پر دل کھول کر داد دی۔ ہے۔