
اٹلی کے صدر جارجیو نیپولیٹانو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے پارلیمان کو تحلیل کر نے کے حکم نامہ پر دستخط کر دیے ہیں۔
اٹلی کے صدر جارجیو نیپولیٹانو نے وزیر اعظم ماریو مونٹی کے استعفے کے بعد پارلیمان کو تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔
انتخابات اب دو ہزار تیرہ میں چوبیس اور پچیس فروری کو منعقد ہوں گے۔
ماریو مونٹی جو کہ ایک ٹیکنو کریٹ ہیں اتوار کو کسی وقت اعلان کریں گے کہ وہ آنے والے انتخابات میں حصہ لیں گے یا نہیں۔
انتخابات کے انعقاد تک کے لیے قائم عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ماریو مونٹی کام جاری رکھیں گے۔
سابق وزیر اعظم سیلویو برلسکونی کی سیاسی پارٹی ڈی ایل پی نے ماریو مونٹی کی ٹیکنو کریٹ حکومت کی حمایت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ماریو مونٹی کے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
صدر جارجیو نیپولیٹانو نے مختلف سیاستدانوں سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کے حکم نامے پر دستحط کر دیے ہیں۔‘

انتخابات کے انعقاد تک کے لیے قائم عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ماریو مونٹی کام کریں گے۔
ان کے اس حکم نامے کے فوری بعد کابینہ نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا۔
اگرچہ ماریو مونٹی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ وہ تاحیات سینیٹر کے طور پر پہلے ہی سے منتخب ہوئے ہیں مگر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ متوسط سوچ رکھنے والی مختلف جماعتوں کی مخلوط حکومت کے سربراہ بن کر وزیر بن سکتے ہیں۔
ماریو مونٹی کو اس وقت وزیر اعظم بنایا گیا تھا جب اقتصادی بحران کی وجہ سے سابق وزیر اعظم سیلویو برلسکونی کی حکومت کو مستعفی ہونا پڑا۔
ماریو مونٹی نے کئی مشکل فیصلوں کے زریعے حکومتی سطح پر کفایت شعاری کی مہم کا آغاز کیا اور حال ہی میں اسی نظریے پر مشتمل ایک بجٹ بھی پیش کیا۔
انہوں نے غیر ملکی سفارت کاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے اٹلی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔






























