اوباما کی سکیورٹی پر مزید سوالات

واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کی حفاظت پر مامور ایجنسی نے اپنے تمام طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنواقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کی حفاظت پر مامور ایجنسی نے اپنے تمام طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا ہے

کانگریس میں خفیہ ادارے کی ڈائریکٹر سے پوچھے گئے سوالات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ ماہ صدر اوباما کے ساتھ لفٹ میں موجود مسلح سکیورٹی ٹھیکیدار ایک سزا یافتہ مجرم تھا۔

یہ سکیورٹی ٹھیکیدار 16 ستمبر کو صدر اوباما کے ساتھ لفٹ میں موجود تھا اور اسے پہلے ہی سکیورٹی کی ناکامی کی وجہ سے سزا یافتہ قرار دیا گیا تھا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب صدر اوباما اٹلانٹا میں بیماری سے قابو اور بچاؤ کے سینٹرز کا دورہ کر رہے تھے۔

خفیہ ادارے کے ایک اور افسر نے اس کی تصدیق کی ہے لیکن اس پر مزید بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

یہ واقعہ پیش آنے سے ان قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے جس کے مطابق صدر کی موجودگی میں صرف خفیہ ادارے کے آفیسرز ہی ہتھیار اٹھا سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب اس شخص نے صدر اوباما کی لفٹ میں ویڈیو بنانی شروع کی تو سکیورٹی ایجنٹس نے اس سے تفتیش شروع کر دی۔ رپورٹس کے مطابق جب اس کے سپروائزرز کو اس کا علم ہوا تو اس نے اسے فوراً نوکری سے نکال دیا۔

اطلاعات کے مطابق خفیہ ادارے کے اہلکار اس وقت ششدر رہ گئے جب سپروائزر نے اس شخص سے گن واپس کرنے کو کہا۔ انھیں اس بات کا قطعی علم نہیں تھا کہ وہ شخص مسلح ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس شخص کو پہلے تین مرتبہ سزا ہو چکی ہے۔

دریں اثنا ایسی معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ گذشتہ ماہ جس شخص کو وائٹ ہاؤس میں بغیر اجازت داخل ہونے پر گرفتار کیاگیا تھا اسے عمارت کے اُس سے کہیں زیادہ حصوں تک رسائی حاصل ہو گئی تھی جتنا کہ پہلے بتایا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ 42سالہ عمر گونزالس 19 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کے مشرقی کمرے تک پہنچ گئے تھے جہاں سخت سیکیورٹی ہوتی ہے۔

اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ انھیں مشرقی داخلی دروازوں کے قریب ہی روک لیا گیا تھا۔

security service agent

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنخفیہ ایجنسی کا آفیسر ایک اجنبی کو وائٹ ہاؤس میں دیکھ کر اس کے پیچھے بھاگتتے ہوئے

ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ گونزالس ایک چاقو سے مسلح تھے اور اس سے پہلے کے حکام انھیں قابو کرتے وہ وائٹ ہاؤس کا دروازہ عبور کرنے کے بعد دوڑتے ہوئے مشرقی کمرے میں جا پہنچے۔

یہ طویل اور پرتعیش انداز میں سجا ہوا کمرہ عموماً صدارتی خطابات اور رسمی تقریبات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکہ کی خفیہ ایجنسی امریکی صدر براک اوباما کی سیکیورٹی کی ذمہ دار ہے اور تاحال اس کی جانب سے اس واقعے پر کوئی بیان نہیں دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کی حفاظت پر مامور ایجنسی نے اپنے تمام طریقۂ کار کا جائزہ لیا ہے۔

گونزالس پر ممنوعہ عمارت میں بلا اجازت داخل ہونے اور ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

حکام کو گونزالس کی گاڑی سے دو بندوقیں، چار دستی بم، اور دیگر آتش گیر مادہ اور بارودی مواد بھی ملا ہے۔ ان کے پاس وائٹ ہاؤس کا نقشہ بھی تھا جس میں مختلف مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک اہلکار نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے گونزالس سے موسم گرما کے دوران دو مرتبہ انٹرویو کیا تھا اور یہ قرار دیا تھا یہ شخص سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ جس وقت یہ شخص وائٹ ہاؤس میں داخل ہوا اس وقت صدر اوباما اور ان کا خاندان وہاں نہیں تھا اور وہ دس منٹ قبل ہی ہیلی کاپٹر پر وہاں سے روانہ ہوئے تھے۔