
جان برینن گذشتہ پچیس سال سے سی آئی اے میں کام کرتے ہیں
وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی صدر نے سی آئی اے کے سربراہ کے عہدے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے لیے اپنے مشیر جان برینن کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جان برینن گذشتہ پچیس سال سے سی آئی اے سے وابستہ ہیں اور اس وقت صدر کے انسدادِ دہشت گردی کے لیے اہم ترین مشیر ہیں۔
سنہ دو ہزار آٹھ میں بھی ان کا نام اسی عہدے کے لیے زیرِ غور آیا تھا تاہم صدر بش کے دور میں سی آئی اے کے تفتیشی طریقوں اور اس سلسلے میں جان برینن کے کردار کے پیشِ نظر ان کی نامزدگی نہیں کی گئی تھی۔
نامزدگی کے بعد جان برینن کی تقرری کو امریکی سینیٹ کو منظور کرنا ہوگا۔
ستاون سالہ جان برینن سعودی عرب میں سی آئی اے کے سٹیشن سربراہ کے علاوہ صدر بش کے دور میں ادارے کے نائب ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔
وہ صدر اوباما کے قریبی ساتھی ہیں۔ اسامہ بن لادن کے خلاف مئی دو ہزار گیارہ کو ہونے والی کارروائی میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ اس کے علاوہ اوباما انتظامیہ کی یمن، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیگر انسدادِ دہشتگردی کی مہمات میں بھی وہ پیش پیش رہے ہیں۔
سنہ دو ہزار آٹھ میں سی آئی اے کے تفتیشی رویوں پر تنقید کی وجہ سے جان برینن کو سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ نہیں دیا گیا تھا تاہم صدر اوباما کی انتظامیہ اس بار امید کر رہی ہے کہ گذشتہ چار سالوں میں ان کے مثبت کردار اور انہی رویوں کی مخالفت کے بعد اس تقرری میں مشکلات نہیں ہوں گی۔
اس سے قبل سی آئی اے کے سابق سربراہ ڈیوڈ پیٹریئس غیر ازدواجی تعلقات کی بنا پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ وزیرِ دفاع کے لیے چک ہیگل کی نامزدگی بھی متوقع ہے۔
وزیرِ خارجہ کے لیے نامزد سینیٹر جان کیری سمیت یہ تینوں افراد صدر اوباما کے دوسرے دورِ صدارت میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے انتہائی اہم کردار ادا کریں گے۔
چک ہیگل کی تقرری کو سینیٹ سے منظور کروانے میں وائٹ ہاؤس کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ریپبلکن پارٹی نے ماضی میں چک ہیگل پر اسرائیل مخالف ہونے اور ایران کے جوہری پرواگرام کے معاملے پر نرم تر رویے کے الزامات لگائے ہیں۔






























