آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا بھر کا اظہار یکجہتی، دہشت گردی کی مذمت
لندن میں ایوانِ پارلیمان کے پاس بدھ کو دہشت گردی کے واقعہ پر اس قسم کے واقعات سے متاثر ہونے والے ممالک کے سربراہان سمیت دنیا بھر نے برطانیہ سے اظہار یکجہتی کیا ہے اور اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔
اس واقعہ میں ملوث ایک شخص جس نے پہلے پیدل چلنے والوں کو تیز رفتار گاڑی سے نشانہ بنانے کے بعد پارلیمان کے احاطے میں ایک پولیس اہلکار پر چھری کا جان لیوا وار کیا تھا اس گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
فرانس اور جرمنی جو اسی نوعیت کے حملوں کا گزشتہ سال نشانہ بن چکے ہیں ان کے سربراہان نے برطانیہ کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پولیس اہلکار سمیت تین شہریوں کی ہلاکت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے برطانوی سکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے۔
ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں مختلف قومیتوں اور نسل کے لوگوں ہیں۔ طبی عملے کے مطابق انتیس زخمی افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے سات کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
ویسٹ منسٹر پل پر حملہ آور کی گاڑی کی زد میں آ کر زخمی ہونے والوں میں فرانس سے تعلق رکھنے والے تین سکول کے بچے، دو رومانیہ اور پانچ جنوبی کوریا کے باشندے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رات کو لندن حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایفل ٹاور کی بجلی بجھا دی گئیں۔
فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے برطانیہ شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پر سب کو تشویش ہے اور فرانس برطانوی شہریوں کے احساست کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
گزشتہ سال جولائی میں ایک شخص نے فرانس کے جنوبی شہر نیس میں ایک تیز رفتار لاری راہ گیروں پر چڑھا دی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری نام نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔ جرمن چانسلر اینگلا مریکل نے کہا کہ 'ہمارا دل اپنے برطانوی دوستوں اور لندن کے لوگوں کے ساتھ ہے۔'
جرمنی میں بھی دسمبر میں ایک دہشت گرد نے ایک ٹرک راہ گیروں پر چھڑا دی تھی جس میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری بھی دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔
اینگلا مریکل نے کہا کہ وہ جرمنی اور اس کے شہریوں کی طرف سے برطانیہ اور اس کے شہریوں کو یقین دلاتی ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کرنے کے لیے فون پر بات کی۔
امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر نے برطانوی حکومت کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے وہ ذمہ داراں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں امریکی حکومت مدد کے لیے تیار ہے۔
بیلجیم کے وزیر اعظم نے اپنے پغام میں اظہار ہمدردی کی۔ بیلجیم میں ایک سال قبل برسلز کے ہوائی اڈے اور زیر زمین ریلوے میں خود کش حملے میں بتیس افراد ہلاک ہو گئِے تھے۔
روس کے صدر پوتین نے بھی ایک ٹیلی گرام کے ذریعے اظہار تعزیت کیا اور وزیر اعظم ٹریزا مے کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔
مزید ردعمل
- کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک بیان میں کہا یہ دنیا بھر کی جمہوریتوں پر حملہ ہے اور کینیڈا کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برطانوی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
- آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے کہا یہ حملہ دنیا بھر کی پارلیمانوں، آزادی اور جمہوریتوں کے خلاف تھا۔ انھوں نے بھی برطانیہ کو یہ باور کرایا کہ وہ اس لمحہ میں اس کے ساتھ ہیں۔
- چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے کہا کہ انھوں نے آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں آسٹریلیوی وزیر اعظم سے اپنی ملاقات کے دوران اس واقعہ پر تبادلہ خیال کیا۔ 'ہم نے مشترکہ طور پر برطانیہ کو اظہار یکجہتی کا پیغام بھیجا اور ہم دونوں ایک آواز میں اس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔'
- ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روتھ نے کہا اپنے پیغام میں کہا کہ 'لندن کے اندہوناک مناظر۔ شہر کے دل کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہمارے دل برطانیہ کے عوام کے ساتھ ہیں۔'
- روس کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماریہ زخاروا نے اظہار ہمدری کرنے ہوئے ہلاک ہونے والوں سے تعزیت کی۔ 'ہم دہشت گردی میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ہم اسے ایک سنگین برائی سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر ہمیشہ کی طرح ہمارا دل برطانوی عوام کے ساتھ ہیں۔'
- ہسپانوی وزیر اعظم ماریانو راجوئے نے اپنی ٹوئٹ میں کہا حملے کے متاثرین سے ہمدردی کی اور ٹریزا مے کو ایک ٹیلی گرام بھیجا۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی جو تمام ملکوں کو متاثر کر رہی ہے اس کے خلاف سب کو متحدہ رہنا چاہیے۔
- ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ ترکی برطانیہ کا درد محسوس کر سکتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ پیغام جرمنی اور ہالینڈ کے خلاف ترکی میں ریفرنڈم کی مہم پر جاری تنازعے میں تلخ بیانات کے تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ترکی کے صدر نے خبردار کیا کہ یورپ کے لوگ دنیا کی گلیوں میں محفوظ نہیں رہ سکیں اگر یورپ اپنا چلن نہیں بدلے گا۔