اوباما کی چھٹی پر دنیا کی نظر

مزوری میں خراب حالات کے دوران امریکی صدر کے چھٹی منانے پر خاصی تنقید ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمزوری میں خراب حالات کے دوران امریکی صدر کے چھٹی منانے پر خاصی تنقید ہوئی ہے
    • مصنف, برجیش اپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن

مودی کبھی چھٹی پر جاتے نہیں۔ نواز شریف چھٹی پر جانا نہیں چاہتے لیکن عمران خان ہیں کہ انہیں زبردستی چھٹی پر بھیجنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف بیچارے اوباما کو واشنگٹن کی روزانہ کی مارا ماري سے نکل کر چھٹی پر جانا اچھّا لگتا ہے لیکن جیسے اس پر پوری دنیا کی نظر لگ جاتی ہو۔

صرف دو ہفتے کی چھٹی پر ہی گئے تھے اوباما اور سوچا تھا تازہ دم ہو کر واشنگٹن واپس لوٹیں گے۔

لیکن عراقی شدت پسند جیسے منتظر ہی تھے۔ موقع دیکھتے ہی داداگیري تیز کر دی اور کہہ دیا جو بن پڑے وہ کر لو۔

اب دنیا کا دادا تو بھائی صاحب بس ایک ہی ہے۔

تو اوباما کو کیمرے پر آنا پڑا اور دنیا کو بتانا پڑا کہ ان غنڈوں کو قابو میں لانے کے لیے اگلی پرواز سے ہی وہ اپنے كاركنان کو عراق بھیج رہے ہیں۔

پھر سوچا کہ اب تھوڑی چھٹی منا لیں۔ گولف کھیلی، آئس کریم کھائی، سائیکل چلانے نکلے اور شام کو ایک دوست کی سالگرہ تھی تو بیوی بچوں سمیت وہاں بھی پہنچے۔

پتہ چلا کہ انہوں نے پارٹی میں بجنے والے ہر نغمے پر رقص کیا اور دیر رات تک مستی کی۔ اب اگلے دن تو پاؤں پھیلا کر دیر تک سونا بنتا تھا نہ؟

لیکن علی الصبح خبر آئی کہ مزوری میں فسادات ہو رہے ہیں، پولیس ایسا برتاؤ کر رہی ہے جیسے سياہ فام امریکیوں کو نہیں بلکہ طالبان کو قابو میں کرنے کی کوشش ہو رہی ہو۔

ریاست مزوری میں دو سیاہ فام لڑکوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنریاست مزوری میں دو سیاہ فام لڑکوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہیں

مرتا کیا نہ کرتا۔ کمانڈر ان چیف پھر سے آئے کیمرے پر، سب کو پرسکون رہنے کی تلقین کی، جلد سے جلد اپنے ملازمین کو وہاں بھیجنے کی بات کی۔ نیند تو خراب ہو ہی چکی تھی، سوچا گولف کھیل لیں۔

کھیل شروع ہی کیا تھا کہ عراقی غنڈوں نے دل دہلانے والی ایک ویڈیو جاری کر دی۔ خون كھولنا تو لازمی تھا۔ پھر کیمرے پر آئے، غنڈوں کو برا بھلا کہا، سبق سكھانے کی بات کی اور بھنّائے ہوئے جو کھیل درمیان میں چھوڑ کر آئے تھے اسے پورا کرنے چل دیے۔

آخر کھیل کا بھی ایک قاعدہ ہوتا ہے۔ اوباما نے اپنی باری لے لی ہو گی، جس کے ساتھ کھیل رہے تھے اس کی باری بھی تو دینی تھی۔

لیکن بیڑا غرق ہو اخبار والوں کا۔ ایک نے صفحہ اوّل پر دو بڑی سی تصاویر لگا دیں۔ ایک میں اوباما گولف کھیل رہے ہیں اور دوسری میں مزوری جل رہا ہے۔

یعنی روم جل رہا تھا، نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ مخالفین رپبلكنز کو بیٹھے بیٹھے مسالہ مل گیا۔

اور تو اور، کل تک ياري دوستی کی بات کرنے والی ہلیری کلنٹن نے بھی موقع دیکھا اور انجکشن چبھو دیا۔

ہلیری کلنٹن 2016 میں پھر سے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کا خواب دیکھ رہی ہیں اور ان کے لیے اوباما کی ناکامیوں سے خود کو الگ کرنا ضروری ہو رہا ہے۔

امریکی صحافی جیمز فولی کی ہلاکت کی ویڈیو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے جاری کی
،تصویر کا کیپشنامریکی صحافی جیمز فولی کی ہلاکت کی ویڈیو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے جاری کی

بس انہوں نے بھی ایک انٹرویو میں اوباما کی خارجہ پالیسی کی کھنچائی کر ڈالی اور پھر زخم پر نمک چھڑکنے کی غرض سےاسی شہر میں اپنی کتاب کی تشہیر کے لیے پہنچ گئیں جہاں اوباما چھٹیاں گزار رہے تھے۔

ساتھ ہی اوباما کو فون کر کے یہ بھی کہہ دیا کہ میرا آپ کو نیچا دکھانے کا کوئی مقصد نہیں تھا، معافی چاہتی ہوں۔ پرسوں ایک پارٹی ہو رہی ہے اس میں آپ سے ملاقات تو ہوگی نا؟

اندر سے خون کا گھونٹ پیتے ہوئے اوباما نے کہا ہوگا ضرور ملاقات ہوگی۔

خیر، آئندہ پیر کو ان کی چھٹی ختم ہو رہی ہے۔ کہاں تو تازہ دم ہونے گئے تھے، اور کہاں چار اور بال سفید ہو گئے۔

لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ وہی چہرہ ہے جس کے ساتھ بکنی پہنے ہوئی سپر ماڈلز سمندر میں نہانے کا خواب دیکھتی تھیں اور گاتی تھیں’آئی ہیو گاٹ اے کرش آن اوباما!‘

تو بھائیوں اور بہنوں، ذرا دنیا کو پرسکون رکھیں۔ ایک صدر تھے جنہوں نے اپنے حساب سے کافی سوچ سمجھ کر عراق پر حملہ کیا تھا اور دنیا کا اس کے بعد کیا حال ہوا آپ نے دیکھا ہی ہے۔

اوباما تو غصّے میں بھرے ہیں۔ ایسے میں کچھ ایسا ویسا فیصلہ کر لیا تو بھگتنا آپ ہی کو پڑے گا۔