جہادی گروپوں کے مالی وسائل
جہادی گروپوں کے بارے میں بی بی سی کی طرف سے کرائی گئی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جہادی گروپوں نے مخیر حضرات کی طرف ملنے والے مالی عطیات کے بجائے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسرے طریقوں پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے، جن میں قدرتی وسائل کی فروخت سمیت مختلف طریقے شامل ہیں، جیسا کہ زیر تسلط علاقوں سے ٹیکسوں کی وصولی اور سمگلنگ کے راستوں پر کنٹرول۔
STY36308681جہادیوں کے ہاتھوں ایک ماہ میں پانچ ہزار افراد ہلاکجہادیوں کے ہاتھوں ایک ماہ میں پانچ ہزار افراد ہلاکبی بی سی کی ایک تحقیق کے مطابق اس سال نومبر میں جہادی گروہوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں 14 ممالک میں پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 2014-12-11T04:06:33+05:002014-12-11T05:02:35+05:002014-12-11T05:02:35+05:002014-12-11T22:43:53+05:00PUBLISHEDurtopcat2
اس رپورٹ کو رائل یونائٹڈ سروس انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے مرتب کیا ہے۔
اس تحقیق سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اپنے آپ کو ریاستِ اسلامیہ کہلوانے والا گروہ مالی اعتبار سے تاریخ میں سب سے زیادہ مستحکم عسکری گروپ ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے مالی وسائل حاصل ہیں۔
دولتِ اسلامیہ کو مخیر حضرات سے مالی عطیات بھی حاصل ہوتے ہیں لیکن مالی وسائل کا ایک بڑا حصہ بلیک مارکیٹ میں تیل کی فروخت اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں آباد غیر مسلموں اور ان کے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کے بدلے میں وصول کیے جانے والے ٹیکسوں سے آتا ہے۔
اس طرز پر طالبان نے بھی مال وسائل حاصل کرنے کے ذرائع بڑھا دیے ہیں جن میں منشیات کی تجارت پر کنٹرول اور وسیع پیمانے پر بھتے کی وصولی شامل ہے۔
طالبان سالانہ 25 کروڑ ڈالر جمع کرتے ہیں۔ صومالیہ میں متحرک الشباب گروپ کا زیادہ تر انحصار کوئلے کی برآمد اور ٹیکسوں پر ہے۔ یہ بہت منظم گروہ ہے اور اس نے انتظامی ادارے بھی بنا رکھے ہیں اور یہ اپنی وزارتِ خزانہ بھی چلا رہا ہے۔
رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں سینٹر فار فائننشل کرائم اور سکیورٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر ٹام کیٹنگز کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس طرح کے جہادی گروپوں کے مالی معاملات سمجھنے میں اکثر غلطی کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آپ اکثر دیکھیں گے کہ اس طرح کی تنظیموں میں مالی معاملات کو دیکھنے والا غیر ملکی ہوتا ہے۔ یہ کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جو کہیں اور سے آیا ہوتا ہے اور مالیات کا تجربہ اور مہارت رکھتا ہے۔
اسی وجہ سے ہمیں بین الاقوامی برادری کے طور پر ان تنظیموں پر اس سے زیادہ محنت صرف کرنی چاہیے جتنی یہ تنظیمیں اپنے اوپر لگاتی ہیں لیکن ہم ان کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ان تنظیموں کے مالی وسائل کو روکنے کا سب سے بہتر موقع ان کے ابتدائی ایام میں ہوتا ہے جب یہ مخیر حضرات سے ملنے والے عطیات پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں۔ ان مخیر حضرات پر مالی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ ایک مرتبہ یہ مالی وسائل حاصل کرنے کے مختلف ذرائع بنا لیتی ہیں پھر ان کو ملنے والے رقوم کو روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک سال قبل دولت اسلامیہ نام کے جہادی گروپ کو کم ہی لوگ جانتے تھے سوائے ان کے جو اس سے متاثر ہو کر اس میں شامل ہونے کے لیے جاتے تھے یا پھر وہ جو سکیورٹی اور تعلیمی اداروں میں شام اور عراق کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
اس کے سامنے آنے کے بعد بھی اسے یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا کہ یہ بھی ان بے شمار گروپوں کی طرح ہے جو صدر بشار الاسد کے خلاف پھیلنے والے انتشار کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
جنوری سنہ 2014 میں امریکی صدر براک اوباما نے فلوجہ اور دوسری جگہوں پر عراق اور شام میں القاعدہ کا جھنڈا لہرانے والوں کی استطاعت اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات کو گھٹا کر بیان کیا تھا۔
لیکن چند ہی مہینوں میں دولت اسلامیہ نے شمالی شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
امریکہ کے سابق وزیر دفاع چک ہیگل نے دولت اسلامیہ کو منظم اور وسیع مالی وسائل کی حامل تنظیم قرار دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ دہشت گرد گروہ سے بڑھ کر ہے اور بے شمار مالی وسائل رکھتا ہے۔
نئی حقیقتیں
بین الاقوامی برادری کی توجہ کسی اور دہشت تنظیم سے زیادہ دولت اسلامیہ کے فنڈ پر تھی جو اسے تیل کی آمدن، ٹیکسوں ، لوٹ مار اور بھتوں سے حاصل ہو رہی تھی۔
امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد نے دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی مہم کو تیل کے کارخانوں اور سمگلنگ کے راستوں پر مرکوز کیے رکھا، اس یقین کے ساتھ کہ تنظیم کے ذرائعِ آمدن کو مسدود کرنے سے یہ تنظیم اپنی موت آپ مر جائے گی۔
مالی وسائل کی اہمیت اس بحران میں اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود یہ بحران۔ روم کے ایک مقرر مارکس تولیس سسرو نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ سرمائے کی لامحدود فراہمی ہی جنگ کا ایندھن ہوتا ہے۔
ماضی قریب میں سرد جنگ کے دوران میں ریاستوں نے سرمایہ اور بالواسطہ طریقوں سے سیاسی تشدد کو ہوا دیتی رہیں۔
لیکن سرد جنگ کے ختم ہونے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے لیبیا اور سوڈان جیسے ملکوں کے خلاف منظور کی جانے والی قرار دادوں کی وجہ سے ریاستی دہشت گردی میں ڈرامائی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
حزب اللہ جیسی تنظیمیں ریاستی پشت پناہی سے چلتی رہیں، لیکن سرد جنگ کے بعد کی دہشت گرد تنظیمیں ریاستی پشت پناہی پر انحصار نہیں کر سکتی تھی اور انھیں اپنے مالی وسائل ڈھونڈنے کی ضرورت تھی۔
مالی وسائل کا ماہرانہ حساب کتاب ہی کسی دہشت گرد اور باغی گروہوں کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے۔ یہ رگوں میں دوڑتےخون کی طرح اہم بھی ہوتا ہے اور ایک بڑی کمزوری بھی۔
ڈونرز
مالی وسائل حاصل کرنا اور ان کو محفوظ بنانا کسی بھی دہشت گرد گروپ کے لیے بڑا اہم ہوتا ہے۔
سرمائے کی مینیجمٹ، عسکری مہارت اور نئے رضاکاروں کو بھرتی کرنے کی صلاحیت سے ہی دہشت گرد تنظیموں کو کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔
عام طور پر دہشت گرد گروپوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے کے دو بنیادی ذرائع ہوتے ہیں۔
مالی عطیات اکثر اوقات ہم خیال گروپ فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نائجیریا کے بوکو حرام گروپ نے مبینہ طور پر القاعدہ سے ڈھائی لاکھ ڈالر وصول کیے تھے۔
القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے سنہ 2005 میں عراق میں القاعدہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے ایک لاکھ ڈالر منتقل کرنے کو کہا تھا کیونکہ ان کے اپنے مالی وسائل ختم ہو گئے تھے۔
گو کہ عطیات ابتدائی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن اسے حکام کی جانب سے بند کرنے کا خطرہ ہوتا ہے اور اس کی ترسیل معطل ہو سکتی ہے۔
مالی طور پر خود کفیل ہونے کے لیے شدت پسند تنظیموں کو بیرونی عطیات سے بڑھ کر اپنے اندرونی اور اپنے مالی ذرائع پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جسے بین الاقوامی برادری کے لیے روکنا مشکل ہوتا ہے۔
منشیات
صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب اس کی بڑی مثال ہے۔ جبکہ تنظیم کو معمولی عطیات بھی ملتے ہیں لیکن اس نے کوئلہ برآمد کرنے کا ایک مؤثر کاروبار شروع کیا جس سے اسے اقوامِ متحدہ کے مطابق سالانہ 80 لاکھ امریکی ڈالر کی آمدن ہوتی ہے۔
الشباب نے مالی وسائل جمع کرنے کے ایک اور ذریعے پر بھی مہارت حاصل کی ہے اور وہ ہے ذاتی اور ٹرانسپورٹ ٹیکس کا نفاذ۔ تنظیم ایک علاقے اور اس کی آبادی کو کنٹرول کرتی ہے اور اپنے زیرِ کنٹرول علاقے میں حکومتی طرز پر کام کرتی ہے۔ یہ لوگوں سے ٹیکس وصول کرتی ہے اور اس کے بدلے میں انھیں کچھ خدمات دیتی ہیں جن میں سکیورٹی اور انصاف دینا شامل ہے۔
دولتِ اسلامیہ بھی اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں آباد مسلمانوں کو خوراک اور دیگر خدمات کی فراہمی کا وعدہ کرتی ہے۔
کسی علاقے پر کنٹرول سے منافع بخش کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی ملتا ہے جس طرح افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔
افغانستان میں منشیات کے کاروبار کو بند کرنے کے لیے سات ارب امریکی ڈالر سے زائد رقم خرچ کی گئی ہے اور گذشتہ 13 سال کے دوران نیٹو کی جانب سے اس پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود پوست کی کاشت ماضی سے بھی بڑھ کر ہے۔ دنیا کی 90 فیصد افیون کی ترسیل افغانستان سے ہوتی ہے۔ طالبان اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات سے سالانہ ڈیڑھ کروڑ امریکی ڈالر کماتے ہیں۔
لیکن تمام شدت پسند گروہ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے ٹیکس اور بھتہ وصول نہیں کرتے۔ کم آبادی والے صحارا اور ساحل کے وسیع علاقوں میں قائم شدت پسند تنظیم اے کیو آئی ایم اسلامی مغرب میں القاعدہ دو مرکزی ذرائع سے مالی وسائل جمع کرتی ہے۔
افغانستان پاکستان کے سرحدی علاقوں میں قائم حقانی نیٹ ورک کے مالی وسائل کار مرکزی ذریعہ سمگلنگ ہے۔
یہ تنظیم سنہ 1979 میں سابق سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر حملے کی مخالف رہی ہے اور اسی وجہ سے اسے سمگلنگ کے پرانے راستوں پر کنٹرول حاصل ہے اور پاکستان افغانستان میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حقانی نیٹ ورک اپنی مجرمانہ سرگرمیوں سے وسائل اکٹھے کرتا ہے۔
اغوا برائے تاوان
شدت پسند گروہوں کی جانب سے مالی وسائل جمع کرنے کے لیے اغوا برائے تاوان کے طریقے کے استعمال میں تیزی آئی ہے۔
یمن میں قائم اے کیو اے پی یا جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے ایک اندازے کے مطابق سنہ 2011 سے سنہ 2013 کے درمیان اغوا برائے تاوان کے ذریعے 20 لاکھ امریکی ڈالر کمائے۔
اقوامِ متحدہ نے اغوا برائے تاوان سے ہونے والی آمدن کا اندازہ لگاتے ہوئے حال میں افشا کیا ہے کہ شدت پسند تنظیموں کو سنہ 2004 سے سنہ 2012 کے درمیان اغوا برائے تاوان سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر کی آمدن ہوئی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے صرف دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ سال اس طریقۂ کار کے ذریعے 45 لاکھ امریکی ڈالر کمائے۔
پس ظاہر ہوا کہ اگر شدت پسند تنظیموں کو اپنے آپ کو قائم و دائم رکھنا ہے اور بڑھنا ہے تو اسے اپنے زیرِ کنٹرول اور زیرِ اثر علاقوں میں اور آبادی کے اندر مالی وسائل اکٹھے کرنے کے ذرائع پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
عراق پر سنہ 2003 میں حملے کے دوران ملنے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اے کیو آئی یا عراق میں القاعدہ نے مالی وسائل کے اہمیت کو تسلیم کیا تھا۔ ان دستاویزات میں اس گروپ نے معاشی بدانتظامی کو اپنی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔
شدت پسند تنظیم کو قائم و دائم رہنے کے لیے مالی وسائل بے انتہا ضروی ہوتے ہیں جس کے بغیر یہ نہیں چل سکتے اور یہ ان کی ایک بڑی کمزوری بھی ہے۔
نائن الیون کے حملوں کے بعد بین الاقوامی برادری نے شدت پسند گروپوں کو منتشر کرنے کے لیے ان کے مالی وسائل کے ذرائع کو نشانہ بنایا۔
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا پہلا قدم ’دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کے مالی وسائل کی بنیادوں پر حملہ تھا۔‘
تاہم جس طرح ہم شمالی شام اور عراق میں دیکھ رہے ہیں کہ شدت پسندوں کو مالی وسائل سے عاری رکھنا بھی آسان نہیں خاص کر جب وہ بیرونی عطیات سے خود کفالت کی طرف چل پڑتے ہیں۔







