
امریکہ کے وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ افغانستان اور امریکہ افغانستان کو محفوظ اور خودمختار بنانے کی کوششوں کے ’آخری باب‘ میں پہنچ گئے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع کی جانب سے یہ بیان افغان صدر حامد کرزئی سے پینٹاگون میں بات چیت کے موقع پر دیا گیا۔
افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ ان کے تین روزہ دورے کے دوران دونوں ممالک باہمی سکیورٹی کے طریقۂ کار پر کام کر سکیں گے۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ’ ایک طویل مشکل ماضی کے بعد بلآخر میرا یقین ہے کہ ایک ایسے خودمختار افغانستان کی تشکیل کے آخری باب میں ہیں جو مستقبل میں خود حکمرانی کر سکتا ہے اور خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے‘۔
وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے مزید کہا ہے کہ’ ہم ایک ایسی قوم کی تشکیل کے مشترکہ ہدف کے لیے ایک طویل سفر طے کیا ہے جس پر ہمیں فخر ہو اور وہ دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے‘۔
وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے افغان صدر کے دورہ امریکہ پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایک ساتھ لڑنے کے بعد دونوں ممالک کا ’ایک ایسا بندھن بنا ہے جو مستقبل میں کبھی نہیں ٹوٹے گا‘۔
امریکہ میں اپنے قیام کے دوران وہ جمعہ کوامریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے جو امریکی صدر کی دوسری مدت میں اُن سے پہلی ملاقات ہو گی۔
امید کی جا رہی ہے کہ صدر کرزئی کے اس دورے کے دوران امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں اہم فیصلے کے جائیں گے۔
اس سے پہلے امریکی انتظامیہ نے افغان صدر حامد کرزئی کے دورے کے موقع پر پہلی بار کہا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ سال دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں اس کے فوجی موجود نہ رہیں۔
مبصرین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں حالیہ تناؤ کی وجہ سے اس دورے کو بہت اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔
صدر کرزئی امریکی افواج کا افغان شہروں اور قصبوں سے انخلا چاہتے ہیں۔
اس بات کا امکان ہے کہ امریکی صدر افغانستان میں رہ جانے والی افواج کے بارے میں بات کریں گے اور یہ کہ کی وہ طالبان کے ساتھ لڑیں گی یا اپنی توجہ القاعدہ سے لڑنے پر مرکوز کریں گی۔
دوسری جانب صدر کرزئی افغان فوج کی مستقبل کی ضروریات جیسا کہ بھاری فوجی سازوسامان، جدید فضائیہ اور طبی امداد کے بارے میں امداد کی درخواست کریں گے۔






























