آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’انڈین فلموں کو اُن کا موقف سمجھ کر دیکھنا چاہیے‘
- مصنف, عبداللہ فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش پر عائد ’پابندی‘ کو ختم ہوئے چند ہی دن ہوئے ہیں کہ سینسر بورڈ نے ’رئیس‘ کو ملک میں نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
’رئیس‘ بالی وڈ کے سپرسٹار شاہ رخ کی فلم ہے جس میں ان کی ہیروئن کا کردار پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے ادا کیا ہے اور یہ ماہرہ کے کریئر کی پہلی بالی وڈ فلم بھی ہے۔
سینسر بورڈ کی جانب سے فلم پر پابندی کے حوالے سے کوئی بیان تو سامنے نہیں آیا تاہم بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فلم پر پابندی اسلام اور مسلمانوں کی منفی شبیہ پیش کرنے اور ایک خاص فرقے کو بدنام کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔
’رئیس‘ انڈین ریاست گجرات کے ایک شراب مافیا کنگ رئیس عالم کی کہانی ہے جو بھارت کی اس 'ڈرائے سٹیٹ' میں اپنی سلطنت بناتا ہے اور شراب کے اس کھیل کا سب سے بڑا تاجر بن جاتا ہے۔
پاکستانی سینیماز کے مالکان ماضی میں انڈین فلموں پر پابندی کو کاروبار کے لیے نقصان دہ قرار دیتے رہے ہیں تاہم اس معاملے میں ان کا موقف کچھ الگ دکھائی دیتا ہے۔
ایٹریئم سینیماز کے مالک ندیم مانڈوی والا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اور دیگر سینیما مالکان کو اِس پابندی سے نقصان ہوگا کیونکہ یہ ایک بڑی کاسٹ والی فلم ہے لیکن اگر حکومت نے مذہبی منافرت پھیلنے کے خدشے کے سبب اِس فلم پر پابندی لگائی ہے تو یہ درست اقدام ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسی حکومت کا ہے جس نے تمام تر مخالفت کے باوجود یہ فیصلہ بھی کیا کہ پاکستان میں انڈین فلمیں آتی رہنی چاہییں اور یہ صرف ہفتہ دس دن پہلے ہوا ہے'۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ندیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہم اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں انڈیا کی فلمیں دکھائے جانے کا جو قانونی طریقہ کار ہے، جو 40 سال کے تعطل کے بعد 2007 میں شروع ہوا تھا اُسے جاری رہنا چاہیے۔
دوسری جانب پاکستانی فلم ڈائریکٹر جامی محمود اس پابندی سے متفق دکھائی نہیں دیتے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو دوسروں کا موقف بھی سننے کی عادت ڈالنی ہو گی اور انڈین فلموں کو اُن کا موقف سمجھ کر دیکھنا چاہیے۔‘
اُنھوں نے ہالی وڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’وہاں ایرانی فلمیں بھی چلتی ہیں حالانکہ اُن کے تعلقات ایران سے بہت اچھے نہیں ہیں۔‘
جامی محمود کا کہنا تھا ' جب ہم نے 1965 کی جنگ کے بعد انڈین فلموں کو بند کرنا شروع کیا اور 1971 میں بالکل بند کر دیا تو ہوا کیا آپ نے اپنا مقابلہ خود ہی ختم کر دیا اور اُس آپ کی صنعت تباہ ہوئی اُن کو کچھ نہیں ہوا۔ دو لوگوں کی ریس کوئی نہیں دیکھتا بارہ لوگوں کی ریس میں ہر ایک کی دلچسپی ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش ایک لحاظ سے پاکستانی فلموں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے کیونکہ ’سینیماز میں رونق لگتی ہے اور لوگ اُس ماحول میں پاکستانی فلمیں بھی دیکھتے ہیں۔ گذشتہ چار ماہ کے دوران جب انڈین فلموں پر پابندی تھی تو کوئی پاکستانی فلم بھی خاصں بزنس نہیں کر پائی۔‘