’شادی کے لیے ڈرائیونگ لائسنس لازمی‘

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ طلاق کی شرح حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے
،تصویر کا کیپشنسعودی حکام کا کہنا ہے کہ طلاق کی شرح حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے

سعودی عرب کے حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ملک میں شادی کرنے کے لیے مرد حضرات پر ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی شرط لاگو کر دی جائے۔

اس اقدام کا مقصد بظاہر ملک میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کو روکنا ہے۔

<link type="page"><caption> سعودی عرب میں طلاق کا بڑھتا رجحان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/01/140128_saudia_arabia_divorce_rate_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

عرب نیوز کے مطابق سعودی شاہ کی وزارتِ انصاف کے زیرِ غور منصوبے میں شادی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مردوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس کا ہونا ضروری ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ شادی کے متمنی جوڑوں کے لیے رشتہ ازدواج میں بندھنے سے قبل ’شادی کے لیے لازمی تربیت‘ لینا بھی ضروری ہوگا۔

خاندانی امور کے مشیر عبدالسلام الثاقبی کا کہنا ہے کہ یہ نیا منصوبہ اس سے پہلے حکومت کی جانب سے جوڑوں کے طبی معائنہ کروانے کے منصوبے کی ناکامی کے بعد تیار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طبی نتائج اور طلاق یا علیحدگی کے بیچ کوئی تعلق نہیں نکلا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ طلاق کی شرح حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے اور وہ اس عمل کے ریاست پر ہونے والے اثرات سے پریشان ہیں۔

سعودی میڈیا میں بتائے گئے حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر طلاقوں کی وجہ مردوں کی جانب سے شادی کے بعد عورتوں کو ملازمت جاری رکھنے کی اجازت نہ دینا ہے یا پھر شوہروں کی جانب سے بیویوں کی ساری تنخواہ پر قبضہ کر لینا ہے۔