حقانی نیٹ ورک کے تین رہنما ’عالمی دہشت گردوں‘ کی فہرست میں شامل

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی حکام نے حقانی نیٹ ورک سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے پر تین افراد یحییٰ حقانی، سید اللہ جان اور محمد عمر زدران کو ’خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد حقانی نیٹ ورک کو میسر مالیاتی وسائل کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کے بعد امریکی حکام ان افراد سے منسلک تمام مالیاتی اثاثے منجمد کر سکیں گے۔
امریکہ افغانستان میں نیٹو افواج پر ہونے والے متعدد حملوں کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کو ٹھہراتا ہے۔
کسی بھی امریکی شہری یا تنظیم کو ان افراد کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات کی اجازت نہیں ہوگی۔ امریکہ پہلے ہی حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے ایک اہل کار ڈیوڈ کوہن نے اس موقعے پر کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان میں حقانی نیٹ ورک امریکی شہریوں، فوجیوں اور ہمارے وسیع تر مفادات کے لیے ایک خطرہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جہاں پر حقانی نیٹ ورک کی مالیاتی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا موقع ملے گا، ہم وہاں کارروائی کریں گے۔‘
محمد عمر زدران پر افغان طالبان کے ساتھ تعلق رکھنے کا بھی الزام ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبے خوست میں محمد عمر زدران کی کمان میں ایک سو سے زیادہ شدت پسند جنگجو موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمۂ خزانہ کے مطابق 2011 میں سراج الدین حقانی اور بدرالدین حقانی کی منصوبہ بندی سے کابل کے انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر ہونے والے حملے کا یحییٰ حقانی کو پہلے سے معلوم تھا۔ اس حملے میں 18 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یحییٰ حقانی اس نیٹ ورک کے کمانڈروں کو پیسے فراہم کرنے کے ذمے دار ہیں۔
امریکہ کا خیال ہے کہ حقانی نیٹ ورک کا ٹھکانہ پاکستان کے شمالی وزیرستان میں ہے اور وہ وہیں سے افغانستان میں حملے کرتا ہے۔
امریکہ کا یہ بھی الزام ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے درمیان گہرے تعلقات ہیں اور 2011 میں امریکی فوجی سربراہ مائیک ملن نے اس نیٹ ورک کو آئی ایس آئی کا ہی ایک بازو قرار دیا تھا۔ پاکستان ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہOther
امریکی کانگریس نے اپنی بجٹ دستاویز میں تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد کو پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے ساتھ مشروط کر دیا جائے۔
حقانی نیٹ ورک کے خلاف اوباما انتظامیہ نے یہ اعلان ایسے وقت کیا ہے جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کی واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔
صدر اوباما کے ساتھ بات چیت کے بعد کانگریس کے کچھ اراکین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ صدر اوباما 2017 کے بعد افغانستان میں ایک بھی امریکی فوجی رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق تو نہیں کی ہے لیکن اتنا ضرور کہا ہے کہ ’ کچھ سینیٹر ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں امریکی فوج برسوں تک افغانستان میں رہے۔ کچھ سینیٹر ایسی دنیا چاہتے تھے جہاں امریکی فوج برسوں تک عراق میں رہے۔ لیکن صدر اوباما ایسی دنیا نہیں چاہتے۔‘
صدر اوباما 2014 کے آخر تک افغانستان سے فوج واپس لانے کا اعلان کر چکے ہیں لیکن کچھ فوجی وہاں رہیں گے۔ ان کی تعداد کیا ہوگی اس پر ابھی بھی فیصلہ ہونا باقی ہے اور وہ تصویر تبھی واضح ہوگی جب افغانستان امریکہ کے ساتھ دوطرفہ سیكيورٹي معاہدے پر دستخط کر لے گا۔







