
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوزن رائس نے وزیر خارجہ کے عہدے کی دوڑ سے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔
این بی سی نیوز کے مطابق سوزن رائس نے صدر براک اوباما کو خط میں کہا ہے کہ وہ اپنا نام اس لیے واپس لے رہی ہیں کیونکہ ان کی تعیناتی کا عمل نہایت ’خلل انگیز اور مہنگا‘ پڑے گا۔
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن عندیہ دے چکی ہیں کہ وہ وزیر خارجہ کے عہدے سے مستعفی ہو رہی ہیں۔
امریکی ری پبلکن جماعت اوباما انتظامیہ پر لیبیا کے شہر بن غازی پر ہونے والے حملے پر تنقید کر رہی ہے جس میں لیبیا میں امریکی سفیر سمیت چار سفارتکار ہلاک ہو گئے تھے۔
سوزن رائس نے صدر اوباما کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ نہایت ممنون ہیں کہ ان کا نام وزیر خارجہ کے عہدے کے لیے تجویز کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کو پورا یقین ہے کہ اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد وہ ملک کی بہتر طور پر خدمت کرسکتی ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس عہدے کے لیے اپنا نام واپس لینے کی بڑی وجہ ری پبلکن جماعت کی مخالفت ہے۔
’مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میری تعیناتی کا عمل اختلال انگیز ہو گا اور یہ عمل نہ صرف انتظامیہ کے لیے مہنگا پڑے گا بلکہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی بھی زینت بنے گا۔‘
انہوں نے خط میں لکھا ہے ’ایسا ہمارے ملک کے لیے اچھا نہیں ہے اور وزیر خارجہ کے منصب کو کبھی بھی سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔‘
امریکی صدر براک اوباما نے سوزن رائس کے خط کے جواب میں بیان میں کہا ہے ’مجھے سوزن رائس پر حالیہ ہفتوں میں غیر منصافانہ تنقید پر افسوس ہوا ہے۔
جنوبی کیرولائنا سے سینیٹر لنڈسی گراہم نے کئی بار سوزن رائس کے خلاف بیانات دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ رائس کے فیصلے کا احترام کرتی ہیں۔ ’صدر اوباما کے پاس کئی قابل لوگ ہیں جن میں سے وہ اگلا وزیر خارجہ منتخب کرسکتے ہیں۔‘
ہمارے نامہ نگار کے مطابق سوزن رائس کا اس عہدے کی دوڑ سے نکل جانے کے بعد سینیٹر جان کیری کو یہ عہدہ ملنے کے امکانات زیادہ ہو گئے ہیں۔
جان کیری نے ایک بیان میں کہا ہے ’میں نے ماضی میں سوزن کا دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنے سے نہیں ہچکچاؤں گا۔‘
سوزن رائس کے لیے مشکلات کا اس وقت آغاز ہوا جب گیارہ ستمبر کو بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ ہوا تھا۔ اس حملے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ یہ حملہ متنازع فلم کے خلاف مظاہرے کا نتیجہ تھا۔
تاہم بعد میں انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق یہ حملہ القاعدہ کے ساتھیوں نے کیا تھا۔






























