نیلسن منڈیلا کی زندگی تصاویر میں

جنوبی افریقہ میں سفید فام اقلیتی حکومت کے خاتمے کے لیے ایک طویل لڑائی لڑنے کے بعد ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بننے والے نیلسن منڈیلا کی زندگی تصاویر میں

جنوبی افریقہ میں سفید فام اقلیتی حکومت کے خاتمے کے لیے ایک طویل لڑائی لڑنے کے بعد ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بننے والے نیلسن منڈیلا انتقال کر گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ میں سفید فام اقلیتی حکومت کے خاتمے کے لیے ایک طویل لڑائی لڑنے کے بعد ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بننے والے نیلسن منڈیلا انتقال کر گئے ہیں۔
مشرقی کیپ میں ایک قبائلی سردار کے خاندان میں پیدا ہونے والے منڈیلا نے جوہانسبرگ میں وکالت پڑھی اور افریقن نیشنل کانگریس میں شامل ہو کر نسل پرستی کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔
،تصویر کا کیپشنمشرقی کیپ میں ایک قبائلی سردار کے خاندان میں پیدا ہونے والے منڈیلا نے جوہانسبرگ میں وکالت پڑھی اور افریقن نیشنل کانگریس میں شامل ہو کر نسل پرستی کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔
نوجوانی میں نیلسن منڈیلا ایک شوقین باکسر تھے۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری ’لانگ واک ٹو فریڈم‘ (آزادی کا طویل سفر) میں لکھا کہ باکسنگ مساویانہ کھیل ہے، باکسنگ کے رِنگ میں عہدہ، عمر، رنگ اور دولت کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔
،تصویر کا کیپشننوجوانی میں نیلسن منڈیلا ایک شوقین باکسر تھے۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری ’لانگ واک ٹو فریڈم‘ (آزادی کا طویل سفر) میں لکھا کہ باکسنگ مساویانہ کھیل ہے، باکسنگ کے رِنگ میں عہدہ، عمر، رنگ اور دولت کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔
1956 میں نیلسن منڈیلا پر اے این سی سے تعلق کی وجہ سے غداری کا الزام عائد ہوا۔ مقدمے کے دوران ان کی ملاقات ایک سماجی کارکن ونی میدیکیزیلا سے ہوئی جس کے دو برس بعد ان کی ایویلن میس سے پہلی شادی طلاق پر منتج ہوئی۔
،تصویر کا کیپشن1956 میں نیلسن منڈیلا پر اے این سی سے تعلق کی وجہ سے غداری کا الزام عائد ہوا۔ مقدمے کے دوران ان کی ملاقات ایک سماجی کارکن ونی میدیکیزیلا سے ہوئی جس کے دو برس بعد ان کی ایویلن میس سے پہلی شادی طلاق پر منتج ہوئی۔
نیلسن منڈیلا اور ونی کی شادی 1958 میں ہوئی لیکن وہ اپنی خاندانی زندگی کا زیادہ لطف نہیں اٹھا سکے کیونکہ دونوں ہی جیل جاتے رہے۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا اور ونی کی شادی 1958 میں ہوئی لیکن وہ اپنی خاندانی زندگی کا زیادہ لطف نہیں اٹھا سکے کیونکہ دونوں ہی جیل جاتے رہے۔
1964 میں غداری کے ایک اور مقدمے میں انھیں ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں عمر قید کی سزا ہوئی۔
،تصویر کا کیپشن1964 میں غداری کے ایک اور مقدمے میں انھیں ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں عمر قید کی سزا ہوئی۔
جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف بین الاقوامی مہم کا آغاز ہوا۔ حالانکہ اس پر سخت معاشی پابندیاں نہیں عائد کی گئیں تاہم دنیا بھر کی نامور شخصیات سمیت عام لوگوں کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔
،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف بین الاقوامی مہم کا آغاز ہوا۔ حالانکہ اس پر سخت معاشی پابندیاں نہیں عائد کی گئیں تاہم دنیا بھر کی نامور شخصیات سمیت عام لوگوں کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔
نیلسن منڈیلا کا چہرہ نسل پرستی کے خلاف جاری عالمی مہم کا علامتی نشان بن گیا۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا کا چہرہ نسل پرستی کے خلاف جاری عالمی مہم کا علامتی نشان بن گیا۔
دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ قید میں گزارنے کے بعد 1990 میں نیلسن منڈیلا کو رہا کر دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشندو دہائیوں سے زیادہ عرصہ قید میں گزارنے کے بعد 1990 میں نیلسن منڈیلا کو رہا کر دیا گیا۔
رہائی کے بعد نیلسن منڈیلا نے آئندہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کے پیشِ نظر دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کیا۔ وہ لندن میں جنوبی افریقہ ہاؤس کے باہر نسل پرستی کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں بھی شامل ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنرہائی کے بعد نیلسن منڈیلا نے آئندہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کے پیشِ نظر دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کیا۔ وہ لندن میں جنوبی افریقہ ہاؤس کے باہر نسل پرستی کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں بھی شامل ہوئے۔
اُس وقت جنوبی افریقہ کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک نے سخت مذاکرات کے بعد آئندہ انتخابات کی شرائط پر رضا مندی ظاہر کی۔ 1993 میں ان دونوں افراد کو مشترکہ طور پر امن کا نوبل انعام دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشناُس وقت جنوبی افریقہ کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک نے سخت مذاکرات کے بعد آئندہ انتخابات کی شرائط پر رضا مندی ظاہر کی۔ 1993 میں ان دونوں افراد کو مشترکہ طور پر امن کا نوبل انعام دیا گیا۔
جنوبی افریقہ میں پہلے جمہوری انتخابات 27 اپریل 1994 کو منعقد ہوئے۔ پہلی مرتبہ سیاہ فام افراد نے لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ اے این سی نے بھاری اکثریت سے انتخابات جیتے اور نیلسن منڈیلا ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بن گئے۔
،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ میں پہلے جمہوری انتخابات 27 اپریل 1994 کو منعقد ہوئے۔ پہلی مرتبہ سیاہ فام افراد نے لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ اے این سی نے بھاری اکثریت سے انتخابات جیتے اور نیلسن منڈیلا ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بن گئے۔
نیلسن منڈیلا نے بحیثیت صدر صرف ایک ٹرم کے لیے کام کیا اور 1999 میں رضاکارانہ طور پر آئندہ انتخابات سے الگ ہونے والے افریقہ کے چند ہی رہنماؤں میں سے ایک بن گئے۔ تھابو میبکی کو یہ مشکل ترین کام سونپا گیا کہ وہ نیلسن منڈیلا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جنوبی افریقہ اور افریقن نیشنل کانگریس دونوں کی رہنمائی کریں۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا نے بحیثیت صدر صرف ایک ٹرم کے لیے کام کیا اور 1999 میں رضاکارانہ طور پر آئندہ انتخابات سے الگ ہونے والے افریقہ کے چند ہی رہنماؤں میں سے ایک بن گئے۔ تھابو میبکی کو یہ مشکل ترین کام سونپا گیا کہ وہ نیلسن منڈیلا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جنوبی افریقہ اور افریقن نیشنل کانگریس دونوں کی رہنمائی کریں۔
نیلسن منڈیلا نہ صرف دنیا کے پسندیدہ حکمران بنے بلکہ شوخ رنگوں کی قمیضیں پہننے کی وجہ سے وہ ایک فیشن آئیکان بھی بن گئے۔ اس تصویر میں وہ فیشن ڈیزائنر پیری کاردن (بائیں جانب) کے ساتھ صحافیوں سے پوچھتے رہے ہیں کہ اِن کی قمیضوں کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے؟
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا نہ صرف دنیا کے پسندیدہ حکمران بنے بلکہ شوخ رنگوں کی قمیضیں پہننے کی وجہ سے وہ ایک فیشن آئیکان بھی بن گئے۔ اس تصویر میں وہ فیشن ڈیزائنر پیری کاردن (بائیں جانب) کے ساتھ صحافیوں سے پوچھتے رہے ہیں کہ اِن کی قمیضوں کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے؟
منڈیلا میں دو ایسی خوبیاں تھیں جو عموماً دوسرے رہنماؤں میں نہیں پائی جاتیں، ایک برداشت اور دوسری خود پر ہنسنا۔ یہاں وہ برطانیہ کے شہزادہ چارلس اور سپائس گرلز کے ساتھ ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمنڈیلا میں دو ایسی خوبیاں تھیں جو عموماً دوسرے رہنماؤں میں نہیں پائی جاتیں، ایک برداشت اور دوسری خود پر ہنسنا۔ یہاں وہ برطانیہ کے شہزادہ چارلس اور سپائس گرلز کے ساتھ ہیں۔
ونی سے طلاق کے بعد نیلسن منڈیلا نے 1998 میں اپنی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر گراسا مشیل سے شادی کی۔ وہ موزنبیق کے سابق رہنما سمورا مشیل کی بیوہ تھیں۔ نیلسن منڈیلا اور گارسا مشیل نے افریقہ کے غریب بچوں کی مدد کے لیے ایک فلاحی ادارہ بنایا۔
،تصویر کا کیپشنونی سے طلاق کے بعد نیلسن منڈیلا نے 1998 میں اپنی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر گراسا مشیل سے شادی کی۔ وہ موزنبیق کے سابق رہنما سمورا مشیل کی بیوہ تھیں۔ نیلسن منڈیلا اور گارسا مشیل نے افریقہ کے غریب بچوں کی مدد کے لیے ایک فلاحی ادارہ بنایا۔
1999 میں اقتدار چھوڑنے کے بعد سے نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے اعلیٰ ترین سفیر بن گئے، انہوں نے ایچ آئی وی ایڈز کے خلاف ایک مہم چلائی اور جنوبی افریقہ کو 2010 میں فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
،تصویر کا کیپشن1999 میں اقتدار چھوڑنے کے بعد سے نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے اعلیٰ ترین سفیر بن گئے، انہوں نے ایچ آئی وی ایڈز کے خلاف ایک مہم چلائی اور جنوبی افریقہ کو 2010 میں فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
2004 میں نیلسن منڈیلا 85 برس کی عمر میں عوامی زندگی سے ریٹائر ہو گئے اور زیادہ وقت اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ گزارنے لگے۔
،تصویر کا کیپشن2004 میں نیلسن منڈیلا 85 برس کی عمر میں عوامی زندگی سے ریٹائر ہو گئے اور زیادہ وقت اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ گزارنے لگے۔
نیلسن منڈیلا نے غیر متوقع طور پر 2010 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ اس وقت ان کی صحت خراب تھی اور وہ اپنی پڑ پوتی کی موت کے بعد صدمے میں تھے جو ورلڈ کپ کے آغاز میں ہی قتل ہوگئی تھیں۔
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا نے غیر متوقع طور پر 2010 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ اس وقت ان کی صحت خراب تھی اور وہ اپنی پڑ پوتی کی موت کے بعد صدمے میں تھے جو ورلڈ کپ کے آغاز میں ہی قتل ہوگئی تھیں۔
نیلسن منڈیلا 2012 میں اپنی 94ویں سالگرہ مناتے ہوئے۔ اقوام ِ متحدہ نے 2009 میں ان کے یومِ پیدائش کو منڈیلا کا عالمی دن قرار دیا جس کے بعد ہر برس جولائی کی 18 تاریخ کو دنیا بھر میں لوگوں سے جمع ہو کر (منڈیلا کے 67 سالہ سیاسی کریئر کے لیے) علامتاً اپنے 67 منٹ دوسروں کی مدد میں صرف کرنے کو کہا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشننیلسن منڈیلا 2012 میں اپنی 94ویں سالگرہ مناتے ہوئے۔ اقوام ِ متحدہ نے 2009 میں ان کے یومِ پیدائش کو منڈیلا کا عالمی دن قرار دیا جس کے بعد ہر برس جولائی کی 18 تاریخ کو دنیا بھر میں لوگوں سے جمع ہو کر (منڈیلا کے 67 سالہ سیاسی کریئر کے لیے) علامتاً اپنے 67 منٹ دوسروں کی مدد میں صرف کرنے کو کہا جاتا ہے
منڈیلا کو دسمبر 2012 کے بعد سے تین مرتبہ پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا اور ایسٹر کے موقع پر ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی گئیں
،تصویر کا کیپشنمنڈیلا کو دسمبر 2012 کے بعد سے تین مرتبہ پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا اور ایسٹر کے موقع پر ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی گئیں
اپریل 2013 میں منڈیلا کی ایک فوٹیج سامنے آئی جس میں وہ انتہائی کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ جون میں انہیں دوبارہ ہسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشناپریل 2013 میں منڈیلا کی ایک فوٹیج سامنے آئی جس میں وہ انتہائی کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ جون میں انہیں دوبارہ ہسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا۔