منڈیلا: نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 6 دسمبر 2013 ,‭ 05:49 GMT 10:49 PST

جدوجہد کا آغاز

1964 میں عمر قید کی سزا ملنے کے بعد جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی عالمگیر علامت بن گئے۔ تاہم نسلی تعصب کے خلاف ان کی مزاحمت اس سے کئی برس پہلے شروع ہو چکی تھی۔

بیسویں صدی کے بڑے حصے تک جنوبی افریقہ پر دو طبقوں کی حکمرانی رہی ہے: نیشنل پارٹی اور ڈچ ریفارم چرچ۔ ان کا عقیدہ انجیل کی ایک مخصوص تفہیم پر مبنی تھا جس میں سفید قوم کو ’منتخب قوم‘ کے درجے پر فائز کر دیا گیا تھا۔

جنوبی افریقہ میں نسل پرستی (apartheid) کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جب جنوبی افریقہ میں یورپی حکمرانی کا آغاز ہوا، اس کے ساتھ ہی نسل پرستی کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔

لیکن نسل پرستی کو 1948 میں نیشنل پارٹی کی پہلی حکومت کے برسرِ اقتدار میں آنے کے بعد قانون کا درجہ حاصل ہو گیا۔ ان انتخابات میں صرف سفید فام افراد ہی کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی۔

قانونی لحاظ سے نسل پرستی کے تین بنیادی حصے تھے: نسلی درجہ بندی کا قانون، جس میں ہر مشتبہ غیر یورپی شخص کو نسل کی بنیاد پر درجہ دیا گیا تھا۔

دوغلی شادیوں کا قانون، جس میں مختلف نسلوں کے لوگوں کے درمیان شادی کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔

گروہی علاقوں کا قانون، جس میں مخصوص نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مقررہ علاقوں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔

افریقی نیشنل کانگریس 1912 میں سیاہ فام افریقیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی تھی۔ نیلسن منڈیلا نے 1942 میں اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔

والٹر سسولو اور اولیور ٹیمبو سمیت ذہین اور سرگرم نوجوانوں کے ایک گروپ کے ہمراہ انھوں نے اے این سی کو ایک عوامی سیاسی تحریک میں تبدیل کر دیا۔

نیشنل پارٹی کے انتخاب پر اے این سی کا ردِ عمل فوری اور غیر لچکدار تھا۔ 1949 میں انھوں نے بائیکاٹ، ہڑتالوں، سول نافرمانی اور عدم تعاون سے سفید تسلط کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

اسی دوران اے این سی کی قدامت پرستانہ پرانی قیادت کی جگہ نئی اور رجعت پسند قیادت آگئی۔ سِسولو پارٹی کے نئے سیکریٹری جنرل بن گئے اور منڈیلا کو پارٹی کی قومی مجلسِ عاملہ کا رکن منتخب کر لیا گیا۔

میثاقِ آزادی

1955 میں منڈیلا نے اے این سی کا میثاقِ آزادی لکھا

1950 کی دہائی کے اوائل میں منڈیلا نے پارٹی کی ’حکم عدولی مہم‘ کے سربراہِ اعلیٰ کی حیثیت سے جنوبی افریقہ کا دورہ کیا اور اس دوران بڑے پیمانے پر سوِل نافرمانی کی مہموں کو منظم کیا۔

منڈیلا کو کمیونزم کی روک تھام کے قانون کے تحت معطل سزا ملی۔ بعد میں ان کے عوامی اجتماعات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی، اور چھ ماہ تک جوہانسبرگ میں محدود کر دیا گیا۔

انھوں نے اے این سی کے لیے ایک نیا تنظیمی منصوبہ شروع کیا جس کا نام ایم پلان رکھا گیا، جس سے اے این سی کئی پوشیدہ دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔

1955 میں منڈیلا نے اے این سی کا میثاقِ آزادی لکھا جس میں کہا گیا تھا: ’جنوبی افریقہ ان سب کا ہے جو وہاں رہتے ہیں، چاہے وہ سفید فام ہوں یا سیاہ فام، اور کوئی حکومت اس وقت تک مقتدر نہیں ہے جب تک وہ تمام عوام کی مرضی سے قائم نہ کی گئی ہو۔‘

اس سے اگلے برس انھیں اے این پی کی قیادت کے بڑے حصے کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے میثاقِ آزادی کی پشت پناہی کر کے غداری کی ہے۔

طویل عرصہ چلنے والے مقدمے کے بعد تمام افراد کو 1961 میں رہا کر دیا گیا۔

لیکن نیشنل پارٹی نے 1958 میں ایک ایسا قدم اٹھایا جس سے کشیدگی کے شعلے مزید بھڑک اٹھے۔ انھوں نے سیاہ فام یا رنگ دار کے زمرے میں آنے والے تمام افراد کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔

مفرور مینڈیلا

شارپ ول کے قتلِ عام پر دنیا بھر میں تنقید ہوئی تھی

دو سال بعد نسل پرستانہ قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران 69 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعے کو شارپ ول کا قتلِ عام کہا جاتا ہے۔ نو دن بعد حکومت نے اے این سی کو ممنوع قرار دے دیا اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔

ہزاروں سیاسی کارکنوں کو بغیر مقدمہ چلائے پابندِ سلاسل کر لیا گیا۔ ان میں نیلسن منڈیلا بھی شامل تھے۔

1961 میں جنوبی افریقہ اکثریتی حکومت کے تصور کر رد کر کے دولتِ مشترکہ سے الگ ہو گیا اور اپنے آپ کو ری پبلک قرار دے دیا۔

منڈیلا اب جیل سے باہر تھے۔ انھوں نے پائٹرمارٹسبرگ میں 1400 افراد کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت ایک جمہوری مستقبل کے لیے مذاکرات نہ شروع کرے ، اس وقت تک قومی ہڑتال رہے گی۔

حکومتی ہٹ دھرمی اور ہڑتال کی اپیل پر نیم دلانہ ردِ عمل کی وجہ سے منڈیلا زیرِ زمین چلے گئے۔

اب وہ مفرور تھے، خاص طور پر اب جب کہ اے این سی نے تشدد کا پرچار شروع کر دیا تھا، اور منڈیلا پارٹی کے نئے فوجی بازو کے کمانڈر تھے۔

ان کی قیادت میں اے این سی نے سبوتاژ کی کارروائیاں شروع کر کے سرکاری دفاتر، بجلی کے کھمبوں اور پولیس تھانوں پر حملے شروع کر دیے۔

عالمگیر مہم اور کامیابی

منڈیلا کی رہائی کے لیے چلائی گئی مہم دن بدن مقبول ہوتی گئی

منڈیلا اب چھپتے پھرتے تھے۔ انھوں نے اس دوران کئی سوانگ بھرے، جن میں شوفر اور مالی کے بھیس شامل ہیں۔ اس دوران وہ حمایت حاصل کرنے کے لیے ملک سے باہر چلے گئے لیکن انھیں 1962 میں انھیں پکڑ کر کے پانچ برس کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا۔

دو سال بعد منڈیلا کو ریوونیا مقدمے کے بعد سبوتاژ کا مرتکب ہونے کی پاداش میں عمر بھر قید کی سزا سنا کر جزیرہ رابن کی جیل میں بھیج دیا گیا۔

منڈیلا کی کہانی یہاں ختم ہو سکتی تھی۔ ان کی اور اے این سی کی کمر توڑ دی گئی تھی، مغربی ممالک جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی حمایت جاری رکھے ہوئے تھے۔ ایسے عالم میں تبدیلی بہت مشکل اور بہت دور نظر آتی تھی۔

لیکن 1970 کی دہائی میں جنگجو ’سیاہ ضمیر تحریک‘ کے آغاز اور تحریک کے ایک رہنما کی دورانِ حراست ہلاکت سے منڈیلا اور اے این سی کو نئی زندگی مل گئی۔

پھر جب سیاہ فام بستیوں کو آگ لگنے کے کچھ واقعات ہوئے تو دنیا بھر نسل پرستی کے خلاف تحریک شروع ہو گئی، جس کا ایک مقصد نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھی قیدیوں کو رہا کروانا تھا۔

منڈیلا نے جیل کے اندر سے کثیر قومی جنوبی افریقہ کے تصور سے لو لگائی رکھی، حالانکہ سیاہ ضمیر والے اس کے مخالف تھے۔ منڈیلا نے اپنی تعلیمات میں ذاتی اور سیاسی نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دیا۔

بین الاقوامی پابندیوں اور میوزک کانسرٹوں کی وجہ سے ان کا نام اور ان کے مصائب زندہ رہے۔

جنوبی افریقہ اب تنہا ہو چکا تھا۔ کمپنیوں اور بینکوں نے وہاں کاروبار کرنے سے انکار کر دیا اور تبدیلی کے نعرے بلند سے بلند تر ہوتے گئے۔

1990 کے آتے آتے جنوبی افریقہ کی حکومت نے نسل پرستانہ قوانین کو نرم کرنا شروع کر دیا اور بالآخر مذاکرات پر آمادہ ہو گئی۔ فروری 1990 میں نیلسن منڈیلا کو رہا کر دیا گیا۔

جب 1994 میں انھیں صدر منتخب کیا گیا تو جنوبی افریقہ سے نسل پرستی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اب جنوبی افریقی شہری قانون کی نظر میں برابر تھے اور اب وہ اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دے سکتے تھے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکتے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>