گاڑی چلانے پر دہشت گردی کا مقدمہ

یہ تصویر لوجین الہتھلول کی ریلیز کی گئی اس ویڈیو سے لی گئی ہے جس کو اس نے بارڈر پر فلم بند کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیہ تصویر لوجین الہتھلول کی ریلیز کی گئی اس ویڈیو سے لی گئی ہے جس کو اس نے بارڈر پر فلم بند کیا تھا

سعودی عرب میں ڈرائیونگ کرنے والی دو خواتین پر انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پچیس سالہ لوجین الہتھلول اور تینتیس سالہ میسیٰ المودی کو ایک ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ ان خواتین کا مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں منتقل کرنے کا فیصلہ سوشل میڈیا پر ان کے کمنٹس کی وجہ سے کیا گیا ہے نہ کہ ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کے باعث۔

سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کا ڈرائیونگ کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ ڈرائیونگ کرنے والی خواتین کو جرمانہ کیا جاتا ہے اور انہیں جیل میں ڈالا جاتا ہے۔

سعودی خواتین اپنے اوپر لگی پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارمز پر کمپینز لانچ کر چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسعودی خواتین اپنے اوپر لگی پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارمز پر کمپینز لانچ کر چکی ہیں

سعودی خواتین اپنے اوپر لگی پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارمز پر کمپینز لانچ کر چکی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق لوجین الہتھلول کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ڈرائیو کرتے ہوئے یو اے ای سے سعودی عرب میں داخل ہوئیں۔

میسیٰ المودی سعودی صحافی ہیں اور یواےای سے سعودی عرب میں داخل ہوتے ہوئے انھوں نے بارڈر پر سارا دن انتظار کرنے کی ٹویٹ کی۔

دونوں خواتین کی ٹویٹر اکاؤنٹ پر کافی فالوونگ ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان خواتین کے وکلا مقدمے کی منتقلی کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔