چین میں اعلی سیاسی شخصیت کے خلاف تحقیقات

چین میں اس طرح کی تحقیقات کا یہ دوسرا واقع ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچین میں اس طرح کی تحقیقات کا یہ دوسرا واقع ہے

چین میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سکیورٹی کے سابق سربراہ ژہو ژانگ کینگ کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ژہو ژانگ کے خلاف ہونے والی تحقیقات کی خبر نے کئی ماہ سے جاری ان افواہوں کی تصدیق کی ہے جو چین کی حکومت کے نہایت اہم اور با اثر وزیر کے کئی ماہ سے منظر سے غائب ہونے کے سبب شروع ہوئیں تھیں۔

ژہو ژانگ چین کی پبلک سکیورٹی کی وزارت کا اہم کلمدان سنبھالے ہوئے تھے اور چین کے اعلی ترین فیصلہ ساز ادارے پولٹ بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن تھے۔

چینی حکومت کے اس اقدام سے ملک کی سیاسی اشرافیہ میں تشویش پیدا ہونے کا امکان ہے۔

چین میں سنہ 1980 کے بعد جب ماو ژے تنگ کی بیوی سمیت ’گینگ آف فور‘ یا چار کے ٹولے کے خلاف تحقیقات کی گئی تھیں یہ پہلی اعلی ترین سیاسی شخصیت ہیں جن کے خلاف تحقیقات کی جاری رہی ہیں۔

سرکاری خبررساں ادارے ژنوا سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ یہ تحقیقات کیمونسٹ پارٹی میں بدعنوانیوں پر نظر رکھنے والے ادارے ، سینٹرل کمیشن فار ڈسپلن انپکشن کے ذریعے کرائی جائیں گی۔

ان تحقیقات کو مکمل کرنے کے لیے مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے لیکن توقع ہے کہ یہ تحقیقات چند ماہ میں مکمل کر لی جائیں گی۔

ژہو ژانگ سے قریبی روابطہ رکھنے والے کئی افراد کو بھی ان تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔

ژہو جو سنہ 2012 کے آخر میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے وہ اپنی سرکاری نوکری کے دوران اہم عہدوں پر فائز رہے جن میں چین کی توانائی پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی چائنہ نیشنل پیٹرول کمپنی بھی شامل ہے۔