چین میں سرکاری عمارتوں کی تعمیر پر پابندی

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں آئندہ پانچ سال کے لیے سرکاری عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
عمارتوں پر پابندی کا فیصلہ صدر شی جن پینگ کی بدعنوانی کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔
چین میں خاص طور پر غریب علاقوں میں مہنگی سرکاری عمارتوں کی تعمیر عوام میں اشتعال کا سبب بنتی ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق نئے احکامات کے تحت بیش قیمت نئی عمارتوں اور مرمت کے نام پر عمارتوں میں توسیع پر پابندی ہو گی۔
پابندی کے حوالے سے جاری ہونے والی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چند مقامی محکموں اور حکام نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑے سرکاری دفاتر تعمیر کیے اور اس کی وجہ سے ملک میں حمکران جماعت کیمونسٹ پارٹی کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
زنہوا نیوز کے مطابق پابندی تمام شعبوں میں لگائی گئی ہے جس میں تربیتی مراکز اور سرکاری ہوٹلز پر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ حکومتی ادارے منصوبوں کی تعمیر کے لیے عطیات اور امداد وصول نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی نجی شعبے کی شراکت سے کوئی عمارت تعمیر کریں گے۔
’نئی حکومتی املاک کی تعمیر پر پابندی کا مقصد ایک شفاف حکومت کی تشکیل اور کیمونسٹ پارٹی کے لوگوں سے تعلقات بہتر کرنا، حکومت اور کیمونسٹ پارٹی کی ساکھ کو قائم رکھنا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین میں حالیہ سالوں میں صوبہ اینہوئی کے شہر فیونگ میں مغربی طرز پر تعمیر کردہ سرکاری عمارتوں پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔
فیونگ میں تقریباً پچاس لاکھ ڈالر مالیت سے وائٹ ہاؤس سے مشابہت رکھنے والی سرکاری عمارت تعمیر کی گئی۔
اس کے علاوہ ادویات تیار کرنے والی ایک سرکاری کمپنی کی عمارت پر عوام نے غصے کا اظہار کیا۔اس عمارت کی منظرعام پر آنے والی تصویروں سے یہ فرانس کا محل معلوم ہوتی ہے جس میں سونے کے رنگ کی دیواریں اور فانوس موجود ہیں۔
اس کے علاوہ ساحلی علاقوں میں مہنگی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جہاں سرکاری اہلکار مفت یا نہایت معمولی کرایے پر قیام کرتے ہیں۔







