شمالی کوریا: چینی ماہی گیر رہا کر دیے گئے

فروری میں شمالی کوریا نے ایٹمی تجربہ کیا تھا جس کے بعد سے اس کے چین کے ساتھ تعلقات سردمہری کا شکار ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشنفروری میں شمالی کوریا نے ایٹمی تجربہ کیا تھا جس کے بعد سے اس کے چین کے ساتھ تعلقات سردمہری کا شکار ہو گئے تھے

شمالی کوریا میں دو ہفتے تک قید میں رہنے کے بعد چینی ماہی گیروں کو کشتی سمیت رہا کر دیا ہے۔

16 افراد پر مشتمل عملے کو نامعلوم شمالی کوریائی باشندوں نے پانچ مئی کو بحیرۂ زرد میں حراست میں لے لیا تھا۔

چین نے پیر کے روز کہا کہ وہ دس مئی سے شمالی کوریا کے ساتھ ان کی رہائی کے بارے میں مذاکرات کر رہا ہے۔

چینی خبررساں ادارے شن ہوا نے خبر دی ہے کہ ’سب خیریت سے ہیں اور وطن واپس آ رہے ہیں۔‘ کشتی کے مالک یو شوئجن نے روئٹرز کو بتایا کہ ان کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا۔

انھوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ شمالی کوریا نے ان کی رہائی کے لیے چھ لاکھ یوان (ایک لاکھ ڈالر) کا مطالبہ کیا ہے، اور انھیں یہ رقم ادا کرنے کے لیے آٹھ فون کالیں موصول ہوئی ہیں۔

انھوں نے روئٹرز کو بتایا کہ قیدیوں کو ’غیر مشروط طور پر بغیر کوئی پیسہ لیے‘ چھوڑا گیا ہے۔

گذشتہ سال اسی قسم کے ایک واقعے میں 29 چینی ماہی گیروں اور کشتیوں کو نامعلوم شمالی کوریائی باشندوں نے پکڑ لیا تھا۔

انھیں بھی دو ہفتے بعد رہا کر دیا گیا تھا، البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی رہائی کے لیے تاوان ادا کیا گیا تھا اور آیا اغوا کاروں کا تعلق شمالی کوریا سے تھا یا وہ خودمختار قزاق تھے۔

چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور قریب ترین اتحادی ہے۔ تاہم 12 فروری کو شمالی کوریا کی طرف سے تیسرا ایٹمی تجربہ کرنے کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات سردمہری کا شکار ہیں۔

چین نے اس زیرِ زمین تجربے کے بعد شمالی کوریا پر پابندیوں میں اضافہ کر دیا تھا، اور اس کے بعض بینکوں نے شمالی کوریا کے کلیدی زرِمبادلہ کے بینک سے لین دین ختم کر دیا تھا۔

ایٹمی تجربے کے بعد سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی عروج پر ہے۔ حال ہی میں شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے چھ کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے تھے، جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ فوجی مشقوں کا حصہ ہیں۔