آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آکسفورڈ نے آنگ سانگ سوچی کی تصویر اتار دی
آکسفورڈ یونیورسٹی نے میانمار میں روہنگیا بحران میں ملک کی رہنما آنگ سانگ سوچی کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی ایک تصویر اپنے کالج سے نکال دی ہے۔
میانمار میں کشیدگی کے باعث چار لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے جان بچا کر بھاگنا پڑا ہے اور انھوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔
اس بحران کو اقوام متحدہ نے نسل کشی قرار دیا ہے اور اس حوالے سے آنگ سانگ سوچی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ ہیوز کالج نے ان کی تصویر اتار کر اس کی جگے ایک جاپانی پینٹگ لگانی ہے۔ اتاری گئی تصویر یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یونیورسٹی نے اب تک تصویر کو ہٹانے کی وجہ واضح نہیں کی ہے۔ یونیوسٹی کے کمیونیکیشن مینجر کا کہنا ہے کہ تصویر کو ایک محفوظ تر مقام پر رکھا گیا ہے۔
نئی پینٹگ اسی ماہ کے آغاز میں کالج کو دی گئی تھی اور اس وقت کالج کی مرکزی بلڈنگ میں آویزاں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آنگ سانگ سوچی ماضی میں ایک قیاسی قیدی رہ چکی ہیں تاہم 2015 کے انتخابات کے بعد سے ان کی پارٹی ملک میں برسرِاقتدار ہے۔
نوبل امن انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید تو کی تاہم انھوں نے ملک کی فوج کی جانب سے نسل کشی کرنے کے حوالے لگے الزامات کا جواب نہیں دیا۔
1967 میں وہ سینیٹ ہیوز کالج سے گریجوئیٹ کی تھیں اور جون 2012 انھیں اعزازی ڈگری دی گئی تھی۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ یہ ڈگری منسوخ کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔
1886 میں قائم کیا گیا سینٹ ہیوز کالج آکسفورڈ یونیوسٹی کے پرانے ترین کالجز میں سے ایک ہے اور اس میں تقریباً 800 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔