نقیب اللہ کا قتل، راؤ انوار کا کمیٹی پر عدم اعتماد

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل میں مبینہ طور پر ملوث ایس ایس پی راؤ انوار نے تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے انکار کردیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے ایک بیان میں راؤ انوار نے کہا ہے کہ انہیں کمیٹی سے انصاف کی توقع نہیں لہذا وہ اس کے روبرو پیش نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب ایس پی انوسٹی گیشن عابد قائم خانی کا کہنا ہے کہ راؤ انوار اور ان کی ٹیم سے کوئی رابطہ نہیں ہو پارہا ہے، ان کے گھروں پر نوٹس کی تعمیل کرائی گئی ہے کہ اگر وہ تعاون نہیں کریں گے یقیناً انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

ایس پی انوسٹی گیشن عابد قائم خانی کی انسداد دہشتگردی کے محکمے سمیت چار ایس ایس پیز معاونت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلا مرحلہ سینیئر پولیس افسران کی رپورٹ کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔

دریں اثنا قومی انسانی حقوق کمیشن کے اراکین نے پیر کو آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے ملاقات کی اور نقیب اللہ کیس میں پیش رفت سے متعلق معلومات حاصل کی۔

قومی انسانی حقوق کمیشن سندھ کی رکن انیس ہاڑوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں قومی اسمبلی نے ہدایت کی تھی کہ کراچی میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کی جائے جس میں خاص طور پر نقیب اللہ محسود اور انتظار کا معاملہ شامل تھا۔

’آئی جی سندھ سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے، جس میں ہم نے انہیں کہا ہے کہ ہم ڈی آئی جی سلطان خواجہ، ڈی آئی جنوبی آزاد خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے جو خدشات یا سوالات ہیں ان کے جوابات دیں۔ اس کے علاوہ ہم متاثرہ خاندانوں سے بھی ملاقات کریں گے۔‘

قومی انسانی حقوق کمیشن کی ٹیم نے اس جگہ کا بھی دورہ کیا جہاں نقیب اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا جبکہ نقیب اللہ کے خاندان کے ساتھ کل ملاقات کی جائےگی۔ انیس ہارون نے بتایا کہ انہوں نے تمام فوٹیج اور دستاویزات بھی طلب کی ہیں۔ چند روز میں یہ رپورٹ مکمل کرکے قومی اسمبلی کے ساتھ منظر عام پر بھی لائی جائےگی۔

ادھر نقیب اللہ محسود کے خاندان کو پولیس کی حفاظت میں کراچی پہنچایا گیا ہے، امکان ہے کہ وہ نقیب اللہ کے قتل کا مقدمہ درج کرائیں گے۔

دریں اثنا سہراب گوٹھ میں محسود قبیلے کی جانب سے کیمپ لگایا گیا ہے، جس میں نقیب اللہ کے والد محمد خان سمیت جماعت اسلامی اور جے یو آئی کی قیادت نے بھی شریک کی۔ اس کیمپ میں شرکت کے بعد نقیب اللہ کے والد کی مشاورت جاری ہے جس کی روشنی میں کیس کی پیروی کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔