اوکلاہوما: طوفان سے ہلاکتیں 12 ہو گئیں

امریکہ کے وسط مغربی علاقے میں سمندری طوفان کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں گھروں میں بجلی کا نظام منقطع ہے۔
امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ 9 افراد اوکلاہوما اور اس کے مضافات میں ہلاک ہوئے جبکہ 3 افراد میسوری میں اس حادثے کا شکار ہوئے۔
اس طوفان میں سینکڑوں افراد سمندری طوفان سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے زخمی ہوئے۔
اوکلاہوما میں شدید بارش کے نتیجے میں بہت سے علاقوں میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ دو ہفتے قبل طوفانِ بادوباراں نے اوکلاہوما سٹی کے مضافاتی علاقے مور کو نشانہ بنایا تھا جس میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکہ میں طوفان کی پیشین گوئی کرنے والے ادارے قومی موسمیات سروس نے خبردار کیا ہے کہ اتوار کو یہ موسم مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس سے ورجینیا اور دوسری ریاستوں کے علاقوں کو خطرہ لاحق ہے۔

اوکلاہوما کارپوریشن کمیشن نے کہا ہے کہ ریاست میں 91 ہزار گھروں اور دفاتر میں بجلی منقطع ہے اور بجلی کی بحالی کے لیے لائنوں کو درست کیا جا رہا ہے۔
اوکلاہوما میں خالی کرائے جانے والے علاقوں میں سے ایک ٹریلر پارک کا علاقہ بھی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اوکلاہوما کی گورنر میری فالن نے کہا ’ہمیں اس صورت حال سے کسی طور باہر آنا ہی ہے‘۔
سمندری طوفان نے جمعہ کی شام ریاست کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا اور بہت سے افراد اپنی کاروں میں پھنس گئے جبکہ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
جمعہ کو شدید بارش سے بہت سی گلیوں میں چار فُٹ سے زیادہ پانی جمع ہو گیا۔
جن لوگوں نے طوفان سے بچنے کے لیے سڑکوں کا سہارا لیا ان میں 30 سالہ برانڈی وینالفن بھی تھیں۔
انھوں نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ خوفزدہ کیا وہ میرا ٹریفک میں پھنس جانا اور سائرن کا بند ہوجانا تھا‘۔
انھوں نے کہا ’ہم نے شمال کی جانب روشنی کی چمک دیکھی اور میں نے پوری قوت سے گاڑی چلانی شروع کر دی، جبکہ دوسرے افراد نے خوف کے عالم میں اپنی گاڑیاں گھاس پر چلانی شروع کر دیں‘۔
اوکلاہوما سٹی کے میئر میک کورنیٹ نے سنیچر کو کہا تھا کہ مجھے اس بات کی خبر نہیں کہ زیادہ تر افراد نے سڑکوں کا رخ کیوں کیا۔ یہ ہماری توقعات سے زیادہ تھا۔ اس طوفان میں ہر فرد مختلف طور پر متاثر ہوا اور اس کے نتیجے میں انتہائی خطرناک صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔
اوکلاہوما امریکہ کا مغربی وسط کا حصہ ہے جسے ’ٹورنیڈ ویلی‘ یعنی طوفانی کی گلی کہا جاتا ہے۔ یہاں ہر سال 1200 سمندری طوفان آتے جن میں سے زیادہ تر چھوٹے ہوتے ہیں۔







