’حماس دہشتگرد گروہوں کی فہرست سے خارج‘

حماس نے 2006 میں فلسطینی پارلیمانی انتخابات جیتے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحماس نے 2006 میں فلسطینی پارلیمانی انتخابات جیتے تھے

یورپی یونین کی ایک بڑی عدالت نے اتحاد کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی تنظیم حماس کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نہ نکالنے کے فیصلے کو رد کر دیا ہے۔

فیصلہ سناتے ہوئے ججوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ فیصلہ حماس کی سرگرمیوں کے جائزے کے بعد نہیں کیا بلکہ ’ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ کی دنیا میں حماس پر لگائے جانے والے اصل الزامات یا تہمتوں‘ کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا اس کے یہ فیصلہ کرتے وقت اس نے حماس کو دہشگرد گروہ قرار دیے جانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ نہیں لیا ہے بلکہ اس فیصلے کی نوعیت تکنیکی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ فی الحال حماس کے اثاثوں کو منجمد رکھے جانے کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

یورپی یونین کے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس ایک ’قاتل دہشتگرد گروہ ہے جسے دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں فوراً واپس ڈالا جانا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ حماس کو اسرائیل، امریکہ اور کئی دیگر ممالک نے دہشگرد گروہوں کی فہرستوں میں رکھا ہوا ہے۔

غزہ پر حماس کا کنٹرول ہے اور اس کی گزشتہ موسم گرما میں حماس نے اسرائیل کے ساتھ 50 دن تک لڑائی جاری رہی۔

اسرائیل، امریکہ اور کئی دیگر ممالک نے تشدد کا راستہ چھوڑنے سے انکار کرنے پر حماس کو دہشت گرد تنظیم کا نام دیا تھا۔

حماس نے 2006 میں فلسطینی پارلیمانی انتخابات جیت لیے تھے۔ حماس کے حامی اسے اسرائیل کے خلاف ایک جائز تحریک کرنے والے گروہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔