
مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ایک ٹربیونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سزائے موت دینے کے بعد ہنگاموں کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعرات کو ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جرائم میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔
اس فیصلے کے بعد جمعرات کو پرتشدد واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پینتیس ہو گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شمالی ضلع گائیبندھا میں پولیس حکام کے مطابق جمعہ کو حکمران جماعت عوامی لیگ اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں ایک اور شخص ہلاک ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ متعدد دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
نمازِ جمعہ کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔
دلاور حسین سیدی جماعت اسلامی کے سب سے سینیئر رہنما ہیں جنہیں ٹربیونل کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہے۔
دلاور حسین کو جون سنہ دو ہزار دس میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران قتل عام، ریپ اور دیگر الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

دلاور حسین سیدی نے اپنے اوپر عائد انیس الزامات کو مسترد کیا ہے
ناقدین کا کہنا ہے کہ دلاور حسین سیدی اور دیگر رہنماؤں پر سیاسی بنیادوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بدھ کو دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں افراد نے جماعت اسلامی کے رہنما کو سزائے موت دینے کے حق میں مظاہرہ کیا گیا تھا۔
جنگی جرائم کے الزام کے تحت جن افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں سے آٹھ کا تعلق جماعت اسلامی جبکہ دو کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے ہے۔ اب تک تین رہنماؤں کے خلاف فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔
دلاور حسین سیدی پر الزام ہے کہ وہ جنگ آزادی کے دوران البدرگروپ کے ساتھ کام کر رہے تھے اور انہوں نے ہندو برادری کے افراد کو زبردستی مسلمان کرنے سمیت متعدد مظالم کیے۔
اس ٹربیونل نے پہلا فیصلہ اکیس جنوری کو سنایا تھا اور اس کے بعد سے لے کر اب تک تقریباً سینتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سے پہلے رواں ماہ بنگلہ دیشی پارلیمان نے آئین میں ایک ایسی ترمیم منظور کی تھی جس کے تحت جماعت اسلامی پر سنہ 1971 کی جنگ آزادی کی مخالفت کرنے اور انسانیت کےخلاف جرائم کا ارتکاب کےجرم میں پابندی عائد کی جا سکے گی۔
اس ترمیم کے تحت جماعت اسلامی کے ایک رہنما عبد القادر ملا کو دی جانے والی عمر قید کی سزا کو موت سزا میں تبدیل کرانے کے لیے حکومت اپیل دائر کر سکے گی۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے سنہ 1971 کی جنگ آزادی میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اس حزب مخالف کا حصہ ہے جو وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا سخت مخالف سمجھا جاتا ہے۔
حکام کا اندازہ ہے کہ 1971 کی جنگ کے دوران تیس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔






























