’حماس دہشتگرد گروہوں کی فہرست سے خارج‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یورپی یونین کی ایک بڑی عدالت نے اتحاد کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی تنظیم حماس کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نہ نکالنے کے فیصلے کو رد کر دیا ہے۔
فیصلہ سناتے ہوئے ججوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ فیصلہ حماس کی سرگرمیوں کے جائزے کے بعد نہیں کیا بلکہ ’ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ کی دنیا میں حماس پر لگائے جانے والے اصل الزامات یا تہمتوں‘ کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا اس کے یہ فیصلہ کرتے وقت اس نے حماس کو دہشگرد گروہ قرار دیے جانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ نہیں لیا ہے بلکہ اس فیصلے کی نوعیت تکنیکی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ فی الحال حماس کے اثاثوں کو منجمد رکھے جانے کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
یورپی یونین کے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس ایک ’قاتل دہشتگرد گروہ ہے جسے دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں فوراً واپس ڈالا جانا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ حماس کو اسرائیل، امریکہ اور کئی دیگر ممالک نے دہشگرد گروہوں کی فہرستوں میں رکھا ہوا ہے۔
غزہ پر حماس کا کنٹرول ہے اور اس کی گزشتہ موسم گرما میں حماس نے اسرائیل کے ساتھ 50 دن تک لڑائی جاری رہی۔
اسرائیل، امریکہ اور کئی دیگر ممالک نے تشدد کا راستہ چھوڑنے سے انکار کرنے پر حماس کو دہشت گرد تنظیم کا نام دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حماس نے 2006 میں فلسطینی پارلیمانی انتخابات جیت لیے تھے۔ حماس کے حامی اسے اسرائیل کے خلاف ایک جائز تحریک کرنے والے گروہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔







