دس لاکھ ڈالر کی لاٹری کی چوری کی کوشش

امریکی ریاست نیویارک میں پولیس کا کہنا ہے کہ لانگ آئی لینڈ میں ایک دکاندار اور اس کے بیٹے کو لاٹری جیتنے والے ایک شخص سے فریب اور جعل سازی کرنے کا ملزم قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق باپ بیٹے نے مل کر اس شخص کی انگریزی زبان سے ناواقفیت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
نساو کاؤنٹی پولیس کے مطابق ہسپانوی بولنے والے ایک 34 سالہ شخص نے جمعرات کو ہمیپسٹد میں پیننسیولا ڈیلی اینڈ گراسری کی دکان سے لاٹری کا ایک ٹکٹ ’ان ریپ دا کیش‘ خریدا تھا۔
پولیس کے مطابق جب اس لاٹری کے ٹکٹ خریدنے والے کو یہ احساس ہوا کہ ان کا انعام نکلا ہے تو انھوں نے لاٹری کا سکریچ کارڈ 26 سالہ دکاندار کریم جگہب کو دیا۔ کریم جگہب دکان کے مالک 57 سالہ نبیل جگہب کے بیٹے ہیں۔
پولیس کے مطابق دکان پر موجود کلرک نے تصدیق کی کہ انہیں انعام ملا ہے اور نیویارک سٹیٹ لاٹری کی جانب سے ایک پیغام آیا ہے جس میں لکھا تھا ’جیک پاٹ انعام کے حقدار اصلی ٹکٹ کے ساتھ اپنا دعویٰ پیش کریں۔‘
پولیس کے مطابق جگہب نے لاٹری جیتنے والے کو لاٹری ٹکٹ کے بدلے ایک ہزار ڈالر کیش دے دیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’متاثرہ شخص جیت کے احساس کے ساتھ دکان سے چلا گیا لیکن انعام کی رقم اصل میں دس لاکھ امریکی ڈالر تھی۔‘

پولیس کے مطابق وہ شخص جو اچھی طرح انگریزی زبان نہیں بول سکتا ہے، شک ہونے پر دوسرے دن جمعے کو پھر کریم سے معاملہ دریافت کرنے گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دکان کے کلرک نے اس سے کہا کہ اگر وہ پولیس کے پاس نہ جائے تو وہ اسے دس ہزار ڈالر دینے کے لیے تیار ہے۔‘
پولیس کے مطابق کریم کے والد نبیل نے بھی اس سے یہی بتایا کہ اس نے دس ہزار ڈالر کا انعام جیتا ہے۔
جب اس ہسپانوی کو مزید شک ہوا تو اس نے پولیس کو اطلاع دی۔
اطلاعات کے مطابق دونوں باپ بیٹے لاٹری کی رقم ہڑپ کرنے کی تیاری میں تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ دونوں اپنے گاہک کو دھوکہ دینے اور انعام کی رقم کو خود ہی وصول کرنے کے چکر میں تھے۔
واضح رہے کہ 600 ڈالر سے زیادہ کے انعام کی رقم کو حاصل کرنے کے لیے نیویارک سٹیٹ لاٹری کے دفتر جانا پڑتا ہے اور اسے ٹکٹ فروخت کرنے والی دکان سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
مقامی میڈیا کے مطابق دکاندار کے وکیل نے کہا ہے کہ یہ ایک ’معمولی غلطی‘ کا واقعہ ہے جو لاٹری مشین کی وجہ سے ہوا ہے۔







