سعودی عرب: جنسی تبدیلی کے بعد شہری کو مشکلات کا سامنا

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب میں ایک شخص کو شکایت ہے کہ 2010 میں تبدیلی جنس کے آپریشن کے بعد سے حکام نے انھیں نیا شناختی کارڈ جاری نہیں کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئی دستاویز کے لیے تین سال قبل درخواست دی تھی جو کہ بلاجواز تاخیر کا شکار ہے۔ اس شخص نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔
مقامی اخبار سعودی گزٹ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے دوسرے سال تک وہ بطور ایک خاتون عام زندگی گزار رہی تھیں کہ انھوں نے اپنے اندر شدید جسمانی تبدیلیاں دیکھیں۔
’میری آواز سخت بھاری ہونے لگی اور میرے جسم پر مردوں کی طرح بال آگنے لگے۔ مجھ میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے یہ معلوم ہو کہ میں ایک خاتون ہوں۔ جب تک میں نے یونیورسٹی ختم کی، میری زندگی انتہائی مشکل تھی۔‘
جب ان کے گھر والے انھیں بیرونِ ملک علاج کے لیے لےگئے تو مختلف ٹیسٹوں کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔ ان کے جسم میں مردانہ کروموسوم پائےگئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ خبر میرے لیے ایک دھچکہ تھی۔ میں بہت زیادہ پریشان تھا۔‘
تاہم انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جنسی تبدیلی کا آپریشن کروائیں گے اور نئی زندگی شروع کریں گے۔ ’یہ آپریشن اور اس کے بعد صحت یابی کا عمل انتہائی تکلیف دہ تھا۔‘
تاہم ان کی مشکلات وہاں ختم نہیں ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وطن واپسی پر انھوں نے اپنی تمام میڈیکل رپورٹیں متعلقہ حکام کو بھیجیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اب ایک خاتون نہیں ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے وہ مدینہ سول سٹیٹس محکمے میں گئے جہاں سے انھیں مدینہ طبی امور کے دفاتر کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس کے بعد انھیں مکہ کے النور ہسپتال بھیجا گیا۔
ہسپتال نے ان سے دستاویزات لے کر انتظار کے لیے کہا کیونکہ انہیں ایک کمیٹی تشکیل دینا تھی جو کہ ان کے مرد ہونے کے دعوے کو ثابت کر سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں تب سے اس کمیٹی کی تشکیل کا انتظار کر رہا ہوں۔‘
بعد میں جب انہوں نے ایک اور دفعہ سول سٹیٹس محکمے کے حکام کو تکلیف دی تو انہیں ایک مختلف ہسپتال کی جانب روانہ کر دیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ان کی درخواست گم گئی ہے اور انہیں تمام دستاویزات دوبارہ جمع کروانا ہوں گی۔
وہ کہتے ہیں ’میں انتہائی بے بس محسوس کر رہا تھا۔ کسی کو احساس نہیں تھا کہ میں کن مشکلات سے گزر رہا ہوں۔ مجھے نفسیاتی علاج اور مدد کی ضرورت ہے۔‘
سعودی گزٹ نے مکہ میں طبی امور کے محکمے کے ترجمان بسام المغربی سے جب اس کیس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ فروری 2013 میں انہیں یہ درخواست موصول ہوئی تھی جس کے بعد اس کیس پر غور کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل کی گئی تھی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مریض کو جس ہسپتال جانے کے لیے کہا گیا تھا وہ وہاں نہیں گئے اور ان کا کیس ابھی زیرِ غور ہے۔







