دمشق منتظر ہے۔۔۔

- مصنف, لینا سنجاب
- عہدہ, دمشق میں بی بی سی کا سابق نامہ نگار
دمشق کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی سڑک پر چہل قدمی کریں تو آپ کو کبھی بھی اندازہ نہیں ہو گا کہ اس شہر پر ممکنہ طور پر امریکہ حملہ آور ہونے والا ہے۔
یہ بہت ہی انوکھی بات ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے معمولات میں مصروف ہیں اور مرکزی دمشق کے ایک رہائشی امل نے کہا کہ ’ہم جنگ کے عادی ہو چکے ہیں‘۔
امل نے کہا کہ ’دکانیں کھلی ہیں، لوگ ادھر اُدھر گھوم رہے ہیں اور آئس کریم کھا رہے ہیں مگر زیادہ خوراک اور روٹی خرید رہے ہیں زخیرہ کرنے کے لیے‘۔
’ہم اب موت سے خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں اب بس اس (تشدد) کا خاتمہ چاہتے ہیں‘۔
مگر اس معمول کی زندگی کے پیچھے بہت سے خدشات ہیں۔
دمشق کے ایک دکاندار نے کہا کہ ’شامی صدر بشار الاسد اس ملک کو مزید تشدد سے بچا سکتے ہیں چھوڑ کر مگر وہ نہیں جائیں گے اور اسے پورا جلا کر چھوڑیں گے‘۔

صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت کے آغاز کے اڑھائی سال بعد اب بہت سے شامی ہیں جو اس تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے نتیجے میں ممکنہ فوجی کارروائی کی اطلاعات پر حزبِ اختلاف کے بہت سے حامیوں کی شام کے حلیف روس سے توقع تھی کہ وہ بشارلاسد کو اقتدار سے علیحدہ ہونے پر رضامند کر سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا یہ بھی خیال تھا کہ روس پرامن سیاسی حل کے لیے شام کو مجبور کر سکے گا مگر اب یہ سب ایک خواب کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
دمشق کے مضافات میں جہاں اکیس اگست کا مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ ہوا تھا لوگ اپنی تکالیف کے مداوے کے لیے بہت بے چین ہیں۔
محمد کی بیوی اور دو بیٹیاں اس حملے میں ہلاک ہوئیں ان کے لیے امریکی مداخلت صدر بشار الاسد کو روکنے کا واحد زریعہ ہو گا کہ وہ مزید ایسی تشدد کی کارروائیاں نہ کر سکیں۔
محمد نے غصے سے کہا کہ ’اس بار انہوں نے ہزار افراد کو قتل کیا اگلی بار وہ پانچ ہزار کو ماریں گے انہیں کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کر کے۔ وہ تب تک نہیں رکیں گے جب تک انہیں فوجی طاقت کے زریعے روکا نہیں جائے گا۔‘
’ہم نے پرامن احتجاج کیا، ہم نے آزادی اور عزت کا مطالبہ کیا اور ہمیں کیا ملا؟ ہلاکتیں اور اب کیمیائی ہتھیار؟‘
یہ نقطۂ نظر ایسے تمام علاقوں میں نظر آیا جہاں انسانی جانوں کا ضیاع تشدد کے واقعات کے نتیجے میں ہو چکا تھا۔
بہت سے سیاسی کارکن جو سیاسی حل کے حق میں ہیں فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتے۔
خالد خلیفہ جو دمشق میں رہائش پذیر ایک ناول نگار ہیں نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا ’آمر حملہ آوروں کا باعث بنتے ہیں اور حملہ آور کبھی بھی آزادی نہیں لاتے‘۔
خالد مُلک میں پیدا شدہ حالات کا الزام شامی حکومت کو دیتے ہیں اور اس کی کچھ الزام ’ایسے سیاستدانوں اور انقلاب کے بیوپاریوں کو دیتے ہیں جنہوں نے ان کا خون قطر اور سعودی عرب کو فروخت کیا‘۔
صدر بشار الاسد کے وفادار مختلف نقطۂ نظر رکھتے ہیں وہ مداخلت کو حملہ آوروں کی جانب سے ایک جارحیت کا اقدام تصور کرتے ہیں۔
ندا دمشق کے ایک ایسے علاقے میں رہتی ہیں جہاں صدر بشارالاسد کے حامیوں کی اکثریت ہے اور جو علاوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ یہ ان کے ملک کے خلاف ایک سازش ہے ’وہ ہمارے ملک پر بمباری اس لیے کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارے صدر اسرائیل کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ کیمیائی ہتھیاروں کاجھوٹ بول کر ہماری ریاست کو کمزور کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ انہوں نے عراق کے ساتھ WMD یعنی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے جھوٹ کے ساتھ کیا۔‘
صدر بشار کے بعض وفادار کہتے ہیں کہ غوطہ کے علاقے میں کیا گیا حملہ باغیوں کے قبضے میں موجود اس علاقے سے ’دہشت گردوں کا صفایا کرنے‘ کے ضروری تھا۔ یہ افراد کسی کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا انکار کرتے ہیں۔

شامی عوام میں ممکنہ حملے کے بعد کے بارے میں بھی شدید خدشات ہیں۔
حزبِ اختلاف میں کچھ خوفزدہ ہیں کہ امریکی کارروائی بہت زیادہ طاقتور نہیں ہو گی اور شامی حکومت مزید طاقت پکڑ کر بدلہ لے گی اور تشدد میں اضافہ ہو گا جس سے تباہی بڑھے گی۔
دوسری جانب حکومت کے وفاداروں کو خوف ہے کہ اگر حکومت گر جاتی ہے تو اس کے بعد ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع ہو جائیں گیں۔
حزبِ اخلتاف سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن جو فوجی مداخلت کے مخالف ہیں کا کہنا ہے کہ ’اگر امریکہ شام پر حملہ کر دیتا ہے تو ہمیں ایک سیاسی عمل کی ضرورت ہے جو اس حملے کے فوری بعد کام شروع کر دے‘۔







